تازہ ترین
وزیر اعلیٰ کی زیر صدارت ضلع باجوڑ اور کرم کے پارلیمنٹیرینز، قبائلی مشران اور عمائدین پر مشتمل دو الگ الگ جرگے وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد

وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نےوزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت ضلع باجوڑ اور کرم کے پارلیمنٹیرینز، قبائلی مشران اور عمائدین پر مشتمل دو الگ الگ جرگے وزیر اعلیٰ ہاوس پشاور میں منعقد ہوئے جن میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، پاک افغان تعلقات میں بہتری، عوامی مسائل، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ترقیاتی حکمت عملی پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
جرگے کے شرکاءنے وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی پر بھرپور اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے صوبائی حکومت کے ساتھ مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر شرکائ نے باجوڑ اور کرم سمیت ضم اضلاع میں مستقل امن کے قیام کے لیے مختلف تجاویز بھی پیش کیں۔
وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے جرگے سے خطاب کرتے ہوئے باجوڑ میں جزوی طور پر متاثرہ گھروں کی تعمیر نو کے لیے امدادی رقم ایک لاکھ 60 ہزار روپے سے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے کرنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں امن کے قیام کے لیے قبائلی مشران، عوام، پولیس اور سکیورٹی فورسز نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اور 2018 میں انہی قربانیوں کے نتیجے میں ملک میں مکمل امن قائم ہو چکا تھا، تاہم اب حالات کو جان بوجھ کر خراب کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ بند کمروں میں کیے گئے فیصلوں سے ہمیشہ حالات بگڑے ہیں جبکہ امن و امان کے قیام کا موثر طریقہ یہ ہے کہ قبائلی مشران اور صوبائی حکومت کو اعتماد میں لے کر اجتماعی فیصلہ سازی کی جائے۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ صوبائی حکومت کسی بھی ناکام پالیسی کا حصہ نہیں بنے گی۔ محمد سہیل آفریدی نے باجوڑ کے عوام اور قبائلی مشران کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ امن و امان کے قیام کے لیے ان کی خدمات قابلِ ستائش ہیں۔ انہوں نے فاٹا انضمام کے موقع پر کیے گئے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس وقت 100 ارب روپے سالانہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا، مگر گذشتہ سات سالوں میں صرف 168 ارب روپے دیے گئے جبکہ 532 ارب روپے وفاق کے ذمے بقایا ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے ضم اضلاع میں پولیس بھرتیوں کے لیے عمر کی آخری حد بڑھانے، باجوڑ کے شہداء پیکج پر کام تیز کرنے اور امن و قومی ترقی میں اہم کردار ادا کرنے والے قبائلی مشران کو سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ روشن قبائل پیکج کے تحت ضم اضلاع میں موجودہ اسکولوں اور اسپتالوں کی بہتری کو یقینی بنایا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ صوبائی حکومت ضم اضلاع میں پائیدار امن، ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گی۔
محمد سہیل آفریدی نے ضلع کرم کے بے گھر ہونے والے افراد کے مسائل کے حل کے لیے جلد ضلع کرم کا دورہ کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ انہوں نے کرم سے نقل مکانی کرنے والے گھرانوں کی رجسٹریشن ایک ہفتے میں مکمل کرنے جبکہ رجسٹرڈ گھرانوں کو معاوضوں کی ادائیگی بھی ایک ہفتے میں یقینی بنانے کی ہدایت کی ہے اور کہا کہ تیراہ کے متاثرین کو دی جانے والی رقم دیگر اضلاع کے آئی ڈی پیز کو بھی فراہم کی جائے گی۔ وزیر اعلیٰ کا کہنا تھا کہ کرم میں تباہ ہونے والے دکانوں کی مد میں معاوضوں کی ادائیگی بھی جلد فراہم کی جائے گی۔ ضم اضلاع میں یوتھ انگیجمنٹ پروگرام پر 6 ملین روپے خرچ کیے جائیں گے۔ وزیر اعلیٰ نے ضلع کرم کے حالات میں بہتری کے لیے قومی مشران کے ذمہ دارانہ اور مثبت کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ فرقہ وارانہ کشیدگی سے صرف تباہی جنم لیتی ہے اور اس کا فائدہ ہمیشہ دشمن عناصر اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ باہمی اتحاد، برداشت اور یکجہتی ہی امن و استحکام کی ضمانت ہیں، اور ہمیں اختلافات کو پس پشت ڈال کر مشترکہ ترقی کے ایجنڈے پر آگے بڑھنا ہوگا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ قبائلی عوام نے اپنے طرزِ عمل اور فیصلوں سے یہ ثابت کر دیا ہے کہ ان کے بارے میں برسوں سے پھیلایا گیا منفی اور گمراہ کن بیانیہ حقیقت کے منافی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ بدامنی کے نتیجے میں ہونے والے دکھ اور مشکلات کو بخوبی سمجھتے ہیں اور اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپنے عوام کو کسی بھی مرحلے پر اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تشدد اور بندوق مسائل کا حل نہیں، اب وقت آ گیا ہے کہ بندوق کے بجائے قلم کو اپنایا جائے۔ تعلیم، شعور اور مکالمہ ہی پائیدار امن کا راستہ ہیں، اور قلم کو ہی ہم اپنا اصل ہتھیار بنائیں گے تاکہ آنے والی نسلوں کو ایک محفوظ اور روشن مستقبل دیا جا سکے۔ معاون خصوصی برائے اطلاعات و تعلقات عامہ شفیع جان، چیف سیکرٹری شہاب علی شاہ ، ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ محمد عابد مجید ، سیکرٹری ریلیف محمد سہیل اور دیگر متعلقہ حکام بھی جرگوں میں شریک ہوئے۔




