مضامین

داد بیداد۔۔۔۔۔۔اُردو سما عت گاہ کی ایک سہانی دوپہر۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر عنا یت اللہ فیضی

اردو سما عت گاہ ادارہ فروغ قومی زبان کی عظیم الشان عما رت کا خو ب صورت اور اراستہ و پیراستہ آڈیٹوریم ہے جس کا شمار اسلا م اباد کے مقبول کانفرنس ہا لوں میں ہوتا ہے ایک سیا نی دوپہر کو ہم نے دیکھا کہ ہال کے سٹیج پر کھوار کے نا مور ادیب، شاعر، صداکار، گلو کار، مو سیقار اور براڈ کا سٹر اقبال الدین سحر مر حوم کی بنستی مسکراتی تصویر لگی ہے ساتھ لکھا ہے ”تعزیتی ریفرنس بیاد سحر“ اور تصویر دیکھ کر پہلی نظر میں سحر کا مصر عہ یا د آتا ہے ”سحر دی نا گہان ہے محفلہ شامل“ یہ انجمن ترقی کھوار حلقہ اسلا م اباد کی یا د گار تقریب تھی جس میں چترال اور گلگت بلتستان کے 200شرفاء، شعراء، اور سحر کے چاہنے والے دوست احباب اعزہ و اقرباء اجنبی شہر کی ایک محفل میں سحر کو یا د کرنے کے لئے یک جا ہو ئے تھے ان میں بہت سے لو گ صرف غا ئبانہ ایک دوسرے کو جا نتے تھے اور یہاں پہلی بار مل رہے تھے اگرچہ پھنڈر کے عبد الجہا ن اور یسین کے مفتی ارشد اعظم کا تشریف لانا تعجب خیز نہیں تھا کیونکہ گلگت بلتستان کے دوسرے مقا مات چھشی اور پنگال، ٹیرو اور بار صد سے بھی 60مہمان آئے تھے تا ہم امریکہ میں مقیم بز نس مین اور اقبال الدین سحر کے مداح انور امان کا وہاں مو جو د ہونا تعجب، حیرت اور حسن اتفاق سے کم نہیں تھا تقریب کے مہمان خصو صی پرو فیسر اسرار الدین تھے قاری سید بزرگ شاہ الاز ہری نے صدارت فرمائی مہمانان اعزاز میں یسین سے تعلق رکھنے والے ریٹائرڈ ہیڈ ما سٹر اسلم خان، پھنڈر سے تعلق رکھنے ما ہر تعلیم وسما جی خد مات عبد الجہان قراباش، چترال کے ڈاکٹر ظہیر الدین بہرام، علی اکبر قاضی، سلطان محمود، انور امان اور عبد الولی خان ایڈو کیٹ شامل تھے اقبال الدین سحر کے بیٹے محمد اقبا ل ثو بان اور بھتیجے رضوان الدین ایڈو کیٹ خاص مہمان تھے قاری سید بزرگ شا ہ الاز ہری کی پُر سوز تلا وت اور قاری صفدر شاہ ساجد کی اواز میں خو ب صورت نعت شریف سے محفل کا آغا ز ہوا آغاز میں مر حوم اقبال الدین سحر کی روح کو ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوا نی ہوئی اپنے خطاب میں مہمان اعزاز سلطان محمود نے سحر کی شخصیت کو تعصبات سے پا ک ہمہ صفت اور ہمہ جہت کر دار کا ما لک قرار دیا، ما ہر لسا نیات فخر الدین اخونزادہ نے لسا نیا تی اصو لوں کی رو سے اقبال الدین کی ادبی اور ثقا فتی خد مات کو کھوار ادب و ثقا فت کے تحفظ اور فروغ میں اہم سنگ میل قرار دیا، مقبول مزاح نگار شیر زاد علی حید ر نے اقبال الدین سحر کے نثری ادب میں مزاح نگا ری اور طنز نگاری کا تجزیہ کر تے ہوئے کئی دلچسپ اقتباسات پیش کر کے سحر کو کھوار ادب میں طنز و مزاح کا با نی اور پہلا ستون قرار دیا، پرو فیسر ممتاز حسین نے اقبال الدین سحر کو کھوار کے معا صراد ب کی تاریخ میں ایک عبقری کر دار قرار دیا جنہوں نے ادب و ثقا فت کے تمام فنون میں انمٹ نقوش مر تب کیے ان کے مصرعے اور جملے زبان زد عام ہوئے، عبد لجہا ں قرا باش نے کہا کہ اقبال الدین سحر کا کلا م چترال اور گلگت بلتستان میں یکساں مقبول ہے ان کی جدائی کو دونوں جگہ یکساں محسوس کیا گیا چھشی پنگال پھنڈر، یسین اور دوسرے مقا مات پر آباد سحر کے اباواجداد کی نسل کے بھا ئی بند سب مل کر سحر کو یاد کر نے کے لئے مجلس منعقد کرنے پر آپ کا شکریہ ادا کر تے ہیں مفتی ارشد اعظم نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ اقبال الدین سحر کے جدا مجد نے عذر سے جا کر چترال کو مسکن بنا یا تھا آج ہم مل کر ان کی ادبی خد مات کو خراج تحسین پیش کر تے ہیں ہم انجمن ترقی کھوار کے شکر گزار ہیں کہ آج ہمیں اس مجلس میں اپنے بھا ئی کو یا د کرنے کا مقو قع دیا،معروف سکا لر علی اکبر قاضی نے مشرقی اور مغربی مفکرین کے دلچسپ اور بر محل حوالوں سے ثا بت کیا کہ اقبال الدین سحر جیسے لو گ نا بغہ روزگار ہوتے ہیں کسی معا شرے کے لئے پرو ردگار عالم کی خا ص عنا یت سے ود یعت ہو تے ہیں سحر مر کے بھی زندہ رہے گا، راقم نے سحر کی زند گی، فن اور شخصیت میں صوفیا نہ اثرات پر گفتگو کی، ان کے کلا م کو رومی اور علا مہ اقبا ل کے افکار کا تسلسل قرار دیا ایک ولی کامل اور صو فی صالح کی طرح انہوں نے سب سے محبت کی، سب کو محبت دی اور جا تے ہوئے یہ تاثر دیا کہ میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہنچے پرو فیسر اسرار الدین نے اپنے جا مع خطا ب میں اقبال الدین سحر کو ریڈیو پا کستان کا ہر فن مولا صدا کار قرار دیتے ہوئے کھوار کا معین اختر قرار دیا جو بیک وقت سات سے زیا دہ آواز وں کے ساتھ صدا کاری کرتا تھا ان کے ڈرامے بھی گیتوں کی طرح مقبول ہیں سحر کے بھتیجے رضوان الدین ایڈو کیٹ نے تقریب کے منتظم عنا یت جلیل اور معا ونین شیر زاد علی حیدر، سلطان محمود کا شکریہ ادا کیا، سحر کے بیٹے محمد اقبال ثو بان نے سحر کی آواز ان کے انداز میں گیت کے چند بول سنا کر داد حا صل کی انہوں نے بھی منتظمین اور حا ضر ین کا شکریہ ادا کیا صدر مجلس قاری سید بزرگ شاہ الازہری نے سحر کی جدائی پر اردو میں مر ثیہ پیش کیا اس سے پہلے پرو فیسر اسرار الدین اور سردار علی نے بھی مر ثیے پیش کئے تھے یہ بات قابل ذکر ہے کہ اقبال الدین سحر کا مجمو عہ کلا م آر زوئے سحر چترال کے نامور سپوت انور امان نے دو سال پہلے کیو آر کوڈ کے ساتھ شائع کیا ہے جس صفحے پر قاری ان کا کلا م پڑھتا ہے کیو آر کوڈ کی مدد سے ان کی آواز میں سن بھی سکتا ہے ٹیکنیکل سپورٹ منصور علی شباب اور قشقار انٹر پرائز کے محمد نا یاب فارانی نے فراہم کی تقریب کی نظا مت کے فرائض قاضی عنا یت جلیل نے حسن و خو بی سے انجام دیے یو ں ایک سہا نی دو پہر سیا نی شام تک دراز ہوئی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button