
"جہان خیال”
ثقافت اور اسلام — دو الگ حقیقتیں
ثقافت کو دین سے ملانا ایک فکری مغالطہ
تحریر: عتیق الرحمن
اسلام ایک الہامی دین ہے، جس کی بنیاد قرآن و سنت اور آفاقی اخلاقی اصولوں پر قائم ہے، جبکہ ثقافت انسانی معاشروں کی پیدا کردہ رسموں، روایتوں اور عادات کا مجموعہ ہوتی ہے۔ اسلام زمان و مکان سے ماورا ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، مگر ثقافت وقت، حالات اور جغرافیے کے ساتھ بدلتی رہتی ہے۔ اس لیے کسی مخصوص علاقے کی ثقافت کو دین کا لازمی حصہ سمجھ لینا دین کی آفاقیت کو محدود کرنے کے مترادف ہے۔ دین معیار ہے، ثقافت کو اس معیار پر پرکھنا چاہیے، نہ کہ اس کے برعکس۔
چترال جیسے روایتی معاشروں میں شادی بیاہ اور خوشیوں کے موقع پر اکثر ثقافت دین پر غالب آ جاتی ہے۔ نکاح، جو اسلام میں ایک سادہ اور بابرکت عبادت ہے، رسم و رواج کے بوجھ تلے دب جاتا ہے۔ منگنی یا بیٹے یا بیٹی کی خوشخبری پر دونوں خاندانوں کے اجتماعی طور پر خواتین وغیرہ کو بلانا، مبارک باد دینے کے لیے اجتماع کرنا، معیشت اور وقت ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ وراثت میں عورت کو اس کے قرآنی حق سے محروم کرنا، بیٹی یا بہن سے روایت کے نام پر دستبرداری لینا نہ دینی ہے نہ اخلاقی، بلکہ کھلا ظلم ہے جسے مذہبی خاموشی کے ذریعے تسلیم کر لیا جاتا ہے۔
موت اور غمی کے مواقع پر بھی ثقافت دین پر غالب نظر آتی ہے۔ وفات کے بعد تین دن تک گھر کی صفائی کو ناپاک سمجھنا، تیسرے دن بڑے صدقے اور چالیس دن تک ہفتہ وار صدقات کا اہتمام، ایام کو اچھا یا برا جاننا، یا غمی میں سفر کو منحوس تصور کرنا—یہ سب اسلام میں کوئی جواز نہیں رکھتے۔ حج یا عمرہ کے بعد مبارک باد دینے کی رسم بھی عبادت کو رسمی مصروفیت میں بدل دیتی ہے، وقت ضائع ہوتا ہے اور روحانی اثر کمزور پڑ جاتا ہے، حالانکہ اسلام سادگی اور اخلاص کو ترجیح دیتا ہے۔
اسلام اصولوں کا دین ہے، رسموں کا نہیں۔ آسانی، عدل اور اعتدال اس کا پیغام ہے۔ اگر کوئی ثقافتی روایت ان اصولوں سے ہم آہنگ ہو تو قابل قبول ہے، مگر جو روایت دین کے مقابل کھڑی ہو، وہ چاہے کتنی ہی قدیم کیوں نہ ہو، دینی نہیں۔ ہر معاشرے کو یہ فکری جرات پیدا کرنی ہوگی کہ وہ اپنی ثقافت کو قرآن و سنت کی کسوٹی پر پرکھے۔ ثقافت محترم ہو سکتی ہے، مگر دین نہیں۔ اسلام کو ثقافتی اضافوں سے پاک کر کے سمجھنا ہی اصل دین داری ہے، اور یہی انسانی زندگی کو روشن، آسان اور روحانی اثر سے بھرپور بناتا ہے۔



