48

الیکشن لڑنے کا مقصدچترال کو ترقی دینےاور یہاں سے غربت کے خاتمے کے سوا اور کچھ نہیں،طلحہ محمود

چترال (چترال ایکسپریس ) چترال سے قومی اسمبلی کی نشست این اے ون کے لئے جمعیت علمائے اسلام کے نامز دامیدوار سنیٹر طلحہ محمود نے کہا ہے کہ وہ چترال کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن دیکھنے اور یہاں غربت میں خاطر خواہ کمی لانے کا مشن لے کر یہاں سے الیکشن لڑرہے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ چترال میں مستقل قیام کا فیصلہ بھی کرچکے ہیں جبکہ خدمت خلق سے اللہ کی رضامندی حاصل کرنا ان کی زندگی کا نصب العین ہے۔ ہفتے کے روز چترال کے ایک مقامی ہوٹل میں شیخ الحدیث مولانا حسین احمد کی سربراہی میں اپر اور لویر چترال کے اضلاع سے تعلق رکھنے والے علماء، مشائخ، آئمہ، ایکس سروس مین، ریٹائرڈ سول افسران اور زندگی کے مختلف شعبوں کی نمائندگی کرنے والوں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ان کے پاس دولت، شہرت اور عزت سمیت سنیٹرشپ کی صورت میں اقتدار بھی ہے اورچترال سے الیکشن لڑنے میں انہیں اس علاقے کو ترقی دینے اور یہاں سے غربت کے خاتمے کے سوا اور کوئی مقصد کارفرما نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ وہ گزشتہ تیس سالوں سے رفاہ عامہ کے کاموں میں مشعول ہیں اور گزشتہ 18سالوں سے سنیٹر کی حیثیت سے خدمت انجام دینے کا بھی یہی مقصد ہے۔انہوں نے کہاکہ وہ چترال کی ہمہ گیر ترقی کے لئے ایک جامع پروگرام اور حکمت عملی رکھتے ہیں اور الیکشن میں کامیابی کی صورت میں ترقی کے تمام سیکٹرز میں منصوبے کے مطابق فوری طور پر کام کا آعاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ ان کے ساتھ ممبران صوبائی اسمبلی بھی جے یو آئی کے ہی منتخب ہونی چاہئے تاکہ ترقی کے عمل میں کوئی اور ان کے سامنے رکاوٹ نہ ہوسکیں اور وہ ان کے ممدو معاون بن سکیں۔

انہوں نے کہاکہ اس علاقے میں غذائی قلت کے سنگین مسئلہ پر قابو پانے کے سلسلے میں قدم اٹھانا شروع کیاتو یہاں کی مقامی قیادت نے سخت مخالفت کی اور ایک دوسرے سے برسرپیکار یہ لیڈر حضرات ان کے خلاف متحد اور شیروشکر ہوکر متفقہ قرار داد پاس کرکے انتظامیہ کے پاس بھیج دیا کیونکہ وہ اپنی سیاسی دکان کو خطرے میں اور اپنی اقتدار کو جاتا دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے مخالفین کو چیلنج کرتے ہوئے کہاکہ وہ انہیں طلحہ محمود فاونڈیشن کی طرف سے اس کار خیر سے روک کر دیکھادیں جبکہ انہوں نے یہاں پہلے سے ذیادہ حجم میں امداد ی کام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ سنیٹر طلحہ محمود نے اس بات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ بعض حلقے ملکی اداروں اور عوام کو ایک دوسرے کے مدمقابل لانے اور ان کے درمیاں دراڑ ڈالنے کی سازشوں میں مصروف ہیں جوکہ دراصل دشمن کا ایجنڈا ہے جبکہ یہ ناعاقبت اندیش یہ بھی نہیں سوچتے کہ جب ادارے کمزور ہوں گے تو خود ا ن کے وجود کو بھی خطرہ لاحق ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ چترال کی ترقی خود اس کے لوگو ں کے ہاتھوں میں ہے اور وہ اپنی یہ اختیار 8فروری کو ان کے حق میں استعمال کریں تو 9فروری کے دن ہی چترال کو ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرنے کی طرف پہلا قدم اٹھایا جائے گا۔ اس موقع پر شیخ الحدیث مولانا حسین احمد نے انہیں حاظریں کی طرف سے ہرممکن تعاون کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ وہ چترال کے بہترین مفاد میں ان کا ساتھ دے رہے ہیں۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں