چترال میں منعقدہ ایک سمپوزیم کے دوران ماہرینِ لسانیات اور دانشوروں نے چترال کے منفرد لسانی ورثے کے تحفظ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔

چترال (نمائندہ ا) ہفتے کے روز چترال میں منعقدہ ایک سمپوزیم کے دوران ماہرینِ لسانیات اور دانشوروں نے چترال کے منفرد لسانی ورثے کے تحفظ کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ متعدد دم توڑتی ہوئی مادری زبانوں کو ناپید ہونے سے بچانے کے لیے ڈیجیٹل آلات کا سہارا لیں۔
یہ تقریب ‘انجمنِ ترقی کھوار’ کے زیرِ اہتمام مادری زبانوں کے عالمی دن کے حوالے سے منعقد کی گئی، جس میں ماہرینِ تعلیم، ادبی شخصیات اور محققین کے ایک معزز پینل نے شرکت کی۔ جہاں مقامی مقررین خود وہاں موجود تھے، وہیں پشاور اور اسلام آباد سے کئی اسکالرز نے ویڈیو لنک کے ذریعے دنیا کے اس متنوع ترین لسانی خطے کی بقا پر تبادلہ خیال کیا۔
سمپوزیم سے خطاب کرتے ہوئے صدر انجمن ترقی کھوار، شہزادہ تنویر الملک، ڈاکٹر عنایت اللہ فیضی، محمد عرفان، ذاکر محمد زخمی، محکم الدین، سرفراز علی، پروفیسر شفیق احمد اور قاضی عنایت جلیل سمیت دیگر نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ چترال زبانوں کا ایک زندہ عجائب گھر ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان بھر میں بولی جانے والی 75 زبانوں اور لہجوں میں سے 12 صرف چترال میں پائے جاتے ہیں، جو ہند-آریائی، ایرانی اور نورستانی لسانی خاندانوں کی نمائندگی کرتے ہیں۔
مقررین نے خطے کی 12 بنیادی زبانوں کی شناخت کھوار، کالاشہ، پالولہ، دامیلی، یدغہ، واخی، مداک لشٹی، گوجری، سری کولی، کرغیز، کٹویری (شیخانی) اور پشتو کے طور پر کی۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ ان میں سے تین سے چار زبانیں ”مٹنے کے دہانے پر” ہیں کیونکہ ان کے بولنے والوں کی تعداد مسلسل کم ہو رہی ہے۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ”زبان کا تحفظ دراصل ایک تہذیب کی روح کا تحفظ ہے”۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نئی نسل اس ورثے کی بحالی میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ جدید مواصلاتی آلات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے لوک کہانیوں، شاعری اور الفاظ کا ذخیرہ دستاویزی شکل میں محفوظ کریں، تاکہ وقت کی گرد ان مادری زبانوں کو مٹا نہ سکے۔
فورم نے حکومت سے یہ پرزور سفارش بھی کی کہ مادری زبانوں میں ابتدائی تعلیم کا آغاز کیا جائے۔ ماہرینِ لسانیات نے دلیل دی کہ بچے کی مادری زبان میں ابتدائی تعلیم نہ صرف ذہنی نشوونما کو مضبوط بناتی ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بناتی ہے کہ زبان ماضی کی یادگار بننے کے بجائے روزمرہ کی زندگی کا ایک فعال حصہ رہے۔
نشست کا اختتام انتہائی خطرے سے دوچار لہجوں کے جامع لسانی سروے اور باضابطہ تحقیق کی فوری اپیل کے ساتھ ہوا۔ اسکالرز نے اس بات پر زور دیا کہ اگر فوری طور پر علمی اور حکومتی سطح پر مداخلت نہ کی گئی، تو دنیا اپنے غیر محسوس انسانی ورثے کا ایک بڑا حصہ کھو دے گی۔



