102

پَت جھڑکا موسم۔۔۔۔۔۔۔۔پروفیسررفعت مظہر

پَت جھڑ کے موسم میں درختوں کے پتے زرد ہوکر گرنے لگتے ہیں اور یہ عجیب اُداسیوں کا سماں ہوتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے ٹُنڈ مُنڈ درخت اپنی بربادیوں پر نوحہ کناں ہوں۔ پنکھ پکھیرو ٹھکانے بدل لیتے ہیں اور گلشن میں کوئل کی صدا نہ پپیہے کی پی کہاں۔ ہر طرف خزاؤں کے ڈیرے اور بسیرے۔ ایک سیاسی جماعت کے لیے پَت جھڑس کا موسم 9 مئی سے شروع ہوا جو تاحال جاری ہے۔ اُس کی گھنی شاخوں میں چہچہانے والے پنچھی ایک ایک کرکے پھُر ہوگئے اور اب صورتِ حال یہ کہ
اپنے بے خواب کواڑوں کو مقفل کرلو
اب یہاں کوئی نہیں، کوئی نہیں آئے گا
کسی نے آئی پی پی بنالی اور کوئی پارلیمنٹیرین کا لاحقہ لگاکر خوش ہوگیا۔ وہ شخص جو کبھی نرگسیت کی اوجِ ثریا پہ مقیم تھا آج جیل کی کال کوٹھری میں اپنی بربادیوں پر ماتم کناں۔ کوئی کہتا ہے کہ وہ روپڑا تو کوئی کہتا ہے کہ اُس کی کوٹھری سے سسکیوں کی آوازیں آتی ہیں۔
وہ جو کہتا تھا کچھ نہیں ہوتا
اب وہ روتا ہے چُپ نہیں ہوتا
وہ یقیناََاپنے ساڑھے تین سالہ دَورِحکومت کو یاد تو کرتا ہوگا جب وہ فرعونِ وقت تھااور اُس کے پنجہئ ستم سے کوئی سیاسی جماعت محفوظ نہیں تھی۔ وہ دوسروں کے اے سی اُترواتا اُترواتا خود ورزشی سائیکل کا محتاج ہوگیا۔ جب محترمہ کلثوم نواز بسترِ مرگ پر تھیں توقیدی میاں نوازشریف نے جیلر کو باربار کہا کہ اُن کا دل گھبرا رہا ہے، اہلیہ کی خیریت معلوم کرنے کے لیے لندن میں صرف 2 منٹ کی کال کرنے کا موقع دے دو۔ تب جیلر نے کہا کہ وزیرِاعظم عمران خاں کی اجازت نہیں۔ 2 گھنٹے بعد ہی محترمہ کلثوم نواز کی رحلت کی خبر آگئی۔ آج میاں صاحب تو اپنے گھر میں ہیں لیکن عمران خاں لندن میں اپنے بیٹوں سے بات کرنے کو ترس رہاہے۔ ویسے اپنے دَورِحکومت میں اُسے کبھی اپنے بیٹوں سے ملنے کا خیال تک نہیں آیا۔ شنید ہے کہ بشریٰ بیگم نے جانے سے منع کررکھا تھا۔ یہ مکافاتِ عمل ہے، کوئی سمجھے یا نہ سمجھے۔
اُس کی بربادیوں کی داستاں تو اُس وقت ہی رقم ہوناشروع ہوگئی تھی جب اُس نے اپنے محسن جنرل (ر) قمر جاوید باجوہ کو آنکھیں دکھانا شروع کیں اور باجوہ صاحب پیچھے ہٹنا شروع ہوئے لیکن جنرل فیض حمید اُس کے کندھے سے کندھا ملاکر کھڑا رہا کیونکہ اُسے اگلا چیف آف آرمی سٹاف بنانے کا لالچ دیا گیا تھا۔ اُس علیم وخبیر اور بہتر منصوبہ ساز کا منصوبہ کچھ اور تھا۔ 10اپریل 2022ء کو عمران خاں سے سب کچھ چھِن گیا لیکن پھر بھی وہ شیطانی منصوبے بناتا رہا۔ اُس نے سائفر کا ڈرامہ کیا لیکن جب یہ ڈرامہ ناکام ہوا تو حکومت چھِن جانے کا منصوبہ ساز جنرل قمرجاوید باجوہ کو ٹھہرا دیا۔ تب بھی اُس کی شدید ترین خواہش تھی کہ جنرل سید عاصم منیر کسی بھی صورت میں چیف آف آرمی سٹاف نہ بننے پائیں۔ پھر جب سید عاصم منیر چیف آف آرمی سٹاف مقرر ہوئے تو جنرل فیض حمید نے مستعفی ہونے میں ہی عافیت سمجھی۔ اُس وقت بھی اُسے چیف جسٹس(ر) عمرعطا بندیال سمیت سپریم کورٹ کے ہم خیال گروپ کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ اُس گروپ نے ”عشقِ عمران“ میں آئین تک کو ری رائٹ کرڈالا۔ جب بندیالی دَور ختم ہوا اور قاضی فائزعیسیٰ چیف جسٹس بنے تو نہ صرف بہت کچھ کھُل کر سامنے آگیا بلکہ اُس دَور کے غلط فیصلوں کوبھی سپریم کورٹ کے گَٹر کی نظر کردیا گیا۔ جسٹس مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں متعدد درخواستیں آچکی تھیں جنہیں جسٹس بندیال نے پرکاہ برابر حیثیت نہیں دی۔ ایک بنچ میں جسٹس بندیال نے جسٹس مظاہرنقوی کو بنچ کا حصہ بنایا اور ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیاکہ اُنہوں نے جسٹس نقوی کو بنچ کا حصہ اِس لیے بنایا ہے کہ وہ کسی کو خاموش پیغام دینا چاہتے ہیں۔ اُسی مظاہر نقوی کے خلاف سپریم جوڈیشل کانسل میں کرپشن کا کیس چلا تو وہ کورٹ کا سامنا کرنے کی بجائے مستعفی ہوگئے تاکہ اُن کی پنشن اور مراعات جاری رہیں۔ اللہ سلامت رکھے آئین وقانون کے محافظ قاضی فائزعیسیٰ کو، جب تک وہ موجود ہیں مظاہرنقوی بھول جائے کہ وہ اپنی کرپشن کو ڈکار جائے گا۔ یہ فیصلہ کہ مستعفی ہونے والے جج کی پنشن اور مراعات جاری رہیں گی اور اُس کے خلاف کوئی کیس نہیں ہوگا، جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب نے کیا تھاجس کے خلاف حکومت سپریم کورٹ میں جاچکی اِس لیے یہ فیصلہ بھی ہوا میں اُڑ جائے گا۔
جسٹس مظاہر نقوی کے بعد جسٹس اعجازالاحسن نے بھی عافیت اِسی میں جانی کہ وہ مستعفی ہوکر گھر بیٹھ رہیں۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ ثاقب نثار، آصف سعیدکھوسہ، عمرعطا بندیال اور مظاہرنقوی گھر بیٹھ چکے۔ عمران خاں کی آخری اُمید جسٹس اعجازالاحسن تھاجس کے بارے میں عمران خاں کے چاہنے والے یہ اُمید لگائے بیٹھے تھے کہ اکتوبر 2024ء میں جب وہ سپریم کورٹ کا چیف جسٹس بن جائے گا تو سارے معاملات سیدھے ہوجائیں گے۔ اب یہ اُمید بھی گئی اِس لیے ”اب اُسے ڈھونڈ چراغِ رُخِ زیبا کے کر“۔ اب قاضی صاحب کے بعد تقریباََ پونے چارسال تک سید منصورعلی شاہ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ہوں گے جن کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ آئین وقانون کے دائرے سے باہر جھانکنا بھی پسند نہیں کرتے۔ اُنہوں نے تو یہاں تک کہہ دیاتھا کہ جن ججز نے آمروں کا ساتھ دیا ہے اُن کی تصویریں سپریم کورٹ میں کیوں آویزاں ہیں؟۔
پاکستان کی تاریخ ججوں اور جرنیلوں کے گٹھ جوڑکے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ میاں نوازشریف چونکہ اصولوں پر ڈَٹ جانے والے شخص ہیں اِسی لیے باربار اقتدار سے نکالے بھی جاتے ہیں۔ پاناما کیس میں چُن چُن کر ایسے جسٹس اکٹھے کیے گئے جو میاں صاحب کے مخالفین میں شمار ہوتے تھے۔ اُنہی میں ایک شیخ عظمت سعید بھی تھے جو ریٹائرمنٹ کے بعد شوکت خانم کینسر ہسپتال کے گورننگ باڈی کے رُکن بنے۔ ثاقب نثارکو دُکھ تھاکہ اُسے بَروقت کنفرم کیوں نہیں کیا گیا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کو زورآوروں نے بتایا کہ میاں نوازشریف اُس کے چیف جسٹس بننے کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ جسٹس اعجازالاحسن کی میاں خاندان سے رنجش پرانی ہے۔ وہ ماڈل ٹاؤن میں میاں خاندان کے پڑوسی بھی ہیں۔ اُن کے سگے بھائی اتفاق فاؤنڈری میں اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ اتفاق گروپ کے سربراہ حسین نوازنے اعجازالاحسن کے بھائی کو نوکری سے نکالا۔ اعجازالاحسن نے یہ دُکھ پال لیا۔ وہ تو جج ارشدملک کو باربار بلاکر کہتے تھے کہ میاں نوازشریف کو زیادہ سے زیادہ سزا دینی ہے۔ پاکستان کی تاریخ میں یہ پہلی بارہوا کہ پاناما جے آئی ٹی میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے نمائندے شامل کیے گئے۔ یہ بھی تاریخِ عدل کا انوکھا واقعہ تھاکہ جے آئی ٹی پر اعجازالاحسن کو نگران جج مقرر کیا گیا۔ بعداز خرابیئ بسیار میاں خاندان تو تمام مقدمات میں سرخرو ہوالیکن پاکستان کی تاریخِ عدل کے ماتھے پر جو سیاہ داغ یہ ججز چھوڑ گئے وہ کبھی نہیں مٹے گا۔اِن ججز کا احتساب ضروری تاکہ قوم کو پتہ چل سکے کہ معیارِعدل میں پاکستان 130 ویں نمبر پر کیوں ہے؟۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں