انتظامیہ کے ساتھ تحریری معاہدہ نظرانداز، ریشن پاور کمیٹی کا 31 جولائی سے چترال شندور روڈ بند کرنے کا اعلان

چترال / تحریری معاہدے پر عمل درآمد نہ ہونے کے خلاف ریشن پاور کمیٹی نے 31 جولائی سے چترال۔شندور روڈ غیر معینہ مدت کے لیے بند کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
اس سلسلے میں ریشن پاور کمیٹی کے زیر اہتمام ایک بڑا عوامی اجلاس منعقد ہوا جس میں سو سے زائد مقامی افراد نے شرکت کی۔ اجلاس میں 31 جولائی کے احتجاجی جلسے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور و خوص کیا گیا۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کمیٹی کے نمائندوں نے بتایا کہ عوامی مطالبات کے حل کے لیے انتظامیہ کو 40 دن کی مہلت دی گئی تھی، جس دوران ڈپٹی کمشنر اپر چترال، ڈی پی او، اسسٹنٹ کمشنر اور ڈپٹی اسپیکر کے خصوصی نمائندے کے ساتھ باقاعدہ تحریری معاہدہ طے پایا تھا۔ تاہم مقررہ وقت گزرنے کے باوجود انتظامیہ کی جانب سے معاہدے پر کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔
شرکاء نے مزید الزام عائد کیا کہ تین روز قبل ڈپٹی اسپیکر نے کمیٹی نمائندوں سے ملاقات کے دوران مسائل حل کرنے کے بجائے انہیں دھمکیاں دیں اور چار سال سے جاری پرامن تحریک میں پھوٹ ڈالنے کی کوشش کی، جس کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی۔
مقررین کا کہنا تھا کہ ریشن کے عوام کا صبر لبریز ہو چکا ہے اور اب مزید تاخیری حربے برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ اگر جائز مطالبات فوری تسلیم نہ ہوئے تو 31 جولائی سے مرکزی چترال۔شندور شاہراہ کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے گا۔ پاور کمیٹی نے تمام مقامی لوگوں سے 31 جولائی کے احتجاج میں بھرپور شرکت کی اپیل کی ہے



