تازہ ترین

بے گناہوں کے خون کو روکنے کیلئے ملک میں پھانسی کی سزا بحال کی جائے، محمد سید خان لال کا وزیراعظم سے مطالبہ

چترال/سابق ڈسٹرکٹ پولیس افیسر، سابق تحصیل کونسلر اورجمعیت علمائے اسلام کے سینئر رہنما محمد سید خان لال نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر اور وزیراعظم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ انسانیت کے بقااور بے گناہوں کے ناحق بہہ جانے کو روکنے کی خاطر ملک میں پھانسی کی سزاکو بحال کیا جائے جسے یورپی برادری کی ایما پر کئی سالوں سے روک دیا گیا ہے۔ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ پھانسی کی سزا پر عملدرامد نہ ہونے کی وجہ سے قتل کے واقعات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے کیونکہ پھانسی کے ذریعے موت کا خوف نہ ہونے پر معمولی واقعات پر بھی انسانی خون کابہہ جانا معمول کا واقعہ بن گیا ہے اورقتل مقاتلہ کا یہ سلسلہ ایک خوفناک صورت اختیارکرتی جارہی ہے اور معاشرے میں عدم برداشت اور انتہا پسندی بھی اس کا شاخسانہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے پھانسی کی سزامیں انسانیت کافلاح ہے اور اس میں لوگوں کی زندگیوں کی ضمانت موجود ہے کیونکہ اس قانون کی موجودگی میں قتل کے واقعات انتہائی کم ہوں گے۔ محمد سید خان لال نے یورپین یونین کی پھانسی سے متعلق تحفظات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے منافقت پرمبنی پالیسی قراردیا اور کہاکہ ایک طرف فلسطین کے غزا میں روزانہ کے حساب سے نہتے مسلمان تہہ تیغ ہورہے ہیں اور ہندو سامراج مقبوضہ کشمیرمیں مسلمانوں کی نسل کشی میں مصروف ہے لیکن اس کا کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا اور بین الاقوامی برادری مجرمانہ خاموشی کا وطیرہ اپنارکھا ہے لیکن قتل جیسے گھناونے جرم میں ملوث انسان کو موت کی سزا دینے پر ان کو انسانیت یاد آجاتی ہے۔ انہوں نے پاکستان میں پھانسی کی سزا کی بحالی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ اس حساس موضوع پر ہمیں امریکہ اور یورپ سے ہدایات لینے کی بجائے قرآ ن وسنت سے رہنمائی حاصل کرنی چاہئے تاکہ بے گناہوں کا ناحق خون رک جائے۔ انہوں نے کہاکہ سعودی عرب سمیت جن ممالک میں اسلامی قوانین کے تحت پھانسی کی سزا موجود ہے، وہاں پر قتل کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہے جوکہ پاکستان کے حکمرانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے۔

محمد سید خان لال نے حال ہی میں وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے رمضان پیکج کی مد میں 38ارب روپے کی خطیررقم ریلیز کرنے کے بارے میں اپنی شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ قومی خزانے سے نکلی ہوئی اس رقم کاپائی پائی غریبوں تک پہنچنا چاہئے تاکہ غریب کو بھی رمضان المبارک میں دو وقت کی روٹی آسانی سے میسر آسکے۔ا نہوں نے کہاکہ ناقص پالیسی اور کرپشن کی وجہ سے اگر اس رقم کی بندر بانٹ ہوئی تو قوم حکمرانوں کو کبھی معاف نہیں کرے گی اور نہ ہی وہ غذاب الٰہی سے بچ سکیں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button