84

“فاعتبرو یا اولی الابصار….محمد کوثر ایڈوکیٹ

“فاعتبرو یا اولی الابصار

فردوس صاحبہ اور اےسی صاحبہ کے درمیان جو ھوا سو ھوا لیکن مجھے ایک اور بات پہ ھنسی آرھی ھے وہ یہ کہ چند سال پیشتر جب میں سول افسران کو بابو کہہ کر لتاڑتا تھا تو قوم یوط یک زبان ھوکے یوں جواب دیتے تھے۔
یہ اعلی تعلیم یافتہ ذھین اور اپنے محنت کے بل بوتے پہ آئے ھیں یہ نوازشریف کے ملازم نہیں ھیں۔
یہ کہ پٹواری ریاستی مشنری کو اپنےگھر کی لونڈی سمجھ رھے ھیں۔
ایک مرتبہ عدالت اور عدالتی نظام کےاندر خرابیون پر لکھ کر جج اور عوامی نمایندےکی حیثیت پر بحث کی تومجھے اندھا پٹواری نوازشریف کا زرخرید اور پتہ نہیں کیا کچھ کہا گیا۔
جب میں ایک اعلی سرکاری افسر کو بلحاظ عہدہ و مرتبہ منتخب نمایندوں کےساتھ موازنہ کیا تو جو حشر قوم یوط نے میرا کیا تھا کہ الامان الحیظ۔۔
اللہ کی قدرت ملاحظہ فرمائیے آج یہی قوم یوط میرے ھی الفاظ کو لفظ بہ لفظ ا بحق فردوس صاحبہ و برخلاف “اعلی تعلیم یافتہ” صاحبہ دھرارھی ھے۔۔۔ “موخو گیک”اسے کہتے ھیں۔
حالانکہ میرا موقف یہ تھا بلکہ اب بھی ھے کہ سرکاری ملازم بہرحال عوامی نمایندوں کا ماتحت ھوتاھے اور عوامی نمایندوں کی قانونی اور آئینی فیصلوں یا حکم یا جونسا طریقے سرکاری ملازم کو عوامی نمایندہ کہے سرکاری ملازم اس حکم کا پابند ھوتاھے اگر اسکے برعکس سرکاری م افسر یا ملازم یا کوئی بھی محکمہ حاکم بننے کی کوشش کرے تو اس بابو اور محکمے کےکردار پر سوال اٹھانا واجب ھے۔دلچسپ امر یہ ھے کہ قوم یوط اس حد تک ذھنی بیمار قوم ھے جو میری تنقید کے اصلاحی و ازحد ضروری پہلو کو یکسر نظر انداز کرکے صرف فردوس صاحبہ کی “عفت” کےلیےجس طرح “میہہ بوتی”میدان میں ایس کود پڑے ھیں کہ گویا ارطرل سردار کاراچایسار قلعہ فتح کرنے جارھا ھو۔
بغض حسد اور نفرت فرد اور خاندان کو بھسم کرکے رکھ دیتی ھے اگر یہ مرض عام اور وہ بھی بذریعہ حکمران عام ھو تو سوچیے اس دھرتی کو راکھ کا ڈھیر نہ بنادے ?
خود ھی اندازہ لگائیے کہ ایسی بیمار ذھن سے ھم تبدیلی اور ترقی کی آس لگائے بیٹھے ھیں جسے اچھے اور برے کی تمیز ھی نہیں ھے۔
البتہ یہ ایک حقیقت ھے آج قوم یوط لفظ بہ لفظ جملہ بہ جملہ اپنا تھوکا چاٹ رھاھے۔تبھی تو قرآن بہتان تراشی جھوٹ نفرت اور بغض کرنےوالوں کو ناپسند کرتاھے۔

Print Friendly, PDF & Email