114

سانحہ یارخون ، آخری واقعہ نہیں۔ تحریر (ایس شہاب الدین ثاقب)

تیس مئی کو آدھی رات کا وقت ہے چاروں طرف گھپ اندھیرا اور سنسان خاموشی، ویران اور کھنڈر سڑک سے جاتے ہوئے اوور لوڈ گاڑی، نیم پختہ پل سے ہوتے ہوئے آگے وادی یارخون کے اوناوچ گاون ، نیچے خونخوار دریائے یارخون ، اور گاڑی میں گیارہ مزدوری سے گھر جاتے بدقسمت مسافر، گاڑی کو حادثہ پیش آتا ہے ، اور دربند یارخون سے متصل جہانگیر ترین کی طرف سے دئے گئے روپے سے بنائے گئے پل میں نو انسانی جانوں کے غرق دریاکے علاؤہ مالی نقصان الگ سے سانحہ کی وجہ بنی۔
یہ سانحہ اپنی نوعیت کے لحاظ وادی یارخون میں سب سے بڑا، طویل دورانیے کا دل خراش واقعہ ہے جس سے پورے وادی میں شدید غم اور رنج کا عالم ہے،ہر آنکھ اشکبار ،ہر چہرہ غمزدہ،متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہمدردی اور انسانی جانوں کے ضیاع کے بعد لاشوں کے تلاش میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں ،آج 5 مئی تک چھ لاشیں بے رحم دریا سے مختلف مقامات میں نکال لئے گئے۔ مزید تین لاشیں دریا برد ہیں۔
یاد رکھیں، نہ یہ اکلوتا واقعہ ہے اور نہ آخری۔مگر اپنے پیچھے زندہ بشر کے لئے کئی سوالات اور زمہ داریاں نبھانے کے لیے چھوڑ دیا۔
ہم بحثیت مجموعی کسی بھی سانحے یا ناخوشگوار واقعے کے بعد ایکٹیو ہوتے ہیں ، درحقیقت پرو ایکٹو رہنا چاہئے بلکہ احتیاطی تدابیر اپنانے سے ایسے واقعات کی کوکھ سے کم انسانی خطرات جنم لیتے ہیں۔
کیا ایسے سانحے صرف ڈرائیور کے بے احتیاطی کی وجہ سے ہوتے ہیں؟ کیا اوور لوڈنگ کو مورد الزام ٹھہراتے ہوئے ہم بری الزمہ ہیں؟ کیا انتظامیہ کو غفلت کا مرتکب ٹھرا کر ہم رات کے وقت سفر کریں؟ کیا ایسے حالات و واقعات کے بعد ہمیں کچھ کرنے کو یا سوچنے کو اختیار نہیں، کیا اسے تقدیر کا لکھا ہوا دو لفظ بول کر لمبی کروٹ لیکر سو جائے؟ جس ہستی نے زندگی جیسی نعمت عطا کی ہے وہ ہر معاملے میں ہماری بھلائی کا بھی خواہان ہیں ، ہمیں ہر قدم پر اختیار حاصل ہے کہ احتیاط کریں۔
کیوں ہم نشے کی حالت میں یا تیز گاڑی چلاتے ڈرائیور سے پوچھ یا روکوا نہیں سکتے؟کیا غیر مستند ڈرائیور یا گاڑی کے کمزور طبعی حالات کو دیکھ کر ان کے ساتھ سفر احتراز نہ کریں؟ مشکل اور خطرناک جگہوں میں گاڑی سے کچھ وقت کے لئے نہیں اتر سکتے؟منزل میں پہنچ کر ڈرائیور پر لعن طعن کرنا عین عادت بن گیا ہے مگر ان تمام باتوں اور احتیاطی تدابیر کو ہم آہنگ کرکے نہ غور کرتے نہ سمجھ سکتے۔ بے احتیاطی ہماری خون میں شامل ہے۔
یارخون سانحے کے صبح ہی سوشل میڈیائی نوجوانان اوناچ کے متاثر شدہ پل کے طبعی خدوخال پر جو سوالات اٹھائے ہیں اس پر ازسرنو جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ کیا متاثر شدہ پل ہیوی اور اوپر لدے ساماں اٹھائے گاڑیوں کے قابل استعمال تھے یا ہے؟ پل کو بیلنس رکھنے کے لیے اوپر وونڈ روپ کیون نہیں ہے؟ اوور لوڈنگ گاڑیوں کو روکنے کے لئے پل کے اوپر جنگلے کیوں نہیں بنائے گئے؟ احتیاطی تدابیر کے لئے کیا اقدامات کئے گئے ہیں۔ یہ وہ سوالات اور وجوہات ہیں جن پر آج سب زبان دراز ہیں ۔ہم یارخون کے عوام کب تک ان بوسیدہ اور کھنڈر سڑکوں کی وجہ سے روز لاشیں اٹھائیں گے؟ عام عوام ان لاوارث اور عدم توجہی کا شکار سڑکوں اور پلوں کے لئے موجودہ حکومت سے بہت امیدیں لگائے بیٹھے ہیں۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان بھی 2017 اسی جگہ پر عوام سے صرف ایک درخواست سڑکوں کے حوالے سے سنے تھے۔
مگر کجا وزیر اعظم کجا پی ٹی آئی پر مرنے کو تیار ہم عوام۔
اب کی بار اگر سڑکوں کے حوالے سے کچھ نہ ہوا تو اگے اور کئی ایسے واقعات ہمارے بے احتیاطی، لا علمی اور حکومت کے عدم توجہ کی وجہ منتظر ہے۔
تمام تر مجبوریوں،محرمیوں،لامتناہی مشکلات اور لاتعداد چلینجیز کے باوجود یارخون کے عوام نے جس یکجہتی اور ہمدردی کیساتھ لاشوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں سمندر میں کود رہے ہیں عملی ہمدردی کا بہتریں ثبوت ہے مگر
سانحے کے بعد مزید حادثے کا سبب نہ بننے کے لئےاحتیاط تدابیر لازمی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email