133

سابق ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی نے اپنی ناکامی کا الزام مولانا اسعد محمود سابق وفاقی مواصلات اورجمعیت العلماء اسلام کی مرکزی قیادت پرلگادیا

چترال ( محکم الدین ) حالیہ جنرل الیکشن میں این اے 1چترال کے امیدوار سابق ایم این اے مولانا عبدالاکبر چترالی نے اپنی ناکامی کا الزام مولانا اسعد محمود سابق وفاقی مواصلات اور جمعیت العلماء اسلام کی مرکزی قیادت پرلگاتے ہوئے کہا ہے ،کہ بطور ممبر قومی اسمبلی جب میں نے ان کے کرپشن اورعوام دشمن واسلام دشمن کردار کو اسمبلی فلور پر طشت ابام کیا ۔ تب سے وہ میرے خلاف موقع کی تاک میں تھے ۔ یہی وجہ ہے ۔ کہ انہوں نے ایک سازش کے تحت چترال میں سنیٹر طلحہ محمود کو ٹکٹ دے کر میرے ووٹر کو خریدنے کی راہ ہموار کی ۔ چترال پریس کلب میں جماعت اسلامی کے اکابرین اخونزادہ رحمت اللہ ،مولانا اسرارالدین الہلال ،حکیم مجیب اللہ و دیگر کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے چترال سے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے کامیاب امیدواروں کو مبارکباد دی ۔ اور کہا ۔ کہ ہماری نیک تمنائیں اور دعائیں ان کے ساتھ ہیں ۔ لیکن ملکی نامساعد معاشی حالات اور انتشار کی سیاست سے یہ خدشہ ہے ۔ کہ( خاکم بدہن ) موجودہ اسمبلیاں زیادہ دیر نہیں چل سکتیں ۔ مولانا چترالی نے کہا ۔ کہ ایک منظم منصوبے کے تحت میرے ووٹرز کو خریدا گیا ۔ اور اس میں مولانا فضل الرحمن کے بیٹے مولانا اسعد محمود کا مرکزی کردار ہے ۔ اور طلحہ محمود کو چترال میں الیکشن لڑنے پر مجبور بھی اسی نے کیا ہے ۔ کیونکہ وہ قومی اسمبلی میں ناموس صحابہ و سود کے خلاف میری طرف سے پیش کردہ بل کی منظوری سے ناخوش تھے ۔ اور پاکستان پوسٹل کے 4500 ملازمیں کی بھرتیوں میں بڑے پیمانے پر ان کی کرپشن کو قومی اسملی میں میں نے اٹھایا ۔ جس سے اس کی سبکی ہوئی تھی ۔ اسی طرح پی ڈی ایم کی حکومت میں سود کی شرح میں اضافے پر میں نے جو آواز آٹھائی ۔ وہ بھی ان کیلئے ناقابل برداشت تھی ۔ انہوں نے کہا ۔ کہ جن علماء نے الیکشن کے دوران رشوت کو جائز قرار دے کر رشوت دینے والوں کی کامیابی کیلئے تن من دھن کی بازی لگا ئی ۔ وہ آیندہ محراب و منبر میں رشوت کے حوالے سے کوئی بات نہیں کر سکتے ۔ کیونکہ انہوں نے قران و حدیث کی غلط تاویل پیش کی ۔ اور شعائر اسلام کا مذاق اڑایا ۔ اور اسی طرح چترال کی خواتین کی بھی بے عزتی کی گئی ۔ جس سے چترال کی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا ۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا ۔ کہ جماعت اسلامی کے نظریاتی ووٹرز نے اپنے ووٹوں کا صحیح استعال کیا ۔ اور شخصی اور تعلق کے ووٹ تھے ان کو پچیس ہزار روپے فی ووٹ خریدا گیا ۔ جو کہ افسوسناک ہے ۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں