52

کرونا۔۔۔حکومت اور عوام کی ذمہ داریاں …………نغمہ حبیب

2019کے اواخر میں چین میں کورونا وائرس رپورٹ ہوا۔ ووہان میں پھیلنے والی یہ بیماری ہفتوں میں ہی دنیا کے دیگر ملکوں میں بھی ظاہر ہونے لگی اور یہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں تھی کیونکہ آج کل کے گلوبل ولیج میں تیز ترین ذرائع آمد و رفت اور باہمی رابطوں کی وجہ سے کسی وبائی بیماری کا پھیل جانا بالکل عام سی اور سمجھ میں آنے والی بات ہے لہٰذا یہی ہوااور سفری رابطوں کے ساتھ یہ وائرس پھیل کر ایک عالمی وباء کی صورت اختیار کر گیااور اب تک رپورٹس کے مطابق دنیا بھر میں تیس لاکھ سے زیادہ افراد اس سے ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ اس سے متاثرہ افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے جس میں روز بروز اضافہ ہورہاہے۔ اس وقت کرونا کی تیسری لہر اپنے زوروں پر ہے اور ہمارے پڑوس میں بھارت اس سے بُری طرح متاثرہو رہاہے۔روزانہ لاکھوں کی تعداد میں نئے کیسز سامنے آرہے ہیں جبکہ ہزاروں کی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں جو یقینا ہمارے لئے بھی باعث تشویش ہونا چاہئیے اور ایسا ہے بھی کیونکہ پاکستان میں بھی حالات کچھ اچھے نہیں ہیں بلکہ یہ تیسری لہر پہلی اور دوسری لہر سے زیادہ خطر ناک ثابت ہورہی ہے اور نئے کیسز کا تناسب بھی روز بروز بڑھ رہاہے اور اموات کی تعداد بھی۔ ملک اسوقت ایمر جنسی صورت حال کے نزدیک پہنچ چکاہے۔رپورٹس کے مطابق نوے فیصد تک آکسیجن اس وقت استعمال میں آرہی ہے۔ مختلف شہروں میں ستّر فیصد سے زیادہ وینٹیلیٹر کورونا مریضوں کے زیر استعمال ہیں یعنی حالات سنجیدہ ہیں اور یہ ڈر ہے کہ کسی بھی وقت قابو سے باہر نکل سکتے ہیں۔ ایک دن میں رپورٹ شدہ اموات کی تعداد دو سو سے اوپر بھی ریکارڈ ہوچکی ہے۔ ڈیڑھ سو کا ہندسہ تو روز کا معمول ہے یعنی حالات بہتری سے نکل کر بدتری کی طرف جا رہے ہیں لیکن دوسری طرف ہمارارویہ بالکل غیر ذمہ دارانہ ہے ہم نہ انفرادی طور پر نہ اجتماعی طور پرسنجیدہ ہورہے ہیں۔ ہماری حکومت بھی اگر ایک طرف کچھ اقدامات اٹھارہی ہے تو دوسری طرف کچھ ایسے اعلانات بھی کر رہی ہے جو نہیں ہونے چاہیئں مثلاً این سی او کے چیئرمین اسد عمر نے عوام کو مشورہ دیتے ہوہے کہا کہ وہ دو سے چھ بجے تک عید کی خریداری کریں یعنی چار گھنٹوں کے لئے بازارکھچا کھچ بھر جائیں اور سماجی فاصلے کے اصول کا بیڑا غرق کردیا جائے۔ انہیں اس کی بجائے یہ ہدایات جاری کرنی چاہیئے تھی کہ عید پر اپنے پاس موجود بہترین جوڑا پہن کر عید کر لیں کیونکہ زندگی زیادہ اہم ہے زندگی رہی تو اور عیدیں بھی آجائیں گی۔ اس طرح بچوں کے امتحانات کا مسئلہ تھا،او لیول اور اے لیول کے امتحانات ملتوی نہ کرنے کا اقدام بھی اٹھایا گیاجسے انتہائی دباؤ کے بعد ملتوی کیا گیا۔بحیثیت استاد میں خود بھی اس حق میں نہیں ہوں کہ طلباء کو بغیر امتحان کے پاس کیا جائے لیکن موجودہ حالات میں صحت اور زندگی زیادہ اہم اور ضروری ہے اور جب کہ دیگر ممالک نے بھی انہیں کینسل کیا تو پھر زندگی کی قیمت پر امتحانات کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ اس وقت ناپسندیدہ اور سخت فیصلے بھی کرنا پڑیں تو کر لینے چاہیئں تاکہ ہر ممکنہ حد تک حالات کو قابو میں رکھا جاسکے ورنہ اس وقت بھارت کی مثال ہمارے سامنے ہے جہاں مسئلے کو سنجیدہ نہیں لیا گیامیلے اور تہوار سب کچھ منائے گئے اور اب روزانہ ہزاروں کی تعداد میں اموات ہو رہی ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں کورونا کیسز سامنے آرہے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی جس طرح عوام میں شعور بیدار کرنے کی مہم پہلی لہر کے دوران چلائی گئی وہ چیز نظر نہیں آرہی اور شاید اسی لیے لوگ بھی محتاط نہیں۔ کسی کام سے بازار چلے جائیں تو اپنے علاوہ چند ایک لوگ ہی ماسک پہنے نظر آئیں گے اور کسی ہنگامی حالت کا احساس نہیں ہوتا۔ حکومت نے آخری اقدام کے طور پر فوج سے مدد لینے کا فیصلہ کیا ہے جس سے شاید کچھ فرق تو پڑے لیکن مسئلہ حل نہیں ہوگا لہٰذا بہت زیادہ شرح والے علاقوں میں لاک ڈاؤن کر لیاجائے تو بھی کوئی حرج نہیں چاہے وقفے وقفے سے ہو۔ ویکسین کے لیے بھی باقاعدہ مہم چلائی جائے اور اس کی درآمد کو پہلی ترجیح قرار دیا جائے۔ ہمیں موجودہ صورتحال کی سنگینی کا احساس کرنا اور کروانا چاہیئے ورنہ حالات کو خرابی کی طرف جانے سے کوئی نہیں روک سکتا اور اس خرابی کی ذمہ داری ہم سب پر ہوگی حکومت نے بھی فوج بلا کر سمجھ لیا ہے کہ اس نے اپنی ذمہ داری پوری کرلی ہے اور عوام تو ذاتی کاموں کے لیے بھی حکومت کو ذمہ دار ٹھہرانے کے عادی ہیں لیکن یہ معاملہ انسانی زندگیوں کا ہے اور اسی لیے بہت حساس ہے لہٰذا ہر ایک کو کورونا سے بچاؤ کو صرف اپنی ذمہ داری سمجھنا ہوگا تب ہی شاید ہم نقصان کو کم کر سکتے ہیں

Print Friendly, PDF & Email