68

دادبیداد..سبق کا منظرنامہ…ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی

پُرتعیش ہاسٹلوں میں رہنے والے طلباءاورطالبات کوشاید یہ نہیں معلوم کہ ڈیڑھ سو سال پہلے خیبر پختونخوا میں سبق کی یہ سہولتیں نہیں تھیں 1860ءمیں سبق پڑھنے کے شوقین صرف لڑکے ہوتے تھے لڑکیوں کے شوق کاکوئی اتہ پتہ نہیں تھا اگر کسی کا بیٹا سبق کا شوقین ہوتا تو دور دور تک مدرسہ یادارلعلوم نام کا کوئی ادارہ نہیں تھا، مکتب نام کی کوئی جگہ نہیں تھی، سکول کا انگریزی نا م کسی نے سنا بھی نہیں تھا اس کے باوجود سبق کے شو قین لڑکے علم کی تلاش میں گھروں سے نکلتے تھے، سوال یہ ہے کہ گھروں سے نکل کر کہاں جاتے تھے؟ جوا ب یہ ہے کہ اُس زمانے میں ترکستان، سمرقند، بخارا، کاشغر یارکند یا ہندو ستان کے دیوبند، سہارن پور، تھانہ بھون، بھوپال، اگرہ،کلکتہ سے تعلیم حاصل کرکے آنے والے علما دور درازدیہات میں خال خال موجود تھے ان علماء کے ناموں کی بڑی شہرت ہوتی تھی سبق کے شو قین کسی عالم کا نام لیکر اُس کے گاوں کا رخ کرتے تھے گاوں کی چھوٹی سی کچی مسجد ہواکرتی تھی عالم اُس مسجد میں یا اپنے گھر میں دور دور سے آنے والے مسافر طلباء کو رہنے کی جگہ اور کھانے کی غذا فراہم کر کے سبق پڑھاتاتھا گاوں کے لوگ اس کام میں اپنے استاد کے ساتھ تعاون کرتے تھے وظیفہ کی صورت میں ہر گھر سے طلباء کو پکی پکائی خوراک ملتی تھی اگر آج ہماری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں تحقیقی مضامین لکھنے والے طلباء اور طالبات اپنے اپنے علاقوں میں ڈیڑ ھ سو سال پہلے سبق کے مراکز و منابع پر تحقیقی مقالات کا سلسلہ شروع کریں تو خیبرپختونخوا کے پرانے تعلیمی نظام پر قابل قدرمواد فراہم ہوگا اس سلسلے میں صوبے کے جن نامور علمائے کرام کی سوانح عمریاں شائع ہوئی ہیں ان سے مددلی جاسکتی ہے ایک طالب علم چترال،گلگت، سوات یا وزیرستان سے روانہ ہو کر قریبی بستی میں کسی عالم کا گھر ڈھونڈتاتھادو سال یا تین سال وہاں لگا کر،ناظرہ قرآن، مننیتہ المصلّی کے اسباق میں کسی حد تک دسترس حاصل کرکے مزید کتابیں پڑھنے کے لئے آگے کسی اور عالم کے پاس جاتا تھا مثلا ً چترال سے یار حسین مردان، وہاں سے چکیسر سوات، پھر وہاں سے پوخ جو مات تہکال یا تالاب والی مسجد نمک منڈی وغیرہ جانا پڑتا تھا ہر جگہ مسافرطلبا کی رہائش اور خوراک کا انتظام استادصاحب کے ذمے ہوا کرتا تھا اور علما ئے کرام خندہ پیشانی سے یہ فریضہ انجام دیتے تھے اُس زمانے میں مکتب کا نظام نہیں تھا کوئی داخل، خارج کا ریکارڈ نہیں تھا، گلستان، بوستان، یوسف زلیخا ایک جگہ سے پڑھی، اصول الشاشی اور کافیہ کے لئے کسی اور جگہ کا رخ کیا وہاں جاکر استاد جی کو زبانی بتایا کہ یہ کتاب میں نے پڑھی ہے وہ کتاب میں نے پڑھنی ہے اس طرح بات دورہ اول اور دورہ آخر تک پہنچ جاتی تھی کوئی سند نہیں ہوتی تھی کوئی بڑا جلسہ نہیں ہوتا تھا دورہ آخر سے فارغ ہونے والے کو پگڑی پہنائی جاتی تھی اور دعادے کر رخصت کیاجاتا تھا،بہت کم لو گ پگڑی باندھنے تک سبق جاری رکھتے تھے گھریلو مسائل اوردیگروجوہات کی بناءپرچندکتابیں پڑھ کر گھروں کو واپس لوٹتے تھے اس وجہ سے نیم حکیم خطر ہ جان کے ساتھ نیم ملا خطرہ ایمان کا جوڑ لگا کر مقولہ ترا شاگیا گاوں میں نیم ملا کی آمد اور دستیابی ایک نعمت ہوا کرتی تھی وہ لوگوں کو نماز پنجگانہ پڑھانے کے ساتھ ساتھ گاوں کے بچوں کو قرآن ناظرہ بھی پڑھاتاتھا،جواُس زمانے میں بہت بڑی سہولت سمجھی جاتی تھی سبق کایہ منظر نامہ محنت، مشقت، ایثار، قربانی اور جذبہ خدمت کی بڑی بڑی مثالوں سے پُر ہے، علمائے کرام بے مثال قربانی دیکر اپنے گھر میں دور دور سے آئے ہوئے مسا فروں کو سبق پڑھاتے تھے کوئی چندہ اور کوئی جھنڈا نہیں تھا، کوئی نام، کوئی سائن بورڈ، کوئی اشتہار نہیں تھا، اخلاص کی فراوانی تھی اسی اخلاص کی وجہ سے اس خطے میں اسلامی تعلیمات کا چرچا ہوا، سبق کا دور دورہ ہوا سہولیات کے موجود ہ حالات میں وہ زمانہ خواب لگتا ہے۔

اس خبر پر اپنی رائے کا اظہار کریں

اپنا تبصرہ بھیجیں