74

فٰری نامہ۔۔۔۔۔۔۔۔ میری اب بیتیاں۔۔۔۔۔۔۔کالم نگار۔۔فریدہ سلطانہ فٰری

بچپن کی یا دیں ایک قیمیتی سرمایہ ہوتی ہیں کسی مقدس تحفے کی طرح جسے اپ انتہائی پاک ہوکراحتیاط سے چھونے کی کوشش کرتے ہیں اور پوری زندگی ایک خزانہ سمجھ کرسنبھالے رکھتے ہیں۔

بچپن کی زندگی وہ حسین دورہوتی ہے جس میں نہ اپ کو کسی کل کی فکرہوتی ہے اور نہی ماضی و مستقبل کا غم۔۔۔۔۔۔۔ جس چیز کی فکرہوتی ہے وہ یہی کہ ابھی سامنے کا وقت عیش وعشرت سے کٹ جا ئے۔۔۔۔۔۔۔ مگرمیں یہ جملہ اج کل کے بچوں کے لئے کچھ یوں ہوگا۔۔۔۔ کہ پوری زندگی پب جی اور فری فایر کھیلتے گزر جائے۔۔

بچپن کی بہت ساری یادوں میں سے ایک پرانی یاد عید کے دن کے حوالے سے ہے یقین جانئے عید کا ہم لوگ بہت شدت سے انتطار کیا کرتے تھے یوں سمجھ لیجے کہ نئے کپڑوں اورجوتوں کی خوشی میں انگلیوں پر دن گنا کرتے تھے۔ مزے کی بات یہ تھی کہ اس وقت بازار کون لیکرجاتا تھا بس گھر کے مرد خود ہی  بازار جاتے اورچیزیں پسند کرکے لے اتے۔ اج کل توزمانہ اتنا بدل گیا ہے کہ خواتین خود بازار جاکر بچوں کی پسند کے مطابق چیزیں خرید لیتے ہیں مگراتنی اسایشوں اورسہولیات کے باوجود ایک بات جو ہمیشہ مجھے تکلیف دیتی ہے کہ اس جدید ترقی اورٹیکنالوجی نے بچوں کے اندر سے  معصومیت چھین لی ہے جس کی وجہ سے ان کی سادگی بھی کہی کھوگئی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اورپھر عید کے دن کی ایک اور خوشی کہ ہمیں ازادی سے رشتہ داروں کے گھر گھومنے کا بھی موقعہ مل جاتا تھا ساتھ ہی عیدی کے اس دس روپے کی خوشی کا تو اپنا ہی مزہ تھا ہمارے بچپن کے عید کی سب سے مزے کی بات یہ ہوتی تھی کہ زیادہ تربچوں کے پاس عید والے دن بھی سکول کے نئے یونیفارم اور جوتے ہوتے تھے تاکہ عید والے دن پہن لےاورعید کے بعد  سکول کے لئے ۔۔۔۔۔۔ ہم لوگ نوے کی دہائی میں پلے ہوئے بچے ہیں اس دور میں اج کل کے مقابلے میں جتنی سادگی تھی ا تنی غربت بھی زیادہ تھی بقول شاعر

غربت نے میرے بچوں کو تہذیب سکھادی

سہمے ہو ئے رہتے ہیں شرارت نہیں کرتے

اور اس دورمیں غربت کے ساتھ ساتھ لوگوں کے بچے بھی زیادہ ہوتے تھے تووہ لوگ ایک تیرسے دو دو شکار کرکے بچوں کوبھی خوش کرتے اوراپنے اوپر اخراجات کا بوجھ بھی کم کرتے ۔۔۔۔۔۔۔ خوش قسمتی سے ہمارے گھرمیں ہم دوہی بچے تھے تو کبھی یہ نوبت نہیں ا ئی کہ سکول کے یونیفارم عید والے دن پہنے ہو۔۔۔ مگر یہ فارمولا اپ اج کل کے بچوں پرہرگز اپلا ئ نہیں کر سکتے کیونکہ نہ وہ سادگی رہی نہ وہ بچے رہے۔۔۔۔ خیردوسری بڑی خوشی جوعید کے دن مجھے ہوتی وہ مہندی اور چوڑیوں کی  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چاند رات کو پورے ہاتھوں پر مہندی ملنا اورساری رات اٹھ اٹھ کرہاتھوں کودیکھنا کہ سرخ لگے ہیں کہ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔  یہی نہیں ایک اورمزے کی بات یہاں یہ بھی تھی کہ ہردفعہ اس رات میرے سا تھ یہ واقعہ ضرور ہوتا کہ رات کونیند میں مہندی کی چھاپ ہاتھوں سے میرے چہرے پرلگ جاتی اورصبح اٹھ کرمیں اس چھا پ کے ساتھ پورا دن گھومتی۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جاری

 

 

 

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں