تازہ ترین
دین اور مذہب سے دور قیادت اس مملکت خداداد پر حکومت کی اہلیت نہیں رکھتے ،مشتاق احمدخان


کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے جبکہ پہلے لوگ اسلامی شعائرکا کھلم کھلا مذاق اڑاتے تھے اور لوگ سیکولرزم کو باعث فخر سمجھتے تھے لیکن جماعت اسلامی نے یہ شعور ددے دی کہ شیطان کے نظام میں انسانیت کی تباہی ہے اور اب لوگوں میں یہ یقین راسخ ہورہی ہے کہ تمام مسائل کا حل اسلام میں ہے اور خوشحال پاکستان کے لئے اس کا اسلامی ہونا بنیادی شرط ہے۔ جماعت اسلامی کے صوبائی قائد نے کہاکہ جماعت اسلامی کے کارکن کے سامنے زندگی کا ایک واضح نصب العین اور مقصد زندگی ہے اور ان کے تمام کاموں کا محور اپنے رب کی خوشنودی کا حصول ہے اور یہی بات اس سیاسی جماعت کو دوسری سیاسی پارٹیوں سے ممتاز کرتی ہے اور یہی ملک کی واحد جمہوری جماعت ہے جس کے پاس ایک دستور ہے جبکہ دوسری جماعت خاندانی کاروبار کے طرز پر چل رہے ہیں اور جہاں پارٹی قائد کی ہر بات کو دستور کا درجہ حاصل ہے۔ انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ وہ بیلٹ بکس کے ذریعے اسلامی انقلاب کے لئے راستہ ہموار کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑیں اور اس سال اکتوبر کو پشاور میں منعقد ہونے والی اجتماع عام کے لئے تیاریوں کا سلسلہ شروع کردیں اور چترال کے گوشے گوشے میں ایک ایک گھر کو ایسا نہ چھوڑ دیں جہاں جماعت اسلامی کی دعوت نہ پہنچی ہو۔ اس سے قبل جماعت اسلامی ضلع چترال کے امیر مولانا جمشید احمد نے خطاب کرتے ہوئے اسلامی جماعت کے تین اوصاف بیان کرتے ہوئے کہاکہ جماعت اسلامی میں یہ تینوں موجود ہیں اور جماعت کاہرکارکن ان اوصاف سے مزین ہے۔ انہوں نے صوبائی قیادت کو یقین دلاتے ہوئے کہاکہ چترال جماعت اسلامی کا گڑھ بننے والا ہے جہاں کسی بھی ازم کو پنپنے کی اب گنجائش نہیں رہی۔ ضلع ناظم مغفرت شاہ نے اپنے خطاب صوبائی امیر جماعت اسلامی کی توجہ اس طرف دلانے کی کوشش کی کہ منتخب بلدیاتی اداروں کو وہ حیثیت نہیں دی گئی ہے جو کہ ان کو حاصل ہونا چاہئے تھا ۔ انہوں نے کہاکہ اس سب کے باوجود چترال میں ضلعی حکومت کی کارکردگی ماضی میں دوسروں کے مقابلے میں کسی بھی طور پر کم نہیں۔ جماعت اسلامی کے امیر چار روزہ دورے پر چترال پہنچ گئے ہیں جہاں وہ موڑکھو، تورکھو، بونی اور دروش میں بھی عوامی اجتماعات سے خطاب کریں گے۔