پرواک مستوج میں پرنس شاہ رحیم آغا خان کا تاریخی دورہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔تحریر:سیدنذیرحسین شاہ نذیر

اسماعیلی برادری کی روحانی پیشوا ہز ہائی نس پرنس شاہ رحیم الحسینی آغا خان نے 23 اور 24 مئی 2026 کو اپر چترال کے علاقے پرواک مستوج کا تاریخی دورہ کیا۔اپر چترال کے گاؤں پرواک مستوج کا دو روز میں دو مرتبہ دورہ کیا، جہاں ان کا پرتپاک استقبال اسماعیلی ریجنل کونسل اپر چترال کے پذیڈنٹ امتیاز عالم، ڈپٹی کمشنر اپر چترال محمد عمران خان اپر چترال پولیس، چترال سکاوٹس کے افسران اور دیگر مقامی عمائدین نے کیا۔منصبِ امامت سنبھالنے کے بعد پاکستان کا یہ ان کا پہلا دورہ تھا، جسے اسماعیلی برادری سمیت پورے چترال میں غیر معمولی اہمیت حاصل رہی۔
پرواک لشٹ کے دیدار گاہ میں 23 اور 24 مئی کو عظیم الشان اجتماعات منعقد ہوئے جن میں مستوج، لاسپور، موڑکھو، بونی، تورکھو، ریشن، چرون، یارخون اور دیگر علاقوں سے ہزاروں عقیدت مند شریک ہوئے۔ اس موقع پر پورا علاقہ مذہبی عقیدت، خوشی اور جشن کا منظر پیش کر رہا تھا۔دیدار گاہ کو جدید سہولیات سے آراستہ کیا گیا تھا جہاں بیک وقت 55 ہزار سے زائد مرد، خواتین، بزرگوں اور بچوں کے بیٹھنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ پورے میدان میں نیچے فوم بچھا کر کارپیٹنگ کی گئی تھی جبکہ خواتین، مردوں اور خصوصی افراد کے لیے علیحدہ واش رومز، ہاتھ دھونے اور پینے کے صاف پانی کا بہترین انتظام کیا گیا تھا۔
اس حوالے سے اسماعیلی برادری کے متعدد افراد نے انتظامات پر مکمل اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ریجنل کونسل اپر چترال اور تمام لوکل کونسلز کی خدمات کو سراہا۔ شرکاء نے ضلعی انتظامیہ، اپر چترال پولیس، عسکری قیادت، اہلِ سنت برادری اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے تعاون کو بھی قابلِ ستائش قرار دیا۔اسماعیلی برادری کے رضاکاروں نے اپنے روحانی پیشوا کی آمد کے موقع پر بھرپور تیاریوں میں حصہ لیا۔ سڑکوں کی صفائی، مرمت اور فلنگ کے علاوہ مختلف مقامات پر استقبالیہ بینرز آویزاں کیے گئے تھے، جس سے پورا علاقہ ایک تہوار کا منظر پیش کر رہا تھا۔
دورے کی اہمیت کے پیش نظر اپر چترال کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے 23 سے 25 مئی تک مقامی تعطیل کا اعلان کیا گیا تھا تاکہ زائرین کو سہولت فراہم کی جا سکے۔ سیکیورٹی، ٹریفک اور صفائی ستھرائی کے حوالے سے بھی انتہائی شاندار اور وسیع انتظامات کیے گئے تھے۔ ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لیے متبادل راستوں کا تعین کیا گیا جبکہ پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے بھی مقرر کیے گئے تاکہ زائرین کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ ہو۔ پرواک لشٹ میں تاریخی اجتماعات کے انعقاد کے لیے خصوصی پنڈال، خیمے اور جدید لائٹنگ کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔
دیدار کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ہز ہائی نس پرنس رحیم الحسینی آغا خان نے اپنے پیروکاروں پر زور دیا کہ وہ صراطِ مستقیم پر ثابت قدم رہیں، اتحاد اور پرامن بقائے باہمی کو فروغ دیں، زندگی بھر تعلیم حاصل کریں اور اپنی کاروباری و پیشہ ورانہ زندگی میں اعلیٰ اخلاقی اقدار کو برقرار رکھیں۔انہوں نے خدمتِ خلق، جدید اور معیاری تعلیم، صحت مند طرزِ زندگی اور ماحول کے تحفظ کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اسماعیلی برادری کا ایمان دین اسلام کے بنیادی عقائد یعنی توحید، حضرت محمد ﷺ کی ختمِ نبوت اور قرآن مجید کو اللہ تعالیٰ کی آخری وحی ماننے پر مبنی ہے۔
پرنس رحیم آغا خان نے اس بات پر زور دیا کہ اسماعیلی برادری کے افراد امن، برداشت، اعلیٰ اخلاق اور ذمہ دار شہری ہونے کے ذریعے انسانیت کی خدمت جاری رکھیں۔پرواک مستوج میں منعقد ہونے والے یہ تاریخی اجتماعات نہ صرف اسماعیلی برادری کے لیے روحانی اہمیت کے حامل تھے بلکہ انہوں نے چترال کے عوام کے اتحاد، بھائی چارے، مہمان نوازی اور مذہبی ہم آہنگی کی خوبصورت مثال بھی قائم کی۔








