تازہ ترین
آغا خان ایجوکیشن سروس چترال کے زیر انتظام اسکولوں کا ریجنل لیول ہم نصابی مقابلہ جات 2025 کی اختتامی تقریب

ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ آغا خان ایجوکیشن سروس تعلیم کے میدان میں جو خدمات انجام دے رہی ہے وہ قوم کے روشن مستقبل کی تشکیل میں انتہائی اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کا پروگرام دیکھ کر مجھے پورا یقین ہوگیا ہے کہ چترال کے بچے کسی بڑے شہر کے بچوں سے کسی بھی طرح کم نہیں، بلکہ کئی جہتوں میں اُن سے دو قدم آگے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہفتے کے روز بونی میں AKES,P کے زیرِ انتظام اسکولوں کے درمیان منعقدہ ریجنل لیول ہم نصابی کمپیٹشن 2025 کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
ڈپٹی کمشنر نے مزید کہا کہ اقوام کی ترقی میں تعلیم بنیادی ستون کی حیثیت رکھتی ہے، اور موجودہ دور میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تعلیم کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ انہوں نے بچوں کی کارکردگی کو قابلِ تعریف قرار دیتے ہوئے ادارے کی کوششوں کو بھی سراہا۔ اور کہا کہ کہ بچے ہمارے اثاثہ ہیں، ہمیں ان کی تعلیم و تربیت پر زیادہ سے زیادہ سرمایہ کاری کرنی چاہیے. ضلعی حکومت تعلیمی اداروں کے ساتھ مل کر ہر قسم کی بہتری کے لیے کوشش کرے گی.
آغا خان ایجوکیشن سروس کے زیر اہتمام ان ہم نصابی سرگرمیوں میں 10 کیٹیگریز کے مقابلے ہوئے جن میں حمد، نعت، ملی نغمہ، انگریزی اور اردو تقاریر اور انگریزی اور اردو مضمون نویسی انگریزی اور اردو خطاطی خطاطی اور تخلیقی آرٹ شامل تھے۔جن میں تینوں ریجنل سکول ڈویلپمنٹ یونٹس چترال، بونی، مستوج اور لوئر چترال کے دائرہ اختیار میں آنے والے سکولوں کے طلبہ نے شاندار کار کردگی کا مظاہرہ کیا ۔ ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان نے اس تقریب میں بطور مہمان خصوصی شرکت کی جب کہ صدرات کی کرسی پر صدارت کے فرائض اسماعیلی ریجنل کونسل اپر چترال جناب امتیاز عالم نے انجام دی ، دیگر مہمانوں میں سرکاری اور نجی دونوں شعبوں کے قابل ذکر مہمان شامل تھے۔پروگرام کا آغاز تلاوت کلامِ پاک سے ہوا، اس کے بعد نعت شریف اور ویلکم ٹیبلو پیش ہوئے.
جنرل منیجر اے کے ای ایس، پی، گلت بلتستان اور چترال بریگیڈیئر (ر) خوش محمد خان نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا اور مہمانوں کو خوش آمدید کہنے کے ساتھ ساتھ پروگرام کے اعراض و مقاصد بیان کیے.
انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ اے کے ای ایس پی ایک صدی سے زائد عرصے سے خطے میں معیاری تعلیم کے فروغ کے لیے خدمات انجام دے رہا ہے اور چترال میں اس کے 46 اسکولوں میں 15 ہزار سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہم نصابی سرگرمیوں میں طلبہ کی ریجنل لیول تک شاندار کامیابیاں AKES,P کے ہمہ جہت تعلیمی ماڈل کا ثبوت ہیں۔ سال 2025 میں چترال کے 60 فیصد طلبہ کو خطیر رقم کی مالی معاونت فراہم کی گئی، جبکہ اساتذہ کی تربیت، اعلیٰ معیار کی ECD، ICT و سائنس لیبز اور نصاب کی بہتری ادارے کی اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اے کے ای ایس چترال ریجن نے AKUEB کے امتحانات میں 80 فیصد A اور A+ گریڈز کے ساتھ بہترین کارکردگی دکھائی۔ جنرل منیجر نے اپنے خطاب میں مرحوم آغا خان IV کا قول بھی دہرایا کہ “اعلیٰ ترین معیار کی تعلیم میں سرمایہ کاری سے بڑھ کر کوئی سرمایہ کاری نہیں، یہی سرمایہ کاری پائیدار سماجی شعور کو جنم دیتی ہے۔” آخر میں انہوں نے والدین، کونسل کے عہدیداروں اور ضلعی انتظامیہ کے تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا.
تقریب کے کی نوٹ اسپیکر، اطرب اسکالر سید امیر شاہ نے اپنی تقریر میں اسلامی تعلیمات اور قرآنی احکامات کی روشنی میں علم و تعلیم کی اہمیت پر مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام نے انسان کی پہلی شناخت ہی اقرأ یعنی "پڑھو” کے حکم سے قائم کی، جو اس بات کی دلیل ہے کہ علم کا سفر کسی ایک مقام پر ٹھہرنے کے بجائے عمر بھر جاری رہنے والا سفر ہے۔ ان کے مطابق تعلیم کی کوئی حد نہیں —بلکہ ماں کی گود سے گور تک علم حاصل کرتے رہنا چاہیے.
سید امیر شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ اخلاقِ حسنہ تعلیم کی روح اور اس کی تکمیل ہے۔ علم کا اصل فائدہ تبھی ظاہر ہوتا ہے جب وہ انسان میں شائستگی، برداشت، انصاف، سچائی اور خدمتِ خلق کے جذبات پیدا کرے۔ انہوں نے کہا کہ جدید دور میں جہاں تعلیم کے مختلف شعبے تیزی سے پھیل رہے ہیں، وہاں بچوں اور نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت، کردار سازی اور اقدار کی حفاظت کو اولین ترجیح بنانا ناگزیر ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ AKES,P کے ادارے نہ صرف معیاری تعلیم دیتے رہیں گے بلکہ آنے والی نسلوں کی اخلاقی تربیت میں بھی اپنا اہم کردار ادا کریں گے۔
صدرِ محفل نے صدارتی خطبے میں جدید تعلیم کی اہمیت پر زور دیا اور اس کے حصول کے لیے اے کے ای ایس پی کی کاوشوں کو سراہا.
آخر میں مختلف ادبی مقابلہ جات کے نتائج کا اعلان کیا گیا. جن کی تفصیل ذیل ہے.
حمد خوانی کے مقابلے میں اے کے ایس ریچ کے طالب علم حافظ علی سید ، نعت میں اسنیہا مرزا اے کے ایس آرکاری، ملی نغمے میں راحت عزیز اور ہمنوا اے کے ایس مدک لشٹ ، انگریزی کیلیگرافی میں قیصر اے کے ایس بریپ، اُردو کیلیگرافی میں انوشہ سید اے کے ایس شاہ، انگریزی مضمون نگاری احسانہ ولی اے کے ایس سوسوم، اردو مضمون نگاری نلمہ جہاں اے کے ایس مداک لشٹ، انگریزی تقریر میں مسکان علی، اے کے ایس چپاڑی، اردو تقریر میں سمیہ کلثوم اے کے ایس ریچ، تخلیقی آرٹ میں ایزان علی اے کے ایس بوزند نے پہلی پوزیشن حاصل کی.
اختتامی سیگمنٹ میں تمام شریک طلباء کو ان کی کارکردگی کے اعتراف میں شیلڈز اور اسناد سے نوازا گیا.



