58

دادبیداد….یادوں کے چراغ….ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

اگر میں کسی نو جوان کو بتا دو ں کہ جن دنوں ڈبگری گارڈن میں ہمارا دفتر تھا ان دنوں یہاں ایک بھی ڈاکٹر نہیں تھا، ایک بھی لیبارٹری نہیں تھی تو آج کا نو جوان میری بات پر یقین نہیں کرے گا کہ ڈاکٹر اورلیبارٹری کے بغیر کیسے ڈبگری گارڈن ہو سکتا ہے! لیکن ایسا ہی تھا جن دنوں یہاں میرا دفتر تھا ان دنوں یہاں ہو کا عا لم تھا باڑے کی بسیں یہاں سے گذرتی تھیں انہی بسوں کی وجہ سے ڈبگری چوک کی رونق تھی میں یو سف شہزاد کے ہمراہ ہر روز چوک یاد گار سے پیدل آتا تھا اور چھٹی کے بعد ہم پیدل ہی جا تے تھے کبھی ہم چڑدیکو بان اور پیپل منڈی سے قصہ خوا نی کا راستہ اختیار کر تے اور کبھی قصہ خوا نی کو چھوڑ کر بائیں ہاتھ کی گلیوں سے ہو کر شعبہ بازار کی طرف نکلتے ان گلیوں میں پشاور شہر کا قدیم رنگ ملتا تھا ہم اس رنگ کے رسیا تھے، سر دیوں میں چکن سوپ اور گر میوں میں پشاور ی قلفی سے لطف اندوز ہو ا کر تے تھے ہمارا دفتر محکمہ اطلا عات کا دفتر تھا یہاں ہمارے افسروں میں قا ضی سرور اور عنا یت اللہ ریاض بھی تھے احسان اللہ خا ن، حفیظ الکو زی اور عظیم افریدی بھی تھے، اہم شخصیات کا دورہ پشاور سرپر ہو تو اسلام اباد سے یو نس سیٹھی اور فرحت اللہ بابر بھی آیا کر تے تھے دفتر کے ساتھیوں میں نا صر علی سید، عالمزیب خٹک، محمد اسلا م ارما نی اور اعجاز احمد زاہد کو ہم کبھی بھلا نہ پائینگے پہلے مو لانا کو ثر نیا زی وزیر اطلا عات تھے پھر حنیف خان وزیر اطلا عات بنے، دفتر سے رسائل اور جرائد بھی شائع ہوئے تھے، اباسین، جمہور اسلا م اور کار واں یہاں سے نکلتے تھے، ما ہ نو لا ہور سے شائع ہوتا تھا، دفتر میں دن بھر ادیبوں اور شاعروں کا آنا جا نا لگا رہتا تھا امیر حمزہ شنواری، ابو الکیف کیفی سرحدی، عبد الکا فی ادیب، عبد الستار، عارف خٹک، سید رسول رسا، خیر البشر نوید، طاہر کلا چوی اور دوسرے نا مور لکھاری تشریف لا ئے تو ہم خو شی سے سر شار ہو تے کپٹن احسان دانش اور اقتدار علی مظہر صو بائی محکمہ اطلا عات کے حکام میں سے بہت پڑھے لکھے دانشور تھے، ان کے ساتھ ہمارا خو ش گوار رابطہ رہتا تھا وزارت اطلا عات میں سنٹرل سپریر سروس سے آنے والے دو افیسر اکرام اللہ جان اور شاہ زمان خا ن بھی اس اثنا ء میں پو سٹنگ پرپشاور آگئے ان کے ساتھ کا م کرنے کا تجربہ بھی یا دگار رہا والٹن اکیڈیمی لا ہور کے کا من کورس سے آنے والے افیسروں کا یہ کمال ہوتا ہے کہ وہ اپنے خا ندان کے پکے نمائندے ہوتے ہیں کورس کی کوئی تر بیت ان میں کا من نہیں ہوتی، گھر کی عادتیں نہیں چھوٹتیں، بچپن اور لڑکپن کی عادتوں سے چھٹکارا نہیں ملتا سابق چیف سکرٹری عبداللہ صاحب سے ایک بار پوچھا گیا اکیڈیمی سے آنے والے افیسروں میں نخوت اور تکبر کیوں پیدا ہوتاہے، انہوں نے اپنے تجربے کی بنیاد پر کہا کہ بعض عادتیں مورثی ہوتی ہیں اکیڈیمی ان عادتوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ہمارے دفترمیں قبائلی ملک اور عما ئدین بھی تشریف لا تے تھے قبائلی علا قوں اور سر حدی ریا ستوں کے ادیبوں، شاعروں اور دانشور وں کے ذریعے نظر یہ پا کستان کے پیغام کو پھیلا نا تھا علامہ اقبال، قائد اعظم اور دیگر بانیان پا کستان کے افکار کی ترویج کے ساتھ حکومت وقت کی طرف سے دی گئی مرا عات اور تر قیا تی سکیموں کا بھی احا طہ کرنا تھا ہمارے دفتر میں قبائلی جر گوں کے انتظام و انصرام میں ہم بہت فعال کر دار ادا کر تے تھے مہمند ایجنسی کے مو لانا عبد الحکیم آف کسیئی بلند پا یہ عالم دین اور قبائلی ملک تھے ایک دن انہوں نے سبق آموز واقعہ سنا یا، دیو بند میں چترال کے مو لا نا صاحب الزمان ان کے ہم جما عت تھے، خطا بت کے کورس کے لئے وزارت مذہبی امور نے علماء کا انٹر ویو لینا شروع کیا، اس میں فرقہ وارانہ خیا لات پر نمبر کا ٹے جا تے تھے حا کم مجا ز نے اکثر علماء سے سوال کیا تم دیو بندی ہو یا بریلوی؟ مو لانا عبد الحکیم آف کسی اور مولا نا صاحب الزمان آف چترال نے آپس میں مشورہ کیا کہ ہم اپنے علا قے کا نا م لینگے، ایک نے کہا میں مہمندی ہوں، دوسرے نے کہا میں چترالی ہوں، دونوں پا س ہو گئے یہ دفتر اُس وقت یہاں سے ما ل روڈ منتقل ہو ا جب ہمارے دفتر کے پہلو میں پہلی کلینکل لیبارٹری قائم ہوئی، آج ہمارے دفتر کی عمارت میں بھی کلینکل لیبارٹری کا م کر رہی ہے آج ڈبگری گارڈن نے ایک میڈیکل سٹی کی شکل اختیار کر لیا ہے، ایسی میڈیکل سٹی جس کو مہنگے علا ج کا استعارہ بنا یا گیا ہے آج یہاں چاروں طرف ڈاکٹر وں کے کلینک نظر آرہے ہیں، تینوں طرف کی سڑکیں گاڑیوں کے ہجوم میں گم ہو گئی ہیں باڑہ والی بس سٹاپ بھی اس بھیڑ چال میں گویا بھلا دیا گیا ہے یا دوں کے چراغ جلتے ہیں تو نصف صدی پہلے کا ڈبگری گارڈن ذہن کی سکرین پر آجا تا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں