مضامین

داد بیداد۔۔۔۔۔۔۔55روپے صرف۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

ایران امریکہ جنگ اور ابنا ئے ہر مز کی بند ش کا بہا نہ بنا کر پا کستان کی حکومت نے تیل کی قیمتوں میں 55روپے فی لیٹر اضا فہ کر دیا اور قوم سے قربانی دینے کی اپیل کی بائیک پر کا لج جا نے والا طالب علم، بائیک ریڑھی سے مزدوری کرے والا محنت کش، رکشہ چلا نے والا غریب اور ٹیکسی موٹر کے ذریعے روزگار پیدا کر نے والا ڈرائیور قربانی دے رہا ہے اور یہ طبقہ ملک کا سب سے نا دار، پسا ہوا بے نوا، بے یارو مدد گار طبقہ ہے یہ طبقہ تیل استعمال کرنے والی آبادی کا 50فیصد بنتا ہے، یہ طبقہ اخبار نہیں پڑھتا، خبریں نہیں سنتا، اس طبقے کو یہ نہیں معلو م کہ اسحاق ڈار نے کیا کہا اور اورنگ زیب کا کیا بیان آیا چنا نچہ غریب پر بو جھ آیا ہے اور غریب کے پا س قربانی دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھوڑی سی محنت اور تحقیق کی جا ئے تو حقیقت سامنے آتی ہے کہ پا کستان کے پاس 5مارچ 2026کی شام تک ایک کروڑ 14لا کھ ٹن کی مقدار میں تیل دستیاب سٹاک میں مو جود تھا جو سستا خریدا گیا تھا نیز سعودی عرب کی طرف سے متبا دل راستے سے پرانی قیمت پر تیل سپلا ئی کرنے کی ضما نت بھی مل گئی تھی چنا نچہ فی لیٹر تیل کی قیمت میں 55روپے کا فوری اضا فہ کرنے کی ضرورت نہیں تھی اس بنا ء پر حکومت کے سیا سی مخا لفین کہتے ہیں کہ کا بینہ کے وزرا بڑے بڑے تیل پمپوں کے ما لک ہیں 55روپے کا فوری اضا فہ کرنے سے ان کو 8کھر ب 46ارب روپے کا فائدہ ہوا چنا نچہ مو قع سے فا ئدہ اٹھا کر حکمرا نوں کی کشتی میں جگہ پا نے والے مگر مچھوں نے اربوں روپے اپنی دولت میں اضا فہ کیا اگر سٹا ک میں مو جو د تیل 4اپر یل تک غریب مزدور کا روں کو پرانی قیمت پر ملتا تو حکمرا نوں کی دولت میں راتوں رات اربوں روپے کا اضا فہ نہ ہوتا یہاں ملک کے لئے کوئی نہیں سوچتا، عوام کے لئے کوئی نہیں سوچتا، ہر ایک اپنی دولت میں اضا فہ کرنے کے لئے سوچتا ہے یہ اس معا ملے کا سیا سی اور سما جی پہلو ہے جو اس وقت عوامی حلقوں میں گرما گرمی کے ساتھ زیر بحث ہے اس کا دوسرا پہلو زیا دہ اہم ہے اور وہ ہے ملک میں رائج قانون، ہمارے قانونی نظام میں بازار کے نر خوں کو کنٹرول کرنے کا طریقہ کار مو جود ہے طریقہ کار کے مطا بق ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کی نگرانی میں انسپکٹروں اور اسسٹنٹ کمشنروں یا تحصیلدار وں پر مشتمل عملہ کام کرتا ہے جب غیر معمولی حالات میں عام لو گوں کے روز مرہ استعمال کی کوئی چیز مہنگی ہو جا ئے تو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کا عملہ بازار میں مو جو د سٹاک کو چیک کرکے پرانا سٹاک ختم ہو نے تک قیمت بڑھا نے کی اجا زت نہیں دیتا پشاور سے چترال تک ہر ضلع کے ریکارڈ روم میں پرانی فائلیں محفوظ ہیں یہ 1916ء کا واقعہ ہے پہلی جنگ عظیم کے زما نے میں چائے لا نے والا سمندری جہا زوقت پر بمبئی کی بندر گاہ سے ان لوڈ نہ ہوسکا اس لئے جہا ز پر جر ما نہ عائد ہوا دستور کے مطا بق کمپنی نے وہ رقم چائے کے تا جر وں سے وصول کی چائے کے تا جروں نے ایک من چائے پر ایک آنہ سر چارج لگا دیا یہ چائے ما رکیٹ میں آئی تو ہر ضلع میں بازار کی چیکنگ ہوئی پہلے سے مو جود سٹاک کو سر چارج سے استثنیٰ دیا گیا کسی ضلع میں تین ما ہ بعد پرانا سٹاک ختم ہوا تو سرچارج کی اجا زت مل گئی، مہینہ یا ڈیڑھ بعد متنا زعہ سٹاک ختم ہوا تو سرچارج کو ختم کر کے پرانا ریٹ بحا ل کیا گیا 1916ء کا ایک آنہ چار پائی کا ہوتا تھا، چار پائی میں ایک مر غی آتی تھی دو درجن انڈے آتے تھے، مو جود ہ حا لات میں 900روپے سے لیکر 1000روپے تک ما لیت بنتی ہے اُس وقت قانون تھا، قانون پر عمل در آمد کرنے والا دفتر تھا آج کل ایم پی اے، تحصیل مئیر، کونسلر اور ایم این اے یا سنیٹر وغیرہ کا دور دور ہ ہے قانون کو لپیٹ کر طاق میں رکھا گیا ہے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے اختیارات غیر متعلقہ سیا سی لو گ استعمال کر تے ہیں اس لئے آبنا ئے ہر مز میں تیل مہنگا ہونے سے پہلے پشاور اور چترال میں 55روپے فی لیٹر کا سر چارج لگا دیا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ عوام حکومت پر اعتماد نہیں کر تے حکومت نے اپنا اعتبار کھو دیا ہے55روپے صرف ایک طمانچہ ہے جو حکومت اور عوام کے درمیان انتہا درجے کی بد اعتما دی کو ظا ہر کر تا ہے ۔

 

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button