تازہ ترین

کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن لوئر چترال کی جانب سے مسلسل دباؤ، بے بنیاد پروپیگنڈہ اور غلط الزامات دراصل اُن بے قاعدگیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے فضل الرحمن

چترال(نمائندہ )جے یو آئی خیبر پختونخوا کے صوبائی جنرل کونسل کے ممبر اور پولیٹیکل پارٹیز اسٹیرنگ کمیٹی کے سابق جنرل سیکرٹری فضل الرحمن نے محکمہ ایریگیشن چترال میں ہونے والے حالیہ ٹینڈرنگ کے حوالے سے پھیلائی جانے والی غلط فہمیوں اور بے بنیاد الزامات کو مستردکرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمے نے مکمل شفافیت، ایمانداری اور سرکاری ضوابط کے مطابق فیصلہ سازی کی ہے جو کہ قابلِ تعریف اور لائقِ تحسین ہے۔ قومی وطن پارٹی کے ضلعی صدر شجاع الرحمن کی معیت میں اتوار کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کنٹریکٹرز ایسوسی ایشن لوئر چترال کی جانب سے مسلسل دباؤ، بے بنیاد پروپیگنڈہ اور غلط الزامات دراصل اُن بے قاعدگیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش ہے جو وہ گزشتہ کئی سالوں سے باہمی بندر بانٹ، کمپرومائز اور مک مکا کے ذریعے کرتے آئے ہیں جبکہ انہی ناجائز ہتھکنڈوں کی وجہ سے متعدد اہم میگا اسکیمیں تاخیر اور ناکامی کا شکار رہیں۔انہوں نے کہاکہ جب محکمہ ایریگیشن چترال نے انصاف، قواعد اور میرٹ کے مطابق ٹینڈرنگ کی اور مخصوص گروہوں کے غیر قانونی اتحاد کو مسترد کیاتو یہی مافیا اب ادارے کو بدنام کرنے پر تُلا ہوا ہے اور یہ رویہ چترال کے عوام کے ساتھ زیادتی، ترقی کے راستے میں رکاوٹ اور ادارہ جاتی شفافیت کے خلاف کھلی سازش ہے۔
انہوں نے کہاکہ سیاسی کارکن ہونے کے ناطے وہ اچھی حکمرانی اور انصاف کی ہر کوشش کی حمایت کرتے ہیں اور اس موقع پر پاکستان تحریکِ انصاف کے منتخب ممبران صوبائی اسمبلی بشمول ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر اور ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی کے مثبت روئیے کو سراہتے ہیں جنہوں نے ادارے کی شفافیت کی حمایت کی یہ ایک مثبت قدم ہے جسے تحسین کی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔
انہوں نے ایم پی اے فاتح الملک علی ناصر اور ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا ثریا بی بی سے پُرزور اپیل کی کہ وہ شفافیت کے اس عمل کی حمایت کریں، اور کنٹریکٹر ایسوسی ایشن کے اُن عناصر کو بے نقاب کرنے میں اپنا کردار ادا کریں جو بے قاعدگیوں کے ذریعے اداروں پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چترال کی ترقی میرٹ، قانون اور شفافیت سے ہی ممکن ہے اور ر محکمہ ایریگیشن چترال نے اس راہ پر بہترین مثال قائم کی ہے،تمام دوسرے تعمیراتی ادارے ایگزیکٹو انجینئر ایریگیشن کی تقلید کریں جس نے دباؤ اور لالچ میں آنے کی بجائے میرٹ اور شفافیت کے لئے کام کیا جس سے عوام میں ان کی قدر بڑھ گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button