1,468

والدہ کو افسر بن جانے کا بتایا تو خوشی سے روپڑیں…..تحریر:اظہاراللہ

خیبر پختونخوا کے پسماندہ ضلع چترال سے تعلق رکھنے والی شازیہ اسحاق نے مقابلے کا امتحان پاس کرنے کے بعد پولیس سروسز آف پاکستان جوائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس سے ان کے پورے گاؤں میں خوشی کا سماں ہے۔

 ‘میں انٹرویو سے مطمئن تھی اور مجھے امید تھی  کہ پاس ہو جاؤں گی لیکن ڈر صرف اس بات کا تھا کہ ایسا نہ ہو کہ جس گروپ (پولیس سروس) کا انتخاب میں نے کیا ہے، اس کے میرٹ پر پورا نہ اتروں، لیکن نتیجہ آنے کے بعد خوشی کی انتہا نہیں تھی۔ سب سے پہلے جا کر امی کو خوش خبری سنائی تو ان کے خوشی سے آنسو نکل آئے۔’

یہ کہنا تھا خیبر پختونخوا کے پسماندہ ضلع چترال سے تعلق رکھنے والی شازیہ اسحاق کا، جنہوں نے مقابلے کا امتحان یعنی سینٹرل سپیریئر سروس (سی ایس ایس)  پاس کرنے کے بعد پولیس سروسز آف پاکستان جوائن کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

شازیہ  کے مطابق وہ چترال کی پہلی خاتون ہیں، جو پولیس سروسز یعنی پی ایس پی جوائن کریں گی، ان کی پہلی تعیناتی بحیثیت اسسٹنٹ سپرنٹنڈنٹ آف پولیس (اے ایس پی) کی جائے گی، جبکہ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ وہ ملاکنڈ ڈویژن کی پہلی خاتون ہیں، جو پولیس سروس میں بحیثیت پی ایس پی افسر بھرتی ہوں گی۔

انڈپینڈنٹ اردو  سے بذریعہ فون گفتگو میں شازیہ نے بتایا: ‘پورے گاؤں میں خوشی کا سماں ہے کیونکہ ہمارے پورے گاؤں میں خاتون تو کیا کوئی مرد بھی سی ایس پی افسر نہیں ہے۔ لوگ مبارک باد دینے کے لیے گھر آرہے ہیں۔’

شازیہ اسحاق کا تعلق چترال بالا کے ایک دور دراز گاؤں جنالی کوچ کے ایک متوسط گھرانے سے ہے۔ ان کے والد پاکستانی فوج سے بحیثیت صوبیدار ریٹائرڈ ہوئے ہیں جبکہ شازیہ بہن بھائیوں میں سب سے بڑی ہیں۔ ان کا  ایک بھائی تیسری اور ایک بارہویں  جماعت میں زیر تعلیم ہے جبکہ ان کی بہن سرکاری سکول میں استاد ہیں۔

شازیہ نے بتایا کہ انہوں نے پہلی سے ساتویں جماعت تک تعلیم گاؤں میں واقع پامیر پبلک سکول سے حاصل کی ہے اور آٹھویں سے بارہویں تک تعلیم آغا خان ہائر سیکنڈری سکول سے حاصل کی۔

ابتدائی  اور انٹر کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد شازیہ نے اسلامیہ کالج یونیورسٹی پشاور میں داخلہ لیا اور 2018 میں  پولیٹیکل سائنس میں بی ایس ڈگری حاصل کی۔

شازیہ اسحاق کا تعلق چترال بالا کے ایک دور دراز گاؤں جنالی کوچ کے ایک متوسط گھرانے سے ہے (تصاویر: شازیہ اسحاق)

پولیس سروس ہی کیوں؟

شازیہ نے بتایا کہ بی ایس کی ڈگری مکمل کرنے کے بعد انہوں نے ٹھان لیا تھا کہ وہ مقابلے کا امتحان دے کر پولیس سروس میں جائیں گی، کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ پولیس میں رہ کر وہ علاقے کی بہتر طریقے سے خدمت کر سکتی ہیں۔

انہوں نے بتایا: ‘میں خصوصاً اس مقصد کے لیے پولیس سروس میں جا رہی ہوں کہ چترال کی طرح پسماندہ اضلاع کی خواتین کے وہ مسائل، جو پولیس سروس سے جڑے ہیں، کو حل کرنے میں اپنا کردار ادا کر سکوں۔’

لوگ سمجھتے ہیں کہ پولیس سروس میں آنا خواتین کا کام نہیں ہے کیونکہ یہ کام صرف مرد ہی کر سکتے ہیں، یہی وجہ ہےکہ میں ان فرسودہ اور گھسے پٹے نظریات اور خیالات کو ختم کرنے کے لیے پولیس میں آئی ہوں اور دنیا کو دکھانا چاہتی ہوں کہ مرد و خواتین سب کچھ کر سکتے ہیں لیکن صرف ہمت کی ضرورت ہے۔’

شازیہ نے بتایا: ‘میرے پولیس سروس میں آنے سے پسماندہ اضلاع کی خواتین کو ایک حوصلہ ملے گا کہ اگر مجھ جیسی ایک متوسط گھرانے سے تعلق رکھنے والی، چترال کے ایک پسماندہ گاؤں میں رہنے والی پولیس سروس میں جا سکتی ہے، تو باقی خواتین کیوں نہیں جاسکتیں۔’

مقابلے کا امتحان دینا کتنا مشکل؟

بہت سے لوگ مقابلے کے امتحان کا نام سن کر ڈر جاتے ہیں، تاہم شازیہ سمجھتی ہیں کہ یہ امتحان اتنا بھی مشکل نہیں ہے جتنا لوگ سوچتے ہیں۔

انہوں نے بتایا: ‘میں نے امتحان کی تیاری 2019 میں پورا سال کی۔ امتحان کی تیاری کے لیے راولپنڈی میں رہتی تھی اور چار مہینے وہاں کوچنگ اکیڈمی جوائن کی تھی۔’

شازیہ کہتی ہیں کہ شہروں میں پڑھنے والے یا کسی پسماندہ ضلعے میں رہنے والے طلبہ کے تعلیمی معیار میں زمین و آسمان کا فرق ہوتا ہے لیکن پھر بھی وہ ایک ہی امتحان میں بیٹھ کر ایک ہی  پرچہ حل کرتے ہیں، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔

انہوں نے کہا: ‘شہر کے کسی ایلیٹ سکول میں تعلیم حاصل کرنے والا کس طرح  پسماندہ ضلع کے سرکاری سکول میں پڑھنے والے کا مقابلہ کر پائے گا ؟ میں سمجھتی ہوں کہ مقابلے کے امتحانات میں صوبے کے علاوہ پسماندہ اضلاع میں رہنے والے امیدواروں کو بھی تھوڑا ریلیف ملنا چاہیے۔’

Report by/www.independenturdu.com

Print Friendly, PDF & Email