70

نہ وہ بد لے نہ ہم………..ایم سرورصدیقی

OOO روز روز وہی حالات کا رونا، شکوے شکایات اورحکومتی بے حسی اورغریبوں کی بے بسی نہ وہ بدلے نہ ہماری بدلنے کی جستجو سوچتے سوچتے خیال آتاہے تو افسوس بلکہ شرم آتی ہے ہمارے ملک کی اشرافیہ جن میں حکمران، بیورو کریٹ، تاجر،سرمایہ دار، سرکاری افسران اور سیاستدان سرفہرست ہیں ان میں بیشتر لکڑ ہضم ،پتھر ہضم کرنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے،رشوت ،کرپشن،منتھلیاں جن کی گھٹی میں پڑی ہوئی ہیں اور تو اور مخدوم امین فہیم،سید یوسف رضا گیلانی جیسے بے ضرر اور ’’معصوم ‘‘رہنماؤں پر بھی جب کرپشن کے الزامات لگتے ہیں تو اپنے اسلاف کا کردار یاد آجاتاہے وہ بھی کیا لوگ تھے جنہیں اپنی شخصیت پر ایک جھوٹا بھی الزام گوارا نہیں تھا لیکن ہمارے اردگرد بیشتر مال بنانے کا کوئی موقعہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے بے شک پورا دامن داغدار ہی کیوں نہ ہو جائے اب تویہ حال ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں اکثرکیلئے حلال ،حرام کی تمیز ختم ہوگئی ہے۔ان لوگوں کی تو خبر نہیں سچی بات تو یہ ہے کہ جب تلک کردارسازی کی طرف توجہ نہیں دی جاتی بہتری کی جانب پیشرفت کیسے ہوگی؟ انسان کا کردار سورج کی مانندہوتاہے جس کی روشنی دور سے بھی نظر آتی ہے ۔۔ایک ایسی سچائی جو دلوں کو حرارت بخشتی ہے ضمیرکوطاقت عطا کرتی ہے ۔لیکن دولت کے پجاری معاشرہ میں یہ سب باتیں بے معنی سی ہیں دینِ فطرت اسلام نے انسانوں کو ایک دوسرے محبت کا درس دیاہے مسلمانوں کو زندگی سے پیار کرنا سکھایاہے ایک انسان کے قتل کو انسانیت کا قتل قراردیاہے ، اللہ تبارک تعالیٰ نے انسانیت کی خدمت کرنے والوں کو ایک کے بدلے دس گنا دنیا میں دینے کا وعدہ کیا ہے لیکن غوروفکر کرنے کی جب عادت ہی نہیں رہی تو مایوس ہونا ایک لازمی بات ہے۔ روز روز وہی حالات کا رونا، شکوے شکایات اورحکومتی بے حسی اورغریبوں کی بے بسی نہ وہ بدلے نہ ہماری بدلنے کی جستجو کی سوچتے سوچتے خیال آتاہے تو افسوس بلکہ شرم آتی ہے اب تو غصہ بھی آنے لگ گیا ہے لیکن اشرافیہ کو اس سے کیا غرض ۔۔یہ تو ہم جیسے سوچ سوچ کر پاگل ہوئے جارہے ہیں کہ پاکستان کو اس وقت جتنے مسائل درپیش ہیں، جتنے چیلنجزکا سامناہے۔۔ملک میں جس قدر غربت ہے یا اکثریت بنیادی سہولتوں سے محروم ہے ۔یاپھر سماج جتنا انحطاط پذیرہورہاہے لگتاہے اس ملک کی نصف آبادی اپنی زندگیوں سے بیزار، بیزارہے۔ بیشترریٹائرڈ ملازمین اور بوڑھوں کی حالت انتہائی قابلِ رحم ہے یہ لوگ زندگی کی خوشیوں سے محروم جیسے تیسے زندگی کے دن پورے کررہے ہیں ۔ روز روز وہی حالات کا رونا، شکوے شکایات اورحکومتی بے حسی اورغریبوں کی بے بسی نہ وہ بدلے نہ ہماری بدلنے کی جستجو کی سوچتے سوچتے حیرت ہونے لگتی ہے اس میں کوئی شک نہیں عوام موجودہ نظام سے عاجز آئے ہوئے ہیں جس میں گذشتہ نصف صدی سے صرف چہرے تبدیل ہوتے ہیں سسٹم وہی رہتا ہے ہر آنے والے حکمران کے دور میں عوام کا استحصال جاری رہتاہے در حقیقت عوام کو کسی نجات دہندہ کی تلاش ہے جو بھی لیڈر خوشنما باتیں، بلند و بانگ دعوے اور عوام کی نبض پر ہاتھ رکھ کر پروگرام پیش کرتاہے ہم آوے ای آوے کے نعرے لگاتے اس کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔۔۔اپنے ارد گردکا ماحول دیکھئے کسی سے کچھ کہنے یا سننے کی ضرورت نہیں صرف لوگوں کے رویہ پر ہی غورکافی ہے آپ دل سے محسوس کریں گے کہ ہم سب کے سب ایک ایسی بیماری میں مبتلاہوگئے ہیں جس کا نام’’ بے مروتی ‘‘ہے جس کی بڑی نشانیوں میں ایک دوسرے سے لاتعلقی، اپنی ذات سے پیار اور صرف اپنے متعلق سوچناہے دینِ فطرت اسلام نے تو ہمسائیوں کے حقوق پر سب سے زیادہ زوردیاہے محلے میں طرفین کے چالیس چالیس گھروں کو ہمسایہ قراردیا گیاہے بلکہ اولیاء کرام نے تو یہاں تک کہہ ڈالا جس کا ہمسایہ رات بھوکا سو گیا اس پورے محلے کی عبادت قبول نہیں ہوگی ہمارے آس پاس ہو سکتاہے کسی گھر بھوک سے بلبلاتا بچہ سو گیاہو۔۔۔یا فاقوں سے تنگ خاندان اجتماعی خودکشی پر مجبورہو یا پھرکسی طالبعلم کے پاس امتحان کی فیس ہی نہ ہو اور دلبراشتہ ہوکر کچھ انتہائی اقدام بارے سوچ رہاہو ۔۔جب تک معاشرے میں ایک دوسرے سے روابط بہتر نہیں ہوں گے یہ مسائل برقرار رہیں گے نبیوں ولیوں اور ممتاز شخصیات کی ساری تعلیمات میں انسان سے محبت کرنے درس دیاگیاہے اس کے بغیرایک اچھے معاشرے کی تشکیل ممکن ہی نہیں گھریلوحالات، خوراک کی کمی ،بیماری میں بھی میڈیکل سٹور سے کوئی چھوٹی موٹی دوا لے کر وقت کو دھکا دینا معمول کی بات ہے جہاں دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہوں وہاں جوان ہوتی بیٹیاں ،ہروقت ڈرے ڈرے سہمے سہمے بچے اورشادی کی آس میں بوڑھی ہوتی بہنیں ایک اذیت سے کم نہیں ہیں۔۔۔عید، شب برأت کی آمد آمد پر خوشیاں لوگوں کے چہروں سے پھوٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں لیکن غریبوں کے گھروں میں ایک ماتم کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے بچے پہننے کونئے کپڑے اور خرچہ مانگتے ہیں لیکن ڈانٹ ،ڈپٹ،پھٹکار سننے کو ملتی ہے۔۔۔ ان لوگوں کی تعداد۔ سینکڑوں، ہزاروں نہیں کروڑوں میں ہے جو ساری زندگی دائرے میں سفر کرتے گذار دیتے ہیں اورغربت کو اپنی بدنصیبی سمجھ کراپنے حالات بدلنے کی بھی کوئی کوشش نہیں کرتے۔ر وز روز وہی حالات کا رونا، شکوے شکایات اورحکومتی بے حسی اورغریبوں کی بے بسی نہ وہ بدلے نہ ہماری بدلنے کی جستجو کی کوئی نہیں سوچتا تو حکمرانوں کو تو سوچنا چاہیے کہ معاشی چکی میں پسے عوام موجودہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے متحمل نہیں ہیں حکمران عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے ایسی پالیسیاں تیار کریں جس سے عوام کو کچھ نہ کچھ ریلیف مل سکے صاحبِ اقتدارطبقہ کی بات نہ ہی کریں ان کو تو کچھ فکر ہی نہیں کسی معاملے میں کوئی منصوبہ بندی ہے نہ کوئی حکمتِ عملی ۔ گوداموں میں پڑے اناج کو کیڑے پڑ جاتے ہیں لیکن بھوک سے مرتے لوگوں کو ایک دانہ بھی فراہم کر نا گناہ سمجھ لیا گیاماضی اور حال کی حکومتوں کا وطیرہ رہا ہے انہوں نے ہمیشہ سارا زور گا ۔گے ۔گی پر لگایاہے جو جتنے پر جوش اندازمیں ایسے نعرے لگاتاہے اتنا ہی کامیاب سمجھا جاتاہے۔غربت سے عاجز مائیں اپنے بچوں کے گلے کاٹنے پرمجبورہو جائیں یا نئے کپڑے مانگنے پر باپ اپنی لاڈلی بیٹی کوقتل کرڈالے تو سوچنا چاہیے ایسا کیوں ہورہاہے؟ حیف ہے حکومت غربت ختم کرنے کی بجائے غریب ختم کرنے پر تلی ہوئی ہے ۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں