82

چترال میں بڑھتی ہوئی خودکشیوں کے واقعات تشویش ناک ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

صوبہ خیبرپختونخوا کے انتہائی شمال میں واقع ضلع لوئراوراپرچترال میں گذشتہ کئی سالوں سے خودکشی کے واقعات میں اصافہ ہورہاہے ۔جوانتہائی تشویش ناک ہے ۔چترال میں غربت،عورتوں کی مردوں کے مقابلے میں کم حیثیت،گھریلوجھگڑے،گھریلوتشدد،روایتی زمہ داریوں کابوجھ ،ذہنی بیماریاں ،کم عمری میں شادی ،پسندکی شادی پراختلافات، سرکاری نوکریاں نہ ملنا،امتحان میں کم نمبرلینا،علاقائی اورنسلی تعصبات دیگر فرسودہ روایات  نوجوانوں کے ذہنوں پربوجھ پڑجاتاہے اورجویہ بوجھ برداشت نہیں کرسکتے ہیں وہ  خودکشی جیسے خاطرناک ا اقدام اُٹھانے پر مجبورہوتے ہیں۔ چترال کا شمار ملک کے انتہائی دور افتادہ اورپسماندہ علاقوں میں ہوتا ہے ۔چترال کے طول وعرض میں خودکشی کے شرح میں اضافےکے باوجودسرکاری اورغیرسرکاری اداروں کی طرف سے حقیقی وجوہات جاننے کے لئے کوئی جامع منصوبہ بندی ابھی تک  سامنے نہیں آئی ہے  ۔خودکشی کی تحقیق اورتفتیش میں زیادہ تروالدین  اوررشتہ دارمعاملات کوچھپانے کی کوشش کرتے ہوئےخودکشی کرنے والے کو ذہنی مریض قراردیتے ہیں  ۔پولیس اپنی طرف سے ہرممکن کوشش کرتے ہوئے متاثرہ خاندان کی تعاون نہ  ہونے کی وجہ سے کیس کی جڑ تک پہنچنے سے محروم رہ جاتاہے ۔ سن 2003 کے چترال میں موبائل فونز کے غلط استعمال سے بھی ان واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جب کہ خواتین کو بلیک میل کرنے کی اطلاع بھی ملتے ہیں ۔چترال  میں اکثربچوں اوروالدین کے درمیان کافی فاصلہ رہتاہے اور اس دوری کے نیتجے میں بچے اور بچیاں احساس محرومی کا شکارہوجاتے ہیں ۔ کیونکہ اکثربچے اپنے دل کی راز والدین کے سامنے بلاجھیجک بول نہیں سکتے ہیں۔

انسانی حقوق چترال کے چیئرمین وصدرڈسٹرکٹ بارکونسل چترال نیازاے نیازی ایڈوکیٹ،ممتازعالم دین شاہی خطیب چترال مولاناخلق الزمان کاکاخیل ، درالامان چترال کے منیجرآسئیہ بی بی  اورمعروف سماجی شخصیت عنایت اللہ اسیرنے اس حوالے سے گفتگوکرتے ہوئے  کہاکہ خودکشی حرام ہےلیکن خود کو موت کے حوالے کرنے والے زندگی کو نہ ہی نعمت تصور کرتے ہیں، نہ ہی انہیں حلال و حرام سے کوئی غرض ہوتی ہے۔ اپنے سماجی و نفسیاتی مسائل سے چھٹکارے کے لئے خواتین و مرد اور نو عمر جس تکلیف دہ راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔اپنی زندگی کو اپنے ارادے اور اپنے ہاتھوں سے ختم کرلینا ایک بھیانک اور تکلیف دہ احساس ہے۔ لیکن انسان جینے کے ہاتھوں تنگ آکر کب ایسا کرلیتا ہے اور کون سے محرکات اْسے ایسا کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔چترال کی روایتی دستور،خاندانی اُونچ نیچ، مہنگائی، بے روزگاری اور بے بسی کا احساس بڑھنے کی وجہ سے لوگوں میں جینے کی اْمنگ کم ہوتی جارہی ہے۔گزشتہ چند برسوں سے چترال میں خودکشی کے بڑھتے رحجان نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ہے۔ دست یاب اعداد و شمار کے مطابق چترال میں روان سال خودکشیوں کی تعدادآب تک 20 بتائی جاتی ہیں۔ خودکشی کرنے والے زیادہ تر افراد کی عمریں 30 برس سے کم ہوتی ہیں۔

نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ نے  کہاکہ اتنی بڑی تعداد میں خودکشیاں ضلع چترال جیسے کم آبادی کے علاقے میں تشویش ناک بات ہے۔ چترال کی کل آبادی 4لاکھ 47ہزار ہے۔اتنی کم آبادی میں اتنی بڑی تعداد میں خودکشیاں کسی انسانی المیہ سے کم نہیں ہے۔معاشرے کے ہرفرد کو اس انسانی مسئلے کا ادراک ہونا چاہیئے۔بحیثیت باپ، ماں،ساس،بہن،بھائی اورشوہر کو کسی بھی انسان کی اپنی زندگی کا چراغ گھل کرنے سے روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔اُنہوں نے کہاکہ اُن کے سروے کے مطابق خواتین میں اکثریت شادی شدہ خواتین کا ہے جس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ شادی شدہ لڑکیوں کے ساتھ اُن کے سسرالیوں کا رویہ ایسے انتہائی اقدام کا باعث بنتا ہے۔جب بھی بچی یا بچہ غصے میں آکر خودکشی کی دھمکی دیتا ہے تو ایسی حالت میں اُس دھمکی کو دھمکی برائے دھمکی کے طورپر نہیں لینا چاہیئے بلکہ معمولی دھمکی کو بھی سنجیدہ لینا چاہیئے۔ اورامتحان کے دنوں میں خصوصاً والدین کو اپنے حساس زہنیت کے مالک بچوں اور بچیوں کی طرف زیادہ سے زیادہ فکرمند رہنا چاہیے۔  گذشتہ نو سالوں کے دوران چترال میں 250سے زیادہ خواتین نے خودکشیوں کا ارتکاب کیا ہے جوکہ معاشرہ اور حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے۔

شائع شدہ ایک رپورٹ کے مطابق "چترال پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق سال 2021 میں کل 20 لوگوں نے خودکشیاں کی ہیں ۔جن میں 10 مرد جبکہ 10 خواتین شامل ہیں۔ اعدا د و شمار کے مطابق لوئر چترال سے خودکشیوں کے 7 واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 5 مرد جبکہ 2 خواتین شامل ہیں جبکہ اپر چترال سے خودکشیوں کے تیرہ واقعات رپورٹ ہوئے جن میں 5مرد جبکہ 8 خواتین شامل ہیں۔

سال 2021 کے اعداد و شمار کے مطابق رپورٹ ہونے والے کیسز میں خودکشیوں کے 6 واقعات ایسے تھے جن میں خواتین نے گھریلو تشدد سے تنگ آکر زندگیوں کا خاتمہ کیا جبکہ خودکشیوں کے 9 واقعات نفسیاتی مسائل کی وجہ سے سامنے آئے۔اعداد و شمار کے مطابق خودکشی کا ایک واقعہ محبت میں ناکامی کی وجہ سے پیش آیا جبکہ چار خودکشیوں کی وجہ سامنے نہیں آسکی ۔”

چترال کے لوکل اخبارات میں شائع خودکشی کے چندرپورٹ اورتفصیل یون ہے ۔

2مارچ 2021کواپرچترال کے تھانہ اویرکے حدودمیں ایک نوجوان مسمی محمدالدین ولدسلطان قیوم سکنہ پختوری اویرمبینہ طورپرخودکشی کرلی ہے۔پولیس کے مطابق نوجوان کی عمر23سال ہے جوچھریداربندوق سے فائرکرکے خودکشی  کی ہے ابتدائی معلومات کے مطابق خودکشی کی وجہ گھرمیں بیوی کے ساتھ تکرارہونابتایاجاتاہے مقامی پولیس تفتیش کررہی ہے۔

28مارچ 2021کوچترال ٹاون کے احاطے  اوچشٹ گاوں میں مقامی سکول میں آٹھویں جماعت میں زیرتعلیم کلیم اللہ ولدشمس الدین نے مبینہ طورپربارہ بوربندوق سے فائرکرکے اپنی زندگی کاچراغ گل کردیا۔خودکشی کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔

2مئی 2021کو اپر چترال کے گاوں سنوغورمیں ایک اٹھائیس سالہ نوجوان نے خلیل الرحمن نے نامعلوم وجوہات کی بناپرگھرمیں چاقو سے خود پر وار کرکے خودکشی کرلی ۔

4مئی 2021 کواپرچترال میں خودکشی کے 2 واقعات پیش آئے ۔اپر چترال کے علاقہ تریچ میں دوسہلیاں مبینہ طور پر دریا چترال میں چھلانگ لگا کر خودکشی کرلی، خودکشی کی وجہ فلحال معلوم نہ ہوسکی، مقامی پولیس تفتیش کررہی ہے، پولیس کے مطابق مسماۃ رخسانہ دخترغفار کی عمر تقریبا انیس جبکہ گلفام بی بی دخترسید احمد کی عمر تقریبا بیس سال تھی۔مسماۃ گلفام کی لاش دریا سے نکال لی گئی جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔

7مئی 2021کولوئرچترال درو ش نگرسے تعلق رکھنے والی زوجہ شیرافضل سحری کے وقت مبینہ طورپردریائے چترال میں چھلانگ لگاکراپنی زندگی کاچراغ گل کردیاہے ۔رشتہ داروں کاکہناہے کہ مقتول مرگی کی مریضہ تھی۔

25مئی 2021 کواپر چترال کے علاقہ پرکوسپ میں اٹھارہ سالہ بی ایس سٹوڈنٹ فوزیہ عالم نے مبینہ طور پر گلے میں پھندہ ڈال کر اپنی زندگی کا چراغ گل کردیا ۔ مستوج پولیس کے مطابق فوزیہ عالم کے والد وزیر عالم نے پولیس کو بتایا کہ ان کی اٹھارہ سالہ بیٹی نے نامعلوم وجوہات کی بنا پر گذشتہ روز گھر میں گلے میں اپنے دوپٹے کو پھندہ بنا کر خود کشی کی ہے ۔پولیس نے والد کے رپورٹ پر خود کشی کا مقدمہ درج کرنے کے بعد لاش پوسٹ مارٹم کرکے ورثا کے حوالے کردی ۔ جسے بعد آزان سپرد خاک کیا گیا ۔پولیس کے مطابق اٹھارہ سالہ فوزیہ عالم غیر شادی شدہ تھیں ۔ تاہم خودکشی کی وجوہات معلوم نہ یو سکیں ۔

6جون2021کواپرچترال کے ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹربونی کے نواحی گاوں آوی  میں ایک شادی شدہ خاتون  وزجہ محمدقربان شاہ عمر35سال نے دریائے یارخون میں چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی۔ وجوہات ابھی تک معلوم نہ ہو سکیں۔

8جون 2021کوچترال سے تقربیا120کلومیٹر کے فاصلے پر بریپ  کے مقام پرخودکشی کاواقعہ  پیش آیا جہاں دو بچوں کی ماں نے خود کو گولی مارکر زندگی کا چراغ گل کردیا۔ پولیس نے لاش تحویل میں لینے کے بعد قانونی تقاضے پوری کرکے ورثاء کے حوالے کردیا۔ پولیس رپورٹ کے مطابق خودکشی کی کوئی ٹھوس وجہ ابھی تک سامنے نہیں آئی۔

9جون 2021کولوئرچترال کے علاقے  دروش سے تعلق رکھنے والے 30سالہ شجاع  ولدفیض محمدنے دریائے چترال میں چھلانگ لگاکرخودکشی کرلی ۔خودکشی کی وجہ معلوم نہ ہوسکی علاقے کے مکینوں کاکہناہے کہ شجاع  ذہنی تناو کاشکارتھا۔

10جون 2021کو اپرچترال سنوغورسے تعلق رکھنے والے 17سالہ نوجوان امیرحسین نے مبینہ طورپرگھریلوناچاقی کی وجہ سے دریائے چترال میں چھلانگ لگاکرخودکشی کرلی جس کی لاش بعدمیں دریائے سے برآمدکرلی گئی۔

11جون 2021کوکوشٹ میں خودکشی کاواقعہ پیشٍ آیاجہاں ایک 16سالہ غیرشادی شدہ لڑکی عالیہ بی بی دخترمحمدنے نامعلوم وجوہات کی بنا پراپنے آپ کودریاکی موجوں کے حوالے کردیامقامی پولیس انکوائری شروع کردی ہے۔

19جون 2021 کوسنوغورگاوں میں ایک اورجوان سال طالبہ مسماۃ حیلہ رانی دخترسجادحسین عمرتقربیا15سال گھرمیں معمولی تکرارکے بعدمبینہ طورپرسنوغورپل سے دریائے یارخون میں چھلانگ لگاکرخودکشی کرلی ۔جومقامی سکول میں نویں جماعت کی طالبہ تھی ۔

11جولائی 2021کواپرچترال کے علاقہ لاسپورمیں ایک جوان سال لڑکی مبینہ طورپربندوق سے فائرکرکے خودکشی کرلی ۔لڑکی کی شناخت مسماۃ صنم بی بی دخترمایون سے ہوئی  ہے جس کی عمرتقربیا19 برس ہے جوسکینڈائیرکے طالبہ تھی چترال میں زیرتعلیم تھی ۔

12اگست کو2021کوکوشٹ گاوں میں ایک شادی شدہ خاتون نصرت بی بی عمر45سال صبح کوشٹ ہیلتھ یونٹ میں چیک اپ کےلئے گھرسے نکلی تھی لیکن دوپہرکوگھرواپس نہ پہنچنے پران کی تلاش شروع کردی گئی اورہسپتال میں رجسٹرچیک کرنے پرمعلوم ہواکہ وہاں نہیں آئی تھی جس پرمختلف جگہوں پرانہیں تلاش کرنے کے دوران دونوں چپل دریاکے کنار ے مل گئے ہیں ۔

12ستمبر2021کوچترال شہرکے نواحی گاوں سنگورمیں مسمی امجدعالم ولدرحمت عالمی سکنہ سنگورلوٹدہ عمرتقربیا17سال پھنکے کے ساتھ لٹک  کرمبینہ طورپرخودکشی کی ہے اہل خانہ کے مطابق ذہنی بیماری میں مبتلاتھااورایک مہینے سے علاج جاری تھی ۔

اس طرح بہت سارے واقعات کارپورٹ بھی نہں ہوتاہے۔چترال میں خودکشی کے روک تھام اورایک صحت مند معاشرے کی تشکیل کیلئے ہر ایک شخص کو چائیے ۔اپنے بہو،بہنوں اوربچوں کی ذہنی کیفیت سمجھتے ہوئے اسے دلاسہ دیں ،خوش گمانی اوراُمیدکےسہارے اُس کوزندگی کی رعنایوں کی جانب متوجہ ہونے کی درس دیاجائے ۔سرکاری اورغیرسرکاری اداروں خودکشیوں کے بڑھتے ہوئے رحجان کے تدارک کے لئے آگہی پروگرامات اورکاونسلنگ کے ذریعے احساس کمتری کے شکارافرادکی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں