حکومت خیبر پختونخوا سے گزارش ہے کہ اپنی تعلیم دشمنی پر مبنی پالیسی ترک کرے۔ مہنگے پٹرول کو بہانہ بنا کر اسکولوں کو ہفتے میں تین دن بند کرنا ہمارے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔

ایندھن کی قیمت یا تعلیم کی قیمت۔ً۔
حکومت خیبر پختونخوا سے گزارش ہے کہ اپنی تعلیم دشمنی پر مبنی پالیسی ترک کرے۔ مہنگے پٹرول کو بہانہ بنا کر اسکولوں کو ہفتے میں تین دن بند کرنا ہمارے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ سراسر زیادتی ہے۔
مسئلے کی نوعیت
گزشتہ ایک مہینے سے ایندھن کی بڑھتی قیمتوں اور سرکاری اخراجات میں کمی کے نام پر کے پی میں سرکاری اسکول ہفتے میں صرف 4 دن پڑھایئ اور 3 دن اسکولوں کو چھٹیاں دی جارہی ہیں ۔ بظاہر یہ فیصلہ ٹرانسپورٹ کا خرچ بچانے کے لیے کیا جا رہا ہے، مگر اس کا براہ راست نشانہ وہ طالبعلم بن رہے ہیں جو پہلے ہی کئی تعلیمی بحرانوں کا شکار ہیں۔
تعلیمی نقصانات
تدریسی دنوں میں کمی۔۔ ایک عام تعلیمی سال میں تقریباً 180-200 تدریسی دن ہوتے ہیں۔ ہفتے میں 3 دن چھٹی کا مطلب ہے سال میں صرف 120 دن پڑھائی۔ یعنی 40% نصاب یا تو جلدی جلدی ختم کیا جائے گا یا سرے سے چھوڑ دیا جائے گا۔
سیکھنے کا تسلسل ٹوٹنا:
بچے 4 دن مسلسل گھر بیٹھیں گے تو جو کچھ پڑھا وہ بھول جائیں گے۔ خاص کر پرائمری لیول پر یہ گیپ ناقابل تلافی نقصان پہنچاتا ہے۔
امتحانی نتائج:
کورونا کے دوران ہم دیکھ چکے کہ اسکول بندش سے میٹرک اور انٹر کے نتائج کتنے متاثر ہوئے۔ تین دن کی چھٹی اسی نقصان کو مستقل کر دے گی۔
ڈراپ آؤٹ ریٹ:
جب اسکول کا معمول ہی نہ رہے تو والدین بچوں کو کام پر لگا دیں گے۔ کے پی میں پہلے ہی بچوں کا ڈراپ آؤٹ ریٹ زیادہ ہے، یہ پالیسی اسے مزید بڑھائے گی۔
معاشی بہانہ کتنا درست
مانا کہ پٹرول مہنگا ہے۔ مگر سوال یہ ہے:
کیا اساتذہ اور طلبہ کی وین کے 2 دن کا پٹرول بچا کر ہم ایک پوری نسل کا مستقبل داؤ پر لگا رہے ہیں؟
سرکاری پروٹوکول، غیر ضروری سیمینار، اور افسر شاہی کے اخراجات کم کیے بغیر صرف تعلیم پر کٹ کیوں؟
دنیا میں مہنگائی کا حل تعلیم بند کرنا نہیں، بلکہ متبادل تلاش کرنا ہے ۔ رُوٹ پلاننگ بہتر کی جا سکتی ہے،
طلبہ کے ساتھ زیادتی کیوں
تعلیم بنیادی حق ہے، احسان نہیں۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 25-A ریاست کو پابند کرتا ہے کہ 5 سے 16 سال کے ہر بچے کو مفت اور لازمی تعلیم دے۔ ہفتے میں 3 دن چھٹی اس آئینی ذمہ داری سے فرار ہے۔
کے پی وہ صوبہ ہے جس نے دہشت گردی، سیلاب اور نقل مکانی کے باوجود تعلیم کا چراغ جلائے رکھا۔ آج اگر ہم خود ہی یہ چراغ بجھا دیں تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
پٹرول ایک دن سستا ہو جائے گا، مگر جو وقت آج کا طالبعلم کھو دے گا وہ کبھی واپس نہیں آئے گا۔ حکومت کے پی سے پُرزور اپیل ہے کہ اس تعلیم دشمن پالیسی پر نظرثانی کرے۔ قومیں سڑکوں سے نہیں، اسکولوں سے ترقی کرتی ہیں۔ اگر بچانا ہے تو پٹرول نہیں، بچوں کا مستقبل بچائیں۔
نقیب اللہ ۔ڈی ایس ایس ٹیچر



