99

شندور تنازعہ۔۔۔۔حمزہ گلگتی

logo
حقائق کو بزورِ طاقت تبدیل کرنا شاید روئے زمین میں کہیں کسی کے بس کی بات نہ ہو،البتہ کچھ وقت کے لئے حقائق پر پردہ ڈالا جاسکتا ہے وہ بھی طاقت کے بل بوتے پر۔حقائق کو جھٹلایا جانا بھی کہیں ممکن نہ رہا مگراپنے مفادات کے لئے اس کی کوششیں ہر دور میں کی جاتی رہیں ہیں۔تاریخی حقائق سے نا بلد عیار لوگ اپنے جھوٹے فلسفوں سے عوامی راہ ہموار کرنے کے لئے اس جھوٹ کے گھوڑے پر ہمیشہ چابکدستی سے سوار ہوتے رہے ہیں،افواہیں پھیلاتے رہے ہیں،حقائق کو مسخ کر کے مرضی کے نہ صرف عیارانہ فلسفے جھاڑتے رہے ہیں بلکہ کچھ وقت کے لئے من مانے نتائج بھی حاصل کرتے رہے ہیں۔مگر یہ اٹل حقیقت کب کسی سے چھپی رہی ہے کہ ایسی عیارانہ کوششوں کا پردہ بعد کے بے باک مؤرخوں نے ہمیشہ فاش کی ہیں۔
تاریخ کے ایک جھوٹ میں شندور تنازعہ بھی شامل رہا ہے۔ جب سے ہم نے شعور سھنبالا ہے تب سے یہ جھوٹ بولنے کا سلسلہ یوں ہی چلتا آ رہا ہے مگر اس کے لئے سنجیدہ کوشش نہ کبھی کی گئی ہے اور نہ اس بارے میں کبھی کسی کی سنجیدہ کوشش کے بارے سنا گیاہے۔معاملات کو خرابی تک پہنچاکر اس کے حل کے بارے سوچنادانائی نہیں بلکہ حماقت ہے۔ہمارا وطیرہ معاملات کی خرابی کے بعد اس کے حل تلاش کر نے والوں کا سا ہی رہا ہے۔جب کبھی کوئی معمولی کوشش نظر آتی بھی ہے تو تب جب دنیا کے اس تاریخی بلند ترین پولو گراؤنڈ میں ہونے والے پولو فیسٹیول کا وقت عین سر پر پہنچ جاتا ہے۔ کون نہیں جانتا کہ ہمارے ملک کی روایت ہی یہ رہی ہے کہ جب تک معاملہ آخری حدوں کو نہیں چھوتا تب تک نہ اس کی نزاکت کو سمجھنے کی شعوری کوشش کی جاتی ہے اور نہ ہی اس کے حل کی کوئی سبیل نکالی جاتی ہے۔
ان دنوں شندور کے معاملے پر تنازعاتی بیانات کا سلسلہ جاری ہے۔ہمیشہ عین وقت پر ہی اس تنازعے کے حل کی یاد انہیں کیوں ستاتی ہے یہ ہم سمجھ نہیں سکے۔ شندور تاریخی طور پر غذر کا حصہ رہا ہے یہ فلسفہ ہم کب سے سن رہے ہیں۔لیکن ایک سوال اٹھانا عوام کا حق ہے کہ اگر مقتدر حلقوں کے پاس اس کا ثبوت ہے تو اُن ٹھوس ثبوتوں کی بناء پر اس معاملے کا مضبوط کیس کیوں نہیں لڑتے ؟یہی فلسفہ کے پی کے حکومتیں بھی جھاڑتے رہے ہیں۔اگر اس جھوٹ کا ان کے پاس کوئی ثبوت ہیں تو ٹھوس مقدمہ لڑکر تنازعے کو حل کیوں نہیں کرتے ہیں؟کیوں اس معاملے کا سنجیدہ حل تلاش نہیں کیا جاتا ؟چند دن پہلے کی خبر تھی جو ہمارے پارلیمانی رہنماؤں نے داغی تھی کہ شندورمیلے کا تنازعہ برابری کی بنیاد پر حل ہوا ،میلے میں میزبانی کا شرف گلگت بلتستان حکومت کو بھی ملے گی۔مگر آج کی خبریں توچونکا دینے والی ہیں۔خبر کے مطابق گلگت بلتستان ؍غذر انتظامیہ بطور مہمان شریک ہونگے۔ مہمانوں کو دعوت نامے چترال انتظامیہ جاری کرے گی۔ سپاسنامہ بھی چترال انتظامیہ پیش کرے گی جس میں گلگت کا بھی ذکر ہوگا۔ عوام اس معاملے میں بہت جذباتی ہیں۔ خدشہ ہے کہیں کوئی تصادم نہ ہو۔ضلع غذرپھنڈر کے عوام اس معاملے میں ہمیشہ سے ہی جذباتی رہے ہیں۔اپنے حق کے لئے کون جذباتی نہیں ہوگا۔ہمارے بوڑھوں کا کہنا ہے کہ شندور ہمیشہ سے غذر کا چراگاہ رہا ہے۔اس پر چترال کا کوئی حق نہیں۔یقیناََ باؤنڈری ڈیل کرنے والی انتظامیہ کے پاس بھی اس کا کچھ ثبوت ہوگا۔جس کا دعویٰ بھی کیا جاتا رہا ہے۔کیوں نہ ان دستاویزات کو لیکر چترال انتظامیہ کے ساتھ دوٹوک بات کی جائے؟ یہ بات سب کو سمجھ آجاتی ہے کہ شندور میلے کا نہ ہونا ہر دو فریقوں میں سے کسی کے بھی مفاد میں نہیں۔اس سے دونوں طرف عوام محروم ہونگے۔شندور میلے سے دونوں طرف کے عوام کو کئی فوائد حاصل ہوتے ہیں۔دونوں طرف کے انتظامیہ کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے سیاحوں کی آمد رک جاتی ہے جو کسی بھی طرح نقصان سے کم نہیں۔بچپن کے واقعات ہمیں یاد ہیں جب پھنڈر کے عمائدین شندور جا کر ان تعمیرات کو مسمار کئے تھے جو چترال کی طرف سے تعمیر کرنے کی کوشش کی گئیں تھیں۔یہ اُن دنوں کی بات ہے جب سہولیات کی کمی تھی۔روڈ خراب اور ٹرانسپورٹ کے مسائل تھے۔تب عوام جوں توں شندور پہنچ کر تعمیرات اُکھاڑ دئے تھے تو اب کوئی وجہ نہیں کہ عوام شندور جا کر چترال کی جانب سے تعمیر کئے گئے تعمیرات کو ختم کر دے اور اس طرح کوئی تصادم نہ ہو۔اس کا اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ نوجوانوں کو لیکرشندور کی طرف پیش قدمی کی جائیگی اگر ایسا ہوتا ہے تو یہ بہت باعثِ نقصان ہوگا ۔ بعض لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ چترال سکاؤٹس نے شندور میں چھاؤنی تعمیرکی ہیں۔یہ غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔اصل حقائق یہ ہیں کہ اس چھاؤنی کی تعمیر جنرل ضیاء الحق کے دور میں کی گئیں تھیں۔مدعا یہ تھا کہ باہر سے آئے ہوئے مہمان یا ملکی اعلیٰ عہدیداروں کی وہاں ضیافت کی جا سکے۔مگر بعد میں چترال سکاؤٹس نے اس پر قبضہ جما یا۔ اس سلسلے میں یہ بھی عرض ہے کہ چترال سکاؤٹس کے نوجوان اس ملک کے فورسس کا حصہ ہیں۔وہ ان علاقوں کی حفاظت کرتے ہیں۔اُن کے وہاں تعیناتی کا مقصد یہ تو نہیں کہ وہ ان علاقوں کو اپنی ملکیت سمجھے۔پاک فوج کے جوان ہر جگہ ہیں اور ملک کے چپے چپے کی حفاظت پر مامور ہیں۔کبھی ان کے مقاصد میںیہ شامل نہیں رہا کہ وہ اُن علاقوں کو اپنی ملکیت سمجھا ہو۔
کے پی کے حکومت کو تحمل سے کام لینا ہوگا۔اپنی من مانی سے مسائل پیدا ہونے کے خدشات ہیں۔ گلگت بلتستان کے سابق حکومتوں کی سستی سے فائدہ اُٹھا کر شندور کو اپنی ملکیت سمجھنا حقائق مسخ کرنے کے مترادف ہے۔یہ مزاج تبدیل کرنا ہوگا کہ گلگت بلتستان کے جن حدود میں معاشی فوائد نظر آجائے تو وہاں روڑے اٹکا کر مسائل پیدا کرنے کی کوشش کی جائے۔ ایک طرف شندور اور دوسری طرف دیامر بھاشا ڈیم کے فوائد نظر آنے پروہاں کے حدود میں مداخلت فساد کروانے کے مترادف ہے۔ان سے گریز ہی سب کے مفاد میں ہیں۔
شندور تنازعے کے سلسے میں کچھ نگارشات یہاں پیش کی جاتی ہے؛
۱۔تاریخی حقائق کی بنیاد پر شندور کے حدود کا تعین فوراََ کیا جائے۔ اس کے لئے ماہرین کی ایک ٹیم تشکیل دی جائے جن کا تعلق ملک کے دوسرے صوبوں سے ہوں البتہ گلگت بلتستان اور کے پی کے حکومتوں کے نمائندے اس میں شامل ہوں۔یہ فیصلہ خوش کرنے کی بنیاد پر شندور کی تقسیم پر منتج نہ ہو بلکہ تاریخی حقائق کی بنیاد پر جس کا ہے اس کو ملنی چاہئیے۔
۲۔حکومتِ پاکستان اِس کو اپنی تحویل میں لے اورہر سال شندور میلے میں دونوں طرف کے انتظامیہ کو برابری کی سطح پرنمائندگی کو یقینی بنائی جائے۔
۳۔شندور میلے کے انتظامات کو دیکھنے کے لئے دونوں طرف سے برابربرابرنمائندوں کا انتخاب ہو۔
۴۔ حکومت شندورمیں تنازعے کے حل تک کسی بھی قسم کی تعمیرات کوروکے ۔ذرائع کے مطابق اس طرح کے احکامات پہلے بھی دی گئیں تھیں مگر چترال انتظامیہ ان کو خاطر میں لائے بغیرتعمیرات کر رہی ہے۔
اس مضمون کے لکھنے تک اطلاعات آئیں کہ شندور تنازعے کا حل اس طرح نکالا گیا ہے کہ اُنتیس جولائی کو شروع ہونے والی میلے کی سیکورٹی ایف سی کے حوالے کر دی گئیں ہیں، تاہم انتظامات کے بارے ابھی تک کسی واضح فیصلے کے بارے کوئی حتمی اطلاع نہیں۔
امید یہ ہے کہ کسی تنازعے اور بد نظمی کے بغیر میلے کا انعقاد ہوگا۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں