43

سابق صوبائی وزیر سلیم خان کے زیر قیادت وفد کی سکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سید ظفر علی شاہ سےملاقات

اسلام آباد(چترال ایکسپریس)اسلام آباد میں سکریٹری پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ سید ظفر علی شاہ کے ساتھ سلیم خان سابق صوبائی وزیر کی سربراہی میں وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں سید سردار حسین شاہ سابق ایم پی اے اور نظام الدین آف گرم چشمہ موجودتھے ۔ سلیم خان نے سکریٹری کو چترال کے تین اہم پراجیکٹس کے بارے میں بتایا کہ چترال تا گرم چشمہ دوراہ پاس روڈ ، چترال تا بونی شندور روڈ اور چترال تا کیلاش ویلز روڈ کیلئے فنڈز جاری کرکے تعمیراتی کاموں کو فوری طور پر شروع کیا جائے اور زمینوں کی خریداری کیلئے بھی فنڈز جاری کر دیا جائے۔ سلیم خان نے مزید کہا کہ چترال تا گرم چشمہ روڈ کے نظرثانی شدہ PC-1 کو سی ڈی ڈبلیو پی کے آنے والے میٹنگ میں شامل کرکے منظور کردیا جائے اور زمینوں کی خریداری کیلئے درکار فنڈز کو فوری طور پر ریلیز کر دیا جائے تاکہ زمینوں کی خریداری کے بعد باقاعدہ طور پر کام کا آغاز کر دیا جائے اور انہوں نے یہ مطالبہ بھی کردیا کہ یونیورسٹی آف چترال کی تعمیر کیلئے زمینوں کی خریداری کی گئی ہے لہذا تعمیراتی کام کیلئے فنڈز مہیا کردیا جائے۔ سردار حسین نے بھی ان تمام مطالبات کی تائید کی اور کہا کہ سابق پی ٹی آئی حکومت میں چترال بونی بلیک ٹاپ روڈ کو ٹھکیدار کے ذریعے اکھاڑ کر برباد کردیا گیا اب ٹھیکہ دار بھی منظر سے غائب ہوا ہے۔ انہوں نے وفاقی حکومت سے پر زور مطالبہ کیا کہ چترال بونی شندور روڈ کیلئے فنڈز فوری طور پر جاری کرکے کام کا آغاز کر دیا جائے ۔ سکریٹری پلاننگ سید ظفر علی شاہ نے وفد کو یہ یقین دلایا کہ چترال گرم چشمہ دوراہ پاس روڈ کے پی سی ون کو نظر ثانی کیلئے این ایچ اے کو واپس کردیا گیا ہے جوں ہی وہ پی سی ون تیار ہو کر پلاننگ کمیشن آفس آئیگا اس کو دوبارہ منظوری کیلئے ترجیحی بنیادوں پر سی ڈی ڈبلیو پی کے اگلے مینٹگ میں شاملِ کرکے منظوری دی جائے گی اور اس کے بعد باقاعدہ طور پر این ایچ اے کے ذریعے ٹینڈرز کرواکر کام کا آغاز کر دیا جائے گا۔ اس کے علاؤہ چترال کیلاش ویلی روڈ اور چترال بونی روڈ کیلئے بھی فنڈز این ایچ اے کے ذریعے جاری کرکے کام کا آغاز کروا دیا جائے گا۔ یونیورسٹی آف چترال کے تعمیراتی کام کے آغاز کیلئے فنڈز ھائیر ایجوکیشن کمیشن کے ذریعے کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ چترال کے ساتھ موجودہ حکومت کی خصوصی دلچسپی ہے لہذا ان تمام مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں