تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم* *خیبرپختونخوا اور چترال کے تناظر میں ایک فکری ضرورت* تحریر: ابوسلمان

علم انسان کی فکری تربیت، سماج کی تعمیر اور قوموں کی بقا کا بنیادی ستون ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ صرف علم ہی کافی نہیں، بلکہ وہ علم جو اخلاق سے خالی ہو، اکثر تباہی کا پیش خیمہ بن جاتا ہے۔ آج یہی المیہ ہمارے تعلیمی نظام، خصوصاً خیبر پختونخوا جیسے روایتی، دینی اور سماجی اقدار رکھنے والے خطے میں، واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے۔
خیبر پختونخوا، بالخصوص چترال، ہمیشہ سے سادگی، باہمی احترام، رواداری اور مضبوط خاندانی نظام کی علامت رہا ہے۔ یہاں بزرگوں کا احترام، پڑوسیوں کا خیال، مہمان نوازی اور حیا معاشرتی شناخت سمجھی جاتی تھی۔ اسکول کم تھے، وسائل محدود تھے، مگر اخلاق عام تھے۔ بچے کم تعلیم یافتہ سہی، مگر بدتمیز، بدزبان اور بے خوف نہیں تھے۔
سادہ تھا سماج، مگر دل کشادہ تھے
کم تھے وسائل، مگر رشتے زیادہ تھے
نہ درس گاہوں کی قطاریں تھیں
مگر کردار، خود نصاب بنے ہوئے تھے
وقت بدلا، تعلیم کے دروازے کھلے، اسکول، کالج اور جامعات کی تعداد بڑھی، جو یقیناً خوش آئند ہے۔ مگر اسی کے ساتھ ایک خاموش تبدیلی نے جنم لیا۔ نئی نسل نے ڈگریاں تو حاصل کیں، مگر تہذیب، تحمل اور برداشت پیچھے رہ گئے۔ آج چترال جیسے پُرامن خطے میں بھی بدزبانی، عدم برداشت، نشہ آور عادات، والدین سے بدتمیزی، اساتذہ کی بےادبی اور سماجی بے حسی جیسے رویے سر اٹھا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ تعلیم کیوں پھیلی، سوال یہ ہے کہ اخلاق کیوں سکڑ گئے؟
یہ تلخ حقیقت ہے کہ خیبر پختونخوا میں بڑھتے ہوئے جرائم، بدعنوانی، تشدد اور معاشرتی بگاڑ کے کئی واقعات میں تعلیم یافتہ افراد ملوث پائے جاتے ہیں۔ قانون جاننے والا قانون توڑ رہا ہے، شعور رکھنے والا ضمیر بیچ رہا ہے۔ اس کا سبب یہی ہے کہ ہماری درس گاہوں نے ذہن تو بنائے، دل بنانا بھول گئیں۔
قلم تو ملا، مگر حیا نہ ملی
کتاب تو پڑھی، مگر وفا نہ ملی
یہ کیسا علم ہے اے دورِ جدید
جو انسان کو انسان سے جدا کر دے
ایسے میں وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا یہ اعلان کہ خصوصاً پرائمری سطح پر اخلاقیات کی تعلیم کو باقاعدہ نصاب میں شامل کیا جائے گا، ایک نہایت بروقت، دور اندیش اور اصلاحی قدم ہے۔ خیبر پختونخوا جیسے معاشرے میں، جہاں بچے فطرت کے قریب، مگر جدید اثرات کے نرغے میں ہیں، اخلاقی تعلیم انہیں بگاڑ کے سیلاب سے بچانے کا مضبوط بند ثابت ہو سکتی ہے۔
چترال کے پہاڑی علاقوں میں رہنے والا بچہ اگر شروع ہی سے یہ سیکھ لے کہ سچ بولنا طاقت ہے، بڑوں کا احترام عزت ہے، کمزور کا ساتھ دینا انسانیت ہے، تو وہ صرف کامیاب شہری نہیں بلکہ معاشرے کا محافظ بنے گا۔
بچپن میں جو بیج بویا جائے
وہی کل درخت بن کر آئے
اگر اخلاق کی خوشبو نہ ہو
تو علم بھی زہر بن جائے
تعلیم کا مقصد صرف نوکری حاصل کرنا نہیں، بلکہ ایسا انسان تیار کرنا ہے جو اختیار پا کر بگڑنے کے بجائے نکھر جائے۔ خیبر پختونخوا اور چترال جیسے خطوں کی اصل طاقت ان کی اخلاقی روایات ہیں۔ اگر یہ ٹوٹ گئیں تو عمارتیں، سڑکیں اور ڈگریاں ہمیں سماجی تباہی سے نہیں بچا سکتیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیمی نصاب میں اخلاقیات کو رسمی مضمون نہیں بلکہ عملی تربیت بنائیں۔ استاد خود نمونہ بنے، اسکول کردار سازی کا مرکز ہو، اور تعلیم دل و دماغ دونوں کی اصلاح کرے۔
اگر ہم نے آج اخلاق کو تعلیم کے ساتھ نہ جوڑا
تو کل یہی علم ہمیں بے سمت کر دے گا
پہاڑ تو اپنی جگہ قائم رہیں گے
مگر انسان اندر سے بکھر جائے گا
تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم، خصوصاً خیبر پختونخوا اور چترال کے سماجی تناظر میں، محض ایک ضرورت نہیں بلکہ ہماری بقا کی شرط ہے
*والدین اور اساتذہ: اخلاقی تعلیم کے دو بنیادی ستون*
یہ حقیقت بھی ہمارے سامنے رہنی چاہیے کہ اخلاقی تعلیم کا آغاز نصاب سے پہلے گھر اور اس کے استحکام کا مرکز ماں باپ ہیں۔ بچہ سب سے پہلا سبق کتاب سے نہیں بلکہ والدین کے طرزِ عمل، گفتگو، برداشت اور رویّوں سے سیکھتا ہے۔ اگر گھر میں سچ، صبر، احترام اور حلال و حرام کا شعور زندہ ہو تو اسکول کی تعلیم اسے مضبوط بناتی ہے، اور اگر گھر ہی خالی ہو تو بہترین نصاب بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
ماں کی گود پہلی درس گاہ ہے
باپ کا کردار پہلی کتاب
جو یہاں لکھ دیا جائے
وہی عمر بھر نصاب بن جاتا ہے
اسی طرح استاد محض مضمون پڑھانے والا نہیں بلکہ کردار تراشنے والا معمار ہوتا ہے۔ خیبر پختونخوا اور چترال جیسے معاشروں میں استاد کو ہمیشہ روحانی باپ کا درجہ حاصل رہا ہے۔ اگر استاد خود دیانت، شرافت، حلم اور عدل کا پیکر ہو تو اس کی ایک خاموش نظر بھی نسلوں کی سمت درست کر دیتی ہے۔ مگر جب استاد کی زبان اور عمل میں تضاد ہو تو سبق اثر کھو دیتا ہے۔
استاد کا عمل ہی اصل سبق ہے
لفظ تو بس آواز ہوتے ہیں
جو کردار سے نکلیں
وہی دلوں میں اترتے ہیں
لہٰذا اگر ہم واقعی تعلیمی اداروں میں اخلاقی تعلیم کو مؤثر بنانا چاہتے ہیں تو والدین کو گھر میں نگرانی، وقت اور تربیت کا فریضہ ادا کرنا ہوگا، اور اساتذہ کو اپنی ذات کو نصاب سے پہلے پیش کرنا ہوگا۔ اسکول، گھر اور استادیہ تینوں جب ایک ہی سمت میں چلیں گے، تب ہی خیبر پختونخوا اور چترال کی وہی کھوئی ہوئی اخلاقی شناخت دوبارہ زندہ ہو سکے گی جس پر یہ خطہ ہمیشہ فخر کرتا رہا ہے۔
اگر ماں باپ اور استاد جاگ جائیں
تو نصاب خود بولنے لگتا ہے
پھر اخلاق پڑھانے نہیں پڑتے
وہ چلتے پھرتے نظر آنے لگتے ہیں


