ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال کے ای این ٹی وارڈ میں چھ دن — ایک دل کو چھو لینے والا تجربہ تحریر: ابوسلمان

انسان جب بیماری کی کیفیت میں کسی ہسپتال کا رُخ کرتا ہے تو وہ صرف علاج نہیں، بلکہ ہمدردی، توجہ اور اعتماد کی تلاش میں ہوتا ہے۔ ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال کے ای این ٹی وارڈ میں بیٹے کے علاج کے سلسلے میں گزارے گئے چھ دن میرے لیے محض علاج کے دن نہیں تھے، بلکہ یہ ایک ایسا انسانی اور اخلاقی تجربہ تھا جو مدتوں یاد رہے گا۔
اس وارڈ میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلی چیز جو دل کو بھا گئی، وہ تھی سکون اور صفائی کا ماحول۔ بستر، فرش، کمرے اور باتھ رومز—ہر چیز میں ایک نظم و ضبط اور ستھرائی جھلک رہی تھی جو کسی بھی مریض کے دل میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔ بیماری میں مبتلا انسان کے لیے صاف ستھرا ماحول کسی دوا سے کم نہیں ہوتا، اور یہ سہولت یہاں بھرپور انداز میں میسر تھی۔
ای این ٹی وارڈ میں خدمات انجام دینے والے معزز ڈاکٹروں کا رویہ نہایت شائستہ، مشفق اور پیشہ ورانہ تھا۔
ڈاکٹر فاروق صاحب، ڈاکٹر محمود عالم صاحب اور ڈاکٹر صہیب صاحب نہ صرف اپنے فن میں ماہر نظر آئے بلکہ ان کی گفتگو میں وہ شفقت اور اخلاص بھی تھا جو کسی مریض کو حوصلہ دیتا ہے۔ وہ مریض کو محض ایک کیس نہیں بلکہ ایک انسان سمجھ کر سنتے، سمجھاتے اور تسلی دیتے تھے۔ ان کی مسکراہٹ اور نرم لہجہ مریض کے خوف کو خود بخود کم کر دیتا تھا۔
اسی طرح مختلف شفٹوں میں وارڈ میں ڈیوٹی انجام دینے والا عملہ—نرسز، اٹینڈنٹس اور دیگر اسٹاف—انتہائی مہذب، تعاون کرنے والا اور خوش اخلاق تھا۔ کوئی مریض کسی بھی وقت مدد کے لیے آواز دیتا، فوراً کوئی نہ کوئی حاضر ہو جاتا۔ نہ چہرے پر ناگواری، نہ لہجے میں سختی—بلکہ خدمت کو عبادت سمجھنے والا انداز۔
یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ یہ وارڈ صرف ایک علاج گاہ نہیں بلکہ ایک ایسا ادارہ ہے جہاں انسانیت، اخلاق اور خدمت کا حسین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہاں مریض کو یہ احساس نہیں ہونے دیا جاتا کہ وہ تنہا ہے؛ ہر لمحہ کوئی نہ کوئی اس کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال کے ای این ٹی وارڈ کی یہ کارکردگی واقعی قابلِ تحسین ہے۔ ایسے ڈاکٹرز اور عملے پر پورا ضلع ہی نہیں بلکہ پورا صوبہ فخر کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان سب کو جزائے خیر دے اور انہیں مزید اخلاص اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔



