89

ملک میں صنعت و کاروبار کے زوال کی ایک اور بڑی وجہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے جس نے کاروباری طبقے کو شدید بوجھ تلے دبا کے رکھ دیا ہے

نائب صدر سارک چیمبرز آف کامرس حاجی غلام نے کیا ہے کہ خیبر پختونخوا سے غربت اور بے روزگاری کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ وفاق اور صوبائی حکومتیں مل کر ایک مضبوط اور مخلص انداز میں وسائل کا استعمال منصفانہ طریقے سے یقینی بنائیں اور ایسا کرتے ہوئے سرحد پار تجارت کو فروغ دینے کے لیے عملی اور ٹھوس اقدامات کریں ۔ اس حوالے سے یہ بھی ضروری ہے کہ ہمسائیہ ممالک کے ساتھ مضبوط سفارتی اور تجارتی تعلقات کو سیسہ پلائی دیوار جیسا بنایا جائے تاکہ کوئی بھی سازش اس میں دراڑ نہ ڈال سکے ۔ دنیا بھر میں جن ممالک نے ترقی کی ہے اگر انکا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ان ممالک نے معاشی لہاز سے خود کو مستحکم کرنے کے لیے اپنے وسائل کی قدر کی اور انکا استعمال اس طریقے سے کیا کہ صنعت کی ترقی کے لیے بہتر نتائج ملے ۔ پاکستان میں وسائل کی کسی طور کوئی کمی نہیں بلکہ مالک نے اسے وسائل سے مالا مال رکھا ہے ، لیکن ، بد قسمتی سے یہاں مستقبل کے لیے کوئی نہیں سوچتا اور لانگ ٹرم پالیسی کو نہیں اپنایا جاتا نا ہی جامع پالیسی مرتب کرنے کے لیے کام کیا جاتا ہے اور اسی فقدان کی وجہ سے آج ہماری معاشی حالت انتہائی ابتر ہے ۔ اسی وجہ سے صنعت و تجارت کا حال بھی سب کے سامنے ہے ۔ مقامی صنعت کو مقامی اور بین الاقوامی سرمایہ کاری کی اشد ضرورت ہے جس کے لیے ماحول فراہم کیا جائے ۔ صنعت و حرفت کی ترقی کی ذمہ داری اکیلے صوبائی حکومت کی نہیں اس میں وفاق کو بلکہ دونوں کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ اسی طرح متعلقہ سرکاری و نیم سرکاری اداروں کو بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنا ہونگی کیونکہ اگر ایسا نہ کیا گیا تو حالات قابو سے باہر ہوتے رہینگے ۔ صنعتی ترقی کے لیے جامع اور مضبوط پالیسی کی اشد ضرورت ہے ۔ یہ پالیسی ایسی ہو کہ جس پر تمام سٹیک ہولڈرز اور حکومتوں و اداروں کا آپس میں اتفاق رائے ہو اور اسے آئندہ دس سالوں کے لیے ایسے نافذ کیا جائے کہ اگر حکومتیں تبدیل بھی ہوں تو اس میں کوئی تبدیلی نہ کرسکے کیونکہ جب جب حکومتیں تبدیل ہوتی ہیں وہ اپنی من مانی ترامیم اور فیصلوں سے ترقی کے اس عمل میں تیزی کی بجائے روکاوٹیں حائل کر دیتی ہیں اور انہیں اندازہ تک نہیں ہوتا کہ وہ کس قدر نقصان کا کام کررہی ہیں ۔
میں بطور نائب صدر سارک چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز صوبائی اور وفاقی دونوں حکومتوں سے مطالبہ کرتا ہوں کہ مذید وقت ضائع نہ کیا جائے اور ملک میں صنعتی ترقی کے لیے اختلافات کو بالہ طاق رکھتے ہوئے کام کیاجائے ۔ اسی طرح سرحد پار تجارت کو کامیاب بنانے کے لیے مل بیٹھ کر عملی فیصلے کیے جائیں ۔
افغانستان اور سنٹرل ایشیاءکاروبار و تجارت کے لیے بڑی مارکیٹس ہیں لیکن سرحدات کی بندش اور حالات کی وجہ سے تجارت اونٹ کے منہ میں زیرے برابر بھی نہیں جو تشویش ناک ہے ۔ ہمارے پاس 22 بارڈر سٹیشنز ہیں جن میں سے اس وقت صرف 4 ہی آپریشنل ہیں وہاں بھی آئے روز مسائل ہوتے ہیں ، اس صورتحال نے تجارت اور کاروبار کو ناقابل تلافی نقصان سے دوچار کررکھا ہے ۔
خیبر پختونخوا میں دنیا کی قیمتی ترین معدنیات اور دھاتیں پائی جاتی ہیں لیکن ہم انہیں دنیا تک پہنچانے اور زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ کرنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہمارتی اس طرف مخلصانہ توجہ ہی نہیں ہے ۔ خام مال کی برآمد کی بجائے اگر ہم اپنے وسائل پر توجہ دیں اور اس پر اپنی توانائیاں صرف کریں تو حالات بہتری کی جانب جا سکتے ہیں ۔
ہمارے ملک میں صنعت و کاروبار کے زوال کی ایک اور بڑی وجہ ٹیکسوں کی بھرمار ہے جس نے کاروباری طبقے کو شدید بوجھ تلے دبا کے رکھ دیا ہے ، روپے کی گرتی ہوئی قدر بھی اس میں مذید اضافہ کرتی ہے ۔ ٹیکس کے نظام پر فوری نظر ثانی اور سٹیک ہولڈرز سے مشاورت وقت کی ضرورت ہے جس سے نظریں نہیں چرائی جاسکتیں ۔ ٹیکسز میں ریلیف دینا ہوگا اور اپنے مقامی کاروباری طبقے کو اعتماد میں لے کر ترقی کی جانب پیش قدمی کرنا ہوگی ۔
ایف پی سی سی آئی ملک میںبزنس کمیونٹی کے لیے شب و روز کام کررہا ہے ، اس ادارے نے ہمیشہ بزنس کمیونٹی ، حکومت اور حکومتی اداروں کے مابین رابطہ پل کا کردار ادا کیا اور کوشش کی کہ کاروباری طبقے کو درپیش مسائل کا حل نکالا جاسکے ۔ اسی زمرے میں ایف پی سی سی آئی پشاور ریجنل آفس کی ٹیم کو خصوصی طور پر مبارکباد دینا چاہتا ہوں جنہوںنے صوبائی بجٹ 2022-23 کے لیے ایک طویل جدوجہد کی اور بزنس کمیونٹی سمیت حکومتی ذمہ دار اداروں کے ساتھ متعدد بار بیٹھک کی ، صرف یہ ہی نہیں بلکہ تاریخی کام سرانجام دیتے ہوئے اس مرتبہ بجٹ سے پہلے بجٹ تجاویز پر مبنی ایک تفصیلی کتابچہ مرتب کیا جو اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں کاروبار کی ترقی اور عوام کی خوشحالی مقصود ہے ۔ اس قابل ستائش کوششوں پر ایف پی سی سی آئی پشاور کی ریجنل ٹیم کو جتنی داد دی جائے کم ہے ۔ ہمیں اپنی آئندہ نسلوں کے لیے اسی طرح مل کر کام کرنا ہوگا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں