86

سورج مکھی کے پھول۔۔۔۔۔ تحریر: تقدیرہ خان

ہمارے وہ صحافی اور دانشور جو چند ہفتے پہلے تک عمران خان کے حق میں لکھتے او بولتے تھے یکایک آصف علی زرداری اور نواز شریف کے نہ صرف گرویدہ ہو گے بلکہ عمران خان کی حمایت کرنے پر کچھ کچھ شرمندہ شرمندہ بھی ہیں۔ دو بڑے صحافیوں نے اگرچہ عمران خان کی کبھی تعریفیں تو نہیں لکھیں مگر رویہ مثبت اور حقیقت پسندانہ رہا جو صحافتی اصولوں کے عین مطابق تھا۔اگر چہ عمران خان کی حکومت کے دوران کچھ صحافتی حلقے نہ صرف حکومت سے نالاں رہے بلکہ بڑی حد تک دشمنی پر اُتر آئے۔ان کے دل ودماغ حرص و ہوس نے ماؤف کر دیے اور وہ عمران دشمنی میں ملک دشمن بن گے۔ ان کا بیانیہ پاکستان،اسلام و افوج پاکستان، دشمن اقوام و ممالک میں اتنا مقبول ہوا کہ عام پاکستانی بھی ان سے نفرت کرنے لگے۔ کون نہیں جانتا کہ زرداری اورشریف خاندان نے دس روپے کے ترقیاتی کام کی تشہیر کے لئے دس لاکھ کے اشتہار قومی خزانے میں سرقہ لگا کر اخباروں اور من پسند ٹیلی ویژن چینلوں کو دیے جس کی وجہ سے صحافی اورصحافتی ادارے مالامال ہو گے۔مرحوم ضیاء شاہد نے اپنی تحریر "میرا دوست نواز شریف”میں لکھا ہے کہ نیب کو فرصت ہو تو ایک نظر صحافیوں اور صحافتی اداروں پر بھی ڈال لے مگر نیب والے اکثر نمک کی کان میں جا کر نمک ہو جاتے ہیں۔
عمران خان کے جاتے ہی صحافت اور دانشوری کے کھیتوں میں بہار آ گئی۔ اخباروں میں خبریں کم اور اشتہار زیادہ چھپنے لگے۔وقت کی دیدہ رانی اور کوٹہ رانی جو ملک کی اصل حکمران ہیں میڈیا مینیجمنٹ کا بر ملا اعلان کر چکی ہیں۔ کیا یہ قومی المیہ نہیں کہ روائتی حکمران خاندان اپنے ہی ملک اور قوم کے خلاف ففتھ جنریش وار لڑ رہے ہیں۔ قوم سوئی ہوئی ہے اور ملک کے محافظ پہلے ہی غیر جانبداری کا اعلان کر چکے ہیں۔ ہمارے جغادری اور دانشوری کے زحم میں مبتلاء صحافیوں کو علم ہو گا کہ سوویت یونین کے خاتمے پر روسی عوام اورفوج کا کیا حال ہوا تھا۔ کہیں کہیں ماہ بلکہ سال تک فوجیوں کو تنخواہ نہیں ملتی تھی۔بوڑھے اور بیمار فوجیوں کو علاج کی سہولت میسر نہ تھی اور پنشن انتہائی کم کر دی گئی تھی۔عوام کو دووقت کی روٹی میسر نہ تھی۔بازاروں میں دکانیں، مارکیٹیں اور بیکریاں اکثر سامان سے خالی پڑی رہتیں۔جہاں کچھ میسر ہوتا وہاں میلوں لمبی لائنیں نظر آتیں۔ ہمارے اخباروں نے روسی فوجیوں کی باوردی تصویریں شائع کی تھیں کہ وہ دن بھر کسی امیر روسی کے ڈاچے(فارم ہاؤس)پر کام کرنے کے بعد ایک ایک تربوز مزدوری لے کر گھروں کو جا رہے تھے۔ آدھی دنیا کو غلہ، تیل، جنگی سازو سامان اور طب کی سہولیات فراہم کرنے والا ملک اور دنیا کی دوسری بڑی سپر پاورقیادت کے فقدان اور اشرافیہ کی کرپشن کی وجہ سے ریت کے گروندے کی طرح ڈھیر ہو گئی تھی۔
گوربا چوف سے لے کر بورس یلسن تک روس کا جو حال ہوا ہم ایسی حالت کے کسی طو ر پر بھی متعمل نہیں ہو سکتے۔عرب بہار کے بعد مشرق وسطیٰ میں جو خزاں آئی وہ اب تک ختم نہیں ہو رہی۔ افغانستان کا حال ہمارے سامنے ہے اور سری لنکا میں جو کچھ ہو اپاکستان کو بھی اسی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ایک طرف غربت و افلاس اور مہنگائی کا طوفان پوری شدت سے قوم کو مزید مفلسی اور بے یقینی کے دلدل میں دھکیل رہا ہے اور دوسری جانب” سات سو سال بعد”کے مصنف کے بیان کردہ نو صحافیوں کا ٹولہ بشمول ہر محکمے میں بیٹھے چالیس نقب زن ملک کی معیشت اور قومی عزت و وقار پر حملہ آور ہیں۔
سورج مکھی کے پھول بھی کچھ دیر میں رخ بدلتے ہیں مگر ہمارے دانشور صحافی اندھیروں میں گرہن ذدہ سورج کو تلاش کرتے ہیں ” ایک پیج پر” کے مصنف نے ڈولنڈ ڈوکی دھمکی سے پہلے ہی اپنی دانشوری کا ڈول شریفوں اور زرداری کے کنواوں میں ڈال دیا۔ ایسا ہی احوال امریکہ میں بیٹھی صحافن کا ہے۔ پہلے مرحومہ کلثوم نواز کے قصیدے لکھتی تھی اور پھر عمران خان کی صورت میں انہیں ایک لیڈر مل گیا۔ آج کل بلاول اور مریم کی صورت میں انہیں مستقبل کے ماؤزے تنگ، چارلس ڈیگال اور ابراہم لنکن مل گے ہیں۔ جوتی ملہوترا کی جوتیاں چاٹنے والوں اور حسینہ واجد کے ہاتھو ں ذلت کا طوق گلے میں ڈھکلوانے والوں کو تو بانی پاکستان اور نظریہ پاکستان سے ہی چڑ ہے۔ انہیں ہر وہ جماعت اور لیڈر پسند ہے جن کے باپ دادوں نے پاکستان کے قیام کی مخالفت کی اور اب ان کی اولادیں پاکستان توڑنے کی سازشوں میں ملوث ہیں۔
ہمارے دو دانشوروں نصرت جاوید اور معید پیرذادہ نے ڈولنڈ ڈو کے ایجاد کردہ سورج کے سامنے پہلا سجدہ کیا تو انہیں پتہ چل گیا کہ یہ شمس نہیں بلکہ جہنم کا شعلہ اور آتش کدہ ہے۔دونوں نے فوراًرخ بدلا اور پرانی ڈگر پر آ گے۔
یہ قومی المیہ ہے کہ صحافیوں، سیاستدانوں اورتاجروں میں کو ئی فرق باقی نہیں رہا۔ یہی حال قومی اور ملکی اداروں اور قائدین کا ہے۔ قومی ادارے قوم کے محافظ ہوتے ہیں غیر جانبدار نہیں۔ دیکھا جائے تو ملک میں ہر سطح پر قیادت کا بحران ہے۔ قائدین سطحی اور مفاد پرستانہ سوچ کے حامل ہیں۔ دور اندیشی اور مستقبل بینی کا فقدان ہے۔ جب قائدین تکبر، رعونت، شہرت، شہوت اور خود غرضی کی بیمار ی میں مبتلا ہو جائیں تو قومیں غلام اور مفلوک الحال ہو جاتی ہیں۔ مریم اور بلاول کی جس ماحول میں تربیت ہوئی ہے وہ ملکی بقاء و سلامتی کے لئے سازگار نہیں ہوسکتا۔ بلاول اور مریم،زرداری اور نواز شریف کے اثاثوں کے وارث ہیں اور ان کی سیاست کرپشن بد عہدی، خود غرضی اور بد اعتمادی کے اصولوں پر کھڑی ہے۔
ان کی دولت کے انبار ملک سے باہر ہیں اور ملکی قومی ادارے ان کی مرضی کے مطابق چلتے ہیں۔ زرداری اور شریف خاندان کے مقدمات کسی عدالت کے محتاج نہیں ہیں۔ ملک کا آئین ان پر لاگو ہی نہیں ہو تاجبکہ ان کی مرضی اور خواہش کا نام قانون ہے۔
سورج مکھی کے کھیتوں میں صحافت کے پھول کھل اٹھیں تو صحافت منافقت میں بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کاروباری صحافت نے کرپشن کی سیاست کا ساتھ دے کر ملکی سلامتی اور قومی عزت و وقا ر پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔
نصرت جاوید چند دنوں سے انتہائی مثبت اور مخلصانہ مشوروں سے شہباز شریف کو سمجھانے کی کوشش میں ہیں کہ وہ اتحادیوں کے مشوروں سے ملکی بقاء و سلامتی سے نہ کھیلیں اور نہ ہی شہزادی اور شاہی خادمہ کی دھمکیوں میں آئیں۔ بے نظیر اور ناہید خان کا مقابلہ کر نا ان کے بس کی بات نہیں۔ محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی اور بانی پاکستان کی دست راست تھیں۔وہ اپنے اثاثے ملک و قوم کے لئے وقف کر گے اور ان کے کرپش سے کمائے اثاثے بیرون ملک ہیں۔
نصرت جاوید نے امپورٹڈ حکومت کی جگہ” بھان متی کا کنبہ "کی اصطلاح ایجاد کی ہے جو موجودہ اتحادی حکمرانوں کے لئے انتہائی موزوں ہے۔ شہبار شریف کو یاد رکھنا ہوگا کہ جو کچھ ملک میں ہو رہا ہے اس کے ذمہ دار صرف وہ ہیں اتحادی نہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو چند ماہ پہلے اداروں پر حملہ آور تھے اور اب اداروں کی عزت و ناموس کی بات کرتے ہوئے اچھے نہیں لگتے۔بھان متی کا کنبہ کینہ پروری کی سیاست پر یقین رکھتا ہے اور کینہ پرور کبھی بھی مخلص نہیں ہو سکتا۔ان کے مشوروں پر عمل کرنے سے صرف شہباز شریف کا ہی نقصان ہوا گا بھان متی کے کنبے کا نہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں