77

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی۔۔۔ڈاکٹر شاکرہ نندنی

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی

پڑھ  سکتی مستقبل اپنا

بُن سکتی میٹھا سپنا

کب خوشی ملے گی

کب دل روئے گا

زندگی کا کھیل سمجھ پاتی

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی

پھاڑ سکتی میں ان لمحوں کو

جس نے مجھے رلایا

شامل کرتی وہ صفحے

جنہوں نے مجھے ہنسایا

کتنا کھویا، کتنا پایا

محاسبہ کر پاتی

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی

وقت سے آنکھیں چُرا کر

پیچھے چلی جاتی

ٹوٹے ہوئے خوابوں کو

آرزوؤں سے دوبارہ سجاتی

ایک لمحے کے لئے

میں پھر سے مسکراتی

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی

Print Friendly, PDF & Email

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں