نیا سال، نیا عزم خود سے کی گئی ایک مقدس قرارداد……تحریر:ابوسلمان

انسان دنیا کی سب سے عجیب مخلوق ہے؛ دوسروں سے تو وعدے کر لیتا ہے مگر خود اپنے آپ سے عہد کرنے سے گھبراتا ہے۔ سال کا اختتام ہمیں آئینہ دکھانے آتا ہے، اور نیا سال ہمیں نیا راستہ اختیار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔
اصل کامیابی آتش بازی میں نہیں، بلکہ اپنے باطن کی اصلاح میں ہے۔ اصل جشن موبائل کی اسکرین پر نہیں، بلکہ سجدے کی ٹھنڈک میں ہے۔ آج ہم کسی اور کو بدلنے نہیں، بلکہ خود کو بدلنے کا عزم کریں۔
2025 ہماری لغزشوں، غفلتوں اور کوتاہیوں کا گواہ ہے۔ کتنی نمازیں قضا ہوئیں، کتنے قرآن بند الماریوں میں رہے، کتنے دل ہماری زبان سے زخمی ہوئے، اور کتنی دعائیں سستی کے بوجھ تلے دب گئیں۔ مگر اللہ کا کرم یہ ہے کہ وہ ماضی کو توبہ سے دھو دیتا ہے، اور مستقبل کو امید سے روشن کر دیتا ہے۔ آج ہم اس کے در پر ہاتھ اٹھا کر کہتے ہیں:
اے ربِّ کریم! جو ہو گیا، اسے معاف فرما دے، اور جو آنے والا ہے، اسے ہماری اصلاح کا ذریعہ بنا دے۔
یہ سال ہمارے لیے توحید اور سنت سے وابستگی کا سال ہوگا۔ ہم اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے حکم کو زندگی کا مرکز بنائیں گے۔ بدعت کے اندھیروں اور شرک کی گمراہیوں سے اپنے ایمان کی حفاظت کریں گے۔ ہم صرف نام کے نہیں، عمل کے مسلمان بننے کی کوشش کریں گے۔
ہم نماز کو وقت پر، باجماعت اور خشوع کے ساتھ ادا کرنے کا عزم کریں گے، کیونکہ نماز ہی وہ رسی ہے جو بندے کو آسمان سے جوڑتی ہے۔ ہم قرآن کو طاقچوں سے نکال کر دلوں میں اتاریں گے۔ روزانہ تلاوت، فجر کے بعد یٰس اور رحمن، اور عشاء کے بعد ملک اور سجدہ—یہ صرف اوراد نہیں، بلکہ روح کی غذا ہیں۔
ہم والدین کے قدموں میں جنت تلاش کریں گے، ان کی دعاؤں کو اپنی کامیابی کی کنجی بنائیں گے، اور ان کی دل آزاری سے ایسے بچیں گے جیسے آگ سے بچا جاتا ہے۔ ہم اپنی زبان کو پاک رکھیں گے، کیونکہ ایک بے قابو لفظ برسوں کے رشتے جلا دیتا ہے۔ گالی، جھوٹ، فحش کلامی اور جھوٹی قسمیں ہمارے کردار پر دھبہ ہیں، جن سے ہم دامن بچائیں گے۔
ہم غیبت، چغلی، بغض، کینہ اور بہتان جیسے زہریلے کانٹوں کو دل کے باغ سے نکال پھینکیں گے۔ ہم پڑوسیوں کے حقوق ادا کریں گے، انسان تو انسان، جانوروں تک کو اذیت دینے سے گریز کریں گے، کیونکہ رحمت صرف انسانوں کے لیے نہیں، پوری مخلوق کے لیے ہے۔
ہم نیکی میں سبقت لیں گے، اور برائی سے صرف خود نہیں، دوسروں کو بھی بچانے کی کوشش کریں گے۔ ہم علماء، قراء اور اہلِ علم کا احترام کریں گے، کیونکہ یہی چراغ امت کے اندھیروں میں روشنی بانٹتے ہیں۔ ہم کسی کا نام بگاڑ کر نہیں، بلکہ عزت دے کر پکاریں گے، کیونکہ نام انسان کی شناخت اور وقار ہوتا ہے۔
آخر میں، اصل بات یہ نہیں کہ ہم نے کیا لکھا یا کہا، بلکہ یہ ہے کہ ہم نے کیا بدلا۔
اگر ہر شخص آج اپنے دل کے کٹہرے میں کھڑا ہو کر اپنا احتساب کر لے، تو 2026 صرف نیا سال نہیں، بلکہ نئی زندگی بن سکتا ہے۔
اے اللہ! ہمیں توحید پر زندہ رکھ، سنت پر چلا، اور نیک اعمال کے ساتھ اس دنیا سے اٹھا۔
آمین یا ربّ العالمین 🤲


