پرنس رحیم آغا خان کا گرم چشمہ دورہ، چترال ائیرپورٹ پر گورنر خیبرپختونخوا اور وزیراعلیٰ کا استقبال و الوداع، توحید و ختمِ نبوت پر زور

چترال/اسماعیلیہ برادری کے روحانی پیشوا پرنس رحیم آغا خان نے اپنے دورہ چترال اور گلگت بلتستان کے دوسرے مرحلے میں لویر چترال کے علاقے گرم چشمہ کا تفصیلی دورہ کیا ہے۔گلگت بلتستان سے پرواز کے بعد گرم چشمہ پہنچنے پر مقامی کمیونٹی نے پرنس رحیم آغا خان کا شاندار اور پرتپاک استقبال کیا۔بعدازاں چترال ائیرپورٹ پر گورنر فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی نے انہیں الوداع کیا۔گرم چشمہ کے علاقہ دروشپ میں قائم کردہ اجتماع گاہ (دیدار گاہ) کو عقیدت مندوں کی جانب سے انتہائی خوبصورتی اور مہارت سے سجایا گیا تھا۔اپنے پیروکاروں سے خطاب کرتے ہوئے پرنس رحیم آغا خان نے توحید اور ایمان پر زور دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی ذات پر غیر متزلزل ایمان رکھنے کی تاکید کی اور کہا کہ وہی کائنات اور اس سے ماورا تمام چیزوں کا واحد خالق اور حقیقی مددگار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی مصیبت، پریشانی یا مشکل گھڑی میں صرف اور صرف اللہ ہی کو پکارا جانا چاہیے انہوں نے حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ختمِ نبوت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ ﷺ اللہ کے آخری رسول ہیں۔انہوں نے اپنے پیروکاروں کو نصیحت کی کہ وہ خود کو دورِ حاضر کے بدلتے ہوئے حالات اور تقاضوں کے مطابق ڈھالیں



