تازہ ترین

لاسپور ویلی ہمیشہ نظر انداز کیوں؟۔۔تحریر: شاہد علی خان یفتالی

حالیہ شدید برفباری نے اپر چترال کے علاقے لاسپور ویلی میں مستوج -شندور روڈ کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

جس کے نتیجے میں لاسپور–شندور روڈ تاحال بند ہے۔

گلگت بلتستان حکومت نے غذر سے لیکر شندور لنگر روڈ تک برف ہٹانے کے لیے باقاعدہ فنڈز فراہم کر رکھے ہیں۔ ضلع غذر، گلگت بلتستان کے دو ٹھیکیدار باقاعدگی سے برف ہٹانے کا ٹھیکہ لے چکے ہیں، جو گلگت بلتستان حکومت کی جانب سے عوامِ غذر کے لیے ایک تحفہ ہے۔

لیکن بدقسمتی سے لاسپور ویلی،

جو نقشے میں خیبر پختونخوا کے دور افتادہ ضلع اپر چترال کے آخری حصے میں واقع ہے، اپنے منتخب نمائندوں کی نظروں سے اوجھل ہے۔ نہ صوبائی حکومت اور نہ ہی ضلعی انتظامیہ نے اس جانب سنجیدہ کوشش کی ہے، کہ برفباری کے باعث مستوج سے شندور ٹاپ اکثر بند رہتا ہے، جس کی وجہ سے عوامِ لاسپور کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

سوال یہ ہے کہ جب گلگت بلتستان حکومت اپنے عوام کے لیے سوچ سکتی ہے تو ہماری صوبائی حکومت اور منتخب نمائندے اپنے علاقے کے عوام کے لیے کیوں نہیں سوچتے؟

راستوں کی بندش کے باعث ویلی میں رہنے والے افراد کو باہر سفر کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ چار دن سے زائد کا وقت گزرنے کے باوجود صورتحال جوں کی توں ہے اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کام کرنے پر مجبور ہیں۔

یہ صورتحال صرف قدرتی آفات تک محدود نہیں بلکہ ایک بڑی سیاسی اور انتظامی ناکامی کی عکاسی بھی کرتی ہے۔ سیاسی نمائندے جو عوام کی حمایت سے اقتدار میں آتے ہیں، اقتدار میں آنے کے بعد ان پسماندہ علاقوں کے مسائل سے لاتعلق ہو جاتے ہیں۔ عوامِ لاسپور صرف ووٹ ڈالنے کے لیے درکار ہوتے ہیں، جبکہ ترقیاتی منصوبوں میں اس ویلی کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا ہے۔

میں اپنے منتخب نمائندوں سے پُرزور گزارش کرتا ہوں کہ گلگت بلتستان حکومت کی طرح، جس نے غذر–شندور روڈ کے لیے فنڈز مختص کیے ہیں، آپ بھی صوبائی حکومت کی جانب سے مستوج–شندور ٹاپ پر برف ہٹانے کے لیے فنڈز فراہم کریں اور اسے باقاعدہ ٹھیکے پر دیں، تاکہ سردیوں کے موسم میں بھی شندور ٹاپ کھلا رہ سکے۔

اس مشکل صورتحال کا حل صرف سیاسی نمائندوں کی سنجیدہ توجہ اور عملی اقدامات میں ہی ممکن ہے، تاکہ لاسپور ویلی جیسے دور افتادہ علاقے کے عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ منتخب نمائندوں کو چاہیے کہ وہ اقتدار کے نشے میں عوامی مسائل کو نظرانداز کرنے کے بجائے اپنے عوام کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان کی مشکلات کے حل کے لیے بھرپور کوشش کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button