143

دھڑکنوں کی زبان۔۔۔۔” سرکاری اساتذہ نے تعلیمی نظام برباد کر دیا ہے “ ۔۔۔۔محمد جاوید حیات

یہ جملہ کس منچلے نے کہا ہے ۔۔۔سچ کہا ہوگا اس کے پاس کوٸی معقول دلیل ۔۔۔کوٸی مثال ۔۔۔کوٸی جسٹفیکیشن ہوگی ورنہ تو یہ بڑی بات ہے ۔۔”سرکار لفظ “بڑا معتبر لفظ ہے ۔۔یہ لفظ انگریزوں کے دورکی یادگار ہے ۔۔اگر کوٸی کہے کہ سرکاری ڈاکٹروں نے صحت کا نظام برباد کردیا ہے ۔سرکاری پولیس نے پاسبانی کا نظام برباد کردیا ہے ۔۔سرکاری فوج نے ملک کی سرحدوں کی حفاظت کا نظام بگاڑا ہے تو کیا ان جملوں کو الزام کا نام دیا جاۓ گا یاحقیقت کہی جاۓ گی ۔اصل حقیقت یہ ہے کہ نظام میں سقم ہے۔۔اگر نظام مضبوط ہو تو ان حالات کا سامنا نہیں ہوتا ۔۔۔ یہ حقیقت ہے لیکن تعلیم کو طبقوں میں تقسیم کرنا کس کا کارنامہ ہے ۔ملک میں امیر غریب میں جو فاصلہ ہے یہ ہر میدان میں ہے خواہ وہ تعلیم ہی کیوں نہ ہو اور ستم ظریفی یہ کہ میرٹ، معیار، فیل پاس کارکردگی کی بنیاد پرسرکاری اداروں میں ختم کر دیا گیا ہے ۔ایک طالب علم جس کی کارکردگی اور معیار پبلک سکولوں کے معیار کے مطابق نہ ہو وہ ان اداروں سے باہر کیا جاتا ہے تب ان کے لیے سرکاری ادارے پناہ گاہ ہیں۔۔ستم ظریفی آگے کو جاتی ہے ۔محکمانہ تادیب کوٸی نہیں ادارے کا سربراہ کسی استاذ کی کوتاہیوں پر کچھ نہیں کر سکتا ۔۔دھندے عروج پر ہوتے ہیں ۔من مانیاں ہیں اگر قوانین سخت ہوں استاذ کو خدشہ ہو۔۔۔ اندیشہ ہو ۔۔۔کارکردگی کا خوف ہو ۔۔تب جاکے سسٹم میں جان آۓ گی ورنہ تو یہ طعنے سننے پڑیں گے ۔۔چترال میں ایک دور ایسا گزرا ہے کہ جناب شاہ نام کے وزیر تعلیم ہوا کرتے تھے ۔انہوں نے نظام کو اپنی اعلی اور سخت گیر کارکردگی کی بنیاد پرایسی نہج پہ ڈال دیا تھا کہ اس کو ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی صاحب ”جناب شاہی نظام“ کے نام منسوب کرتے ہیں ۔وہ سپرٹ محکمے سے اٹھ گیا ہے ۔استاذ اگر خدا ترس ہے تو ٹھیک ہے ورنہ تو کسی کو کوٸی لگام کیا دے ۔۔سرکاری اداروں میں معیار کے علاوہ سہولیات کا بھی فقدان ہے ۔۔کہتے ہیں کہ لیب ہے۔۔ لاٸبریری ہے رسورس رومز ہیں لیکن ایسے سکول ہیں کہ ان میں کوٸی سہولیات نہیں ۔سرکاری سکولوں میں جب میرٹ آجاۓ تو معیار خود بہ خود بن جاۓ ۔چترال میں گورنمنٹ ڈگری کالج مردانہ اور گورنمنٹ ڈگری کالج زنانہ اس کی بڑی مثالیں ہیں ان میں میرٹ دو عظیم پرنسپلوں مقصود احمد اور میم مسرت نے لاٸی ہے ۔۔ معیار بن گیا ۔میرا دل کرتا ہے کہ محکمہ کی عزت مآب ڈاٸریکٹرس صاحبہ اور اربابان اقتدارو اختیار کو” داخلہ مہم “کا نعرہ لگانے کی بجاۓ معیار بنانے کا حکم نامہ جاری کرنا چاہیے اگر ایسا ہوتو کام بن سکتا ہے۔۔دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں سکولوں میں بچوں کو فیل کرنے کا تصور نہیں لیکن ان کا نظام مربوط اور مستحکم ہے ۔اساتذہ سخت احتساب سے گزارے جاتے ہیں ۔ادارے کے سربراہ آزاد ہیں۔۔ہمارے ہاں اگر اداروں میں ہیڈ ماسٹرز اور پرنسپل کی معاونت کی جاۓ تو معیار بنانے میں آزاد چھوڑا جاۓ تو سرکاری سکولوں میں ایسے بے مثال سکول بھی ہیں جن کی مثال دی جاۓ گی ان سکولوں کا بڑا کردار سربراہ کا ہوتا ہے ۔۔ ہمارے ہاں بد قسمتی یہ ہے کہ اساتذہ میں بھی چند ایسے ہیں جن کو کھینچ کر کلاس روم میں لانا پڑتا ہے ۔نظام فرسودہ ہے۔۔۔ طریقہ تدریس داقیانوسی ہے یہ سب حقیقتیں ہیں لیکن اس کے باوجود بھی اگر محنت کی جاۓ تو معیار بن سکتا ہے ۔سرکاری اساتذہ نے نہیں اس نظام نے اس نظام تعلیم کا بیڑھا غرق کردیا ہے ۔۔ہمیں بڑے بڑے نامی گرامی نجی سکولوں کی کارکردگی کا بھی پتہ ہے ۔ان کے بورڈ امتحانات میں جو کوششیں ہوتی ہیں ان کا بھی پتہ ہے ۔لیکن کیا قوم اس حقیقت سے انکار کرسکتی ہے کہ یہ سرکاری ادارے غریب غربا کے بچوں کی نرسری ہیں وہ بچہ جس کا فیس کوٸی نہیں بھرتا اس نرسری میں آتا ہے اس کا ذہنی معیار جو بھی ہو اس کو فیل پاس کا خوف ویسے بھی نہیں۔ان میں سےجو ذہین ہوتا ہے اس کو مفت تعلیم کے نام پہ اٹھا کر نجی سکولوں میں لے جایا جاتا ہے ۔سرکاری اساتذہ ویسے بھی معاشرے کا قیدی ہیں اس موضوع پر کتاب لکھی جا سکتی ہے لیکن اساتذہ ایک دوسرے کو گالیاں دینے کی بجاۓ ایک دوسرے کا احترام کریں ۔۔سرکاری اساتذہ کی کوتاہیوں سے انکار نہیں لیکن معاشرے میں ان کا جو کردار ہے کیا اس سے بھی کوٸی انکارکر سکتا ہے اگر اشرافیہ سرکاری سکولوں میں تعلیمی معیار بلند کرنے میں سنجیدہ ہے تو نظام کی کڑیاں مضبوط کرے اور حضور والاجہان پناہ کو چاہیے کہ اپنے لخت جگر کو سرکاری سکول میں داخل کرکے ان کی خبر لے۔۔۔سرکاری اساتذہ کسی کی کسی بات پہ کان نہ دھریں یہ قوم کے غریبوں کے محسن ہیں ۔۔۔ اور تعلیم وتربیت کے اس گلستان کو اپنے خون جگر سے سینجتے ہیں ۔۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں