112

*””بیاہی بیٹیاں۔۔۔ لاوارث ؟””شہاب ثنا برغوزی*

ہمارے معاشرے میں ایک سوچ عام طور پر روایت ہی بن گئی ہے کہ بیٹی والے دب کر رہتے ہیں ، بیٹی والوں کو سر جھکا کر رکھنا چاہیے ، بیٹی کا معاملہ ہے جی زیادہ بات بھی نہیں کر سکتے۔ ۔ ۔
لیکن ڈر کس بات کا۔۔۔؟؟؟
بیٹیاں بیاہی جاتی ہیں بیچی تو نہیں جاتیں کہ اُس کی رخصتی کے بعد والدین کا اپنی بیٹی کے حق کے لیے آواز بلند کرنا جرم بن جائے گا ؟
ڈرنا تو اُن کو چائیے جو بیٹی کو بیاہ کر لے جاتے ہیں کہ کہیں پرائی بیٹی جس کو اپنی بیٹی بنا کر لے آئے ہیں اُس کے حقوق پورے کرنے میں ہم سے کہیں کوئی غفلت یا کوئی نا انصافی نہ ہو جائے ، کل کو ہم اُس کے والدین کے ساتھ ساتھ اپنے اللہ رب العزت کو بھی جوابدہ ہوں گے لیکن صورتحال بالکل اس کے برعکس نظر آتی ہے بیٹیوں کے والدین کو بھر پور احساس دلایا جاتا ہے کہ آپ تو بیٹی والے ھیں آپ کو خاموشی اختیار کرنی چاہئیے۔۔۔

زیادہ تر بیاہی بیٹیوں کے ساتھ نا انصافیوں کی ایک وجہ اُن کے والدین کا بیٹیوں کو “مورال سپورٹ” نہ کرنا ہے۔بیٹیوں کو رخصت کرتے ہوئے والدین کا یہ جملہ بولنا کہ اب اس گھر میں جب آنا ہنسی خوشی آنا ، کبھی روٹھ کر نہ آنا تو ایک طرح سے اُن کا مان مائیکے سے توڑ دینے کے مترادف ہوتا ہے جہاں اس جملہ کے مثبت اثرات ہیں کہ لڑکی اپنے گھر کو بسانے کے لیے ہر ممکن کوشش کرے لیکن جب کبھی سسرال میں ، جس کو وہ اپنا گھر سمجھ کر گئی تھی ، اُس کو وہ مقام اور عزت نہیں دی جاتی جس کی وہ مستحق ہے تو مائیکے کی طرف جب اس کو مورال سپورٹ نہیں مِلتی تو وہ اُسی ذلت آمیز زندگی کو گزانے پر مجبور ہو جاتی ہے جہاں اُس کی ذات اور اس کی خودی کا روز قتل ہوتا رہتا ہے اور اس کا کوئی پرسانِ حال نہیں ہوتا تو ایسے ظلم کرنے والوں کو بھی مزید تقویت ملتی ہے۔۔۔
بیٹیوں کو رخصت کر دینے کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ اُن کا والدین پر سے حق ختم ہو گیا ہے ، یا والدین کی ذمہ داری مکمل ہو چکی ہے ، بیٹیوں کو مکمل مان کے ساتھ رخصت کریں کہ کبھی خدانخواستہ اُن کے ساتھ کوئی ناحق زیادتی ہو جائے تو والدین کے ساتھ اپنے معاملات شیئر کر سکیں تاکہ والدین کی طرف سے معاملات سلجھانے کی کوشش کی جا سکے
بصورتِ دیگر والدین اپنے گھر کے دروازے اِس طرح کی ستائی ہوئی بیٹیوں پر ہمیشہ کھلے رکھیں تاکہ ایسی حالات کی ماری ہوئی بیٹیوں کو مزید ذلت آمیز زندگی نہ گزارنی پڑے۔۔۔
خدارا اگر کبھی کسی بیٹی کا سسرال میں مزید گزارا ممکن نہیں ہے تو اس کا سہارا بنیں ، اُس کو جان بوجھ کر اُس جہنم میں جلنے کے لیے نہ چھوڑ دیں ، سسرال بعد میں ظلم کرتا ہے والدین پہلے پہل کرتے ہیں یہ بول کر کہ اب اُس گھر سے تیری لاش ہی نکلے گی اور یقیناً ایسے والدین کی بیٹیاں زندہ لاش ہی بن جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ تمام بیٹیوں کو نیک نصیب عطا فرمائے۔۔۔
آمیــن ثم آمین

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں