مضامین

جہانِ خیال……. جماعتِ اسلامی کی مزاحمتی جدوجہد اور سوئی ہوئی قوم کا سوال…… تحریر: عتیق الرحمن

قومیں صرف آبادیوں کا مجموعہ نہیں ہوتیں؛ قومیں اپنے اجتماعی شعور، ترجیحات اور ردِعمل سے پہچانی جاتی ہیں۔ جب مہنگائی عام آدمی کی قوتِ خرید چھین لے، بجلی کے بل گھر کا سکون برباد کردیں، بے روزگاری نوجوانوں کے خوابوں کو مایوسی میں بدل دے اور کرپشن انصاف کے راستے میں دیوار بن جائے، تو ایک باشعور معاشرے کا فرض بنتا ہے کہ وہ سوال کرے، آواز اٹھائے اور اپنے حق کے لیے پُرامن جمہوری جدوجہد کرے۔
اسی تناظر میں جماعتِ اسلامی کی جانب سے 7 اگست 2026ء کے احتجاج کو محض ایک سیاسی سرگرمی سمجھ کر نظرانداز کرنا مناسب نہیں۔ یہ احتجاج ان مسائل کے خلاف آواز ہے جن کا براہِ راست تعلق عام آدمی کی زندگی سے ہے۔ پٹرولیم لیوی، مہنگائی، ٹیکسوں، لوڈشیڈنگ اور معاشی پالیسیوں پر جماعتِ اسلامی نے اپنا مؤقف عوام کے سامنے رکھا ہے۔
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا احتجاج درست ہے؟
اگر احتجاج پُرامن، آئینی اور جمہوری حدود میں ہو تو اس کا حق کسی ایک جماعت تک محدود نہیں۔ یہ شہری آزادی کا حصہ ہے۔ حکمرانوں سے سوال کرنا، اپنے مطالبات پیش کرنا اور عوامی مسائل پر اجتماعی آواز بلند کرنا جمہوریت کی روح ہے۔ البتہ احتجاج کی کامیابی صرف ہجوم کی تعداد سے نہیں، اس کے نظم، اخلاقی قوت اور مطالبات کی سنجیدگی سے بھی متعین ہوتی ہے۔
جماعتِ اسلامی پہلی بار احتجاج کے میدان میں نہیں اتری۔
اس جماعت کی سیاسی تاریخ میں احتجاج، دھرنے، عوامی رابطہ اور مختلف قومی و عالمی مسائل پر آواز اٹھانے کی ایک مستقل روایت ملتی ہے۔ مہنگائی اور بجلی کے مسائل ہوں، کرپشن کے خلاف آواز ہو، عوامی حقوق کا معاملہ ہو یا فلسطین جیسے عالمی انسانی بحران کا سوال، جماعتِ اسلامی نے مختلف مواقع پر احتجاجی سیاست کو اپنا ذریعہ بنایا ہے۔
اس جدوجہد سے اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ اس کے سیاسی طریقۂ کار پر تنقید بھی ہوسکتی ہے۔ انتخابی سیاست میں اس کی کارکردگی پر بحث بھی ہونی چاہیے۔ لیکن ایک بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جماعتِ اسلامی نے اپنی سیاست کو صرف انتخابی موسم تک محدود نہیں رکھا۔
یہی اس بحث کا اہم پہلو ہے۔
ووٹ اور اقتدار کی خواہش ہر سیاسی جماعت کے لیے فطری سیاسی مقصد ہوسکتی ہے، لیکن جماعتِ اسلامی کے کارکنوں کی ایک نمایاں خصوصیت یہ رہی ہے کہ وہ مختلف عوامی اور انسانی مسائل پر انتخابی مفاد سے ہٹ کر بھی میدان میں دکھائی دیتے ہیں۔ وقت، توانائی، وسائل اور صلاحیتیں صرف کرنا کسی بھی سیاسی جدوجہد کی قیمت ہوتی ہے۔
مگر اس سے بھی بڑا سوال ہمارے معاشرے کے سامنے کھڑا ہے۔
ہم بحیثیت قوم کس چیز کے لیے بیدار ہوتے ہیں؟
کرکٹ کا میچ ہو تو شائقین گھنٹوں پہلے میدان پہنچ جاتے ہیں۔ پولو ہو تو گراؤنڈ کے گرد ہجوم جمع ہوجاتا ہے۔ سرکس، تفریحی میلہ یا کوئی بڑا پروگرام ہو تو ٹکٹ، وقت اور سفر کی مشکلات بھی لوگوں کو نہیں روکتیں۔ کھیل اور تفریح یقیناً زندگی کا حصہ ہیں؛ قوم کو خوشی، کھیل اور تفریح کا حق حاصل ہے۔
مگر المیہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں تفریح ہماری ترجیح بن جائے اور اپنے حقوق ہماری ترجیح نہ رہیں۔
چند ماہ قبل چترال میں میری موجودگی کے دوران ایک منظر نے مجھے دیر تک سوچنے پر مجبور کیا۔ بازار پل کے مقام پر چند افراد کرپشن اور عوامی مسائل کے خلاف دو دن سے احتجاجی دھرنے میں بیٹھے تھے۔ مساجد کے ذریعے لوگوں تک اطلاع پہنچائی گئی، سوشل میڈیا پر پیغامات جاری ہوئے، بینرز لگائے گئے اور عوام کو شرکت کی دعوت دی گئی۔
مگر بہت سے لوگ احتجاج سے بے اعتنائی کا اظہار کرتے ہوئے گزر رہے تھے۔
پھر پولو میچ کا وقت آیا تو منظر یکسر بدل گیا۔ لوگ جوق در جوق گراؤنڈ کی طرف روانہ ہونے لگے۔ معلوم ہوا کہ میچ چار بجے شروع ہونا ہے، مگر شائقین ڈیڑھ بجے ہی وہاں پہنچ رہے تھے۔
یہ واقعہ پولو کے خلاف نہیں تھا۔ یہ ہماری قومی ترجیحات کا آئینہ تھا۔
اور یہی منظر صرف پولو تک محدود نہیں۔ کرکٹ کے میدان، سرکس کے خیمے، تفریحی میلوں اور دوسرے پروگراموں میں بھی ہماری اجتماعی شرکت دیکھنے کے قابل ہوتی ہے۔ ہم تماشے کے لیے وقت نکال لیتے ہیں، مگر اپنے مستقبل کے لیے وقت نکالنے سے گریز کرتے ہیں۔
ہم بجلی کے بل پر گھر میں غصہ کرتے ہیں، مگر اس مسئلے کے خلاف منظم آواز اٹھانے والے سے دور رہتے ہیں۔
ہم کرپشن کو برا کہتے ہیں، مگر کرپشن کے خلاف کھڑے ہونے والے کو ’’سیاسی‘‘ کہہ کر نظرانداز کردیتے ہیں۔
ہم مہنگائی کی شکایت کرتے ہیں، مگر اس کے خلاف آواز اٹھانے کو سیاسی مفاد قرار دے کر خود کو الگ کرلیتے ہیں۔
یہی تضاد ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے:
کیا ہم صرف شکایت کرنے والی قوم بن چکے ہیں؟
اگر عوام اپنے حقوق کے لیے آواز نہیں اٹھائیں گے تو پھر حکمرانوں پر جواب دہی کا دباؤ کہاں سے آئے گا؟
یہاں جماعتِ اسلامی کی جدوجہد ایک اہم مثال بن کر سامنے آتی ہے۔ کسی جماعت کی حمایت یا مخالفت سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ جس مسئلے کو اٹھا رہی ہے، وہ مسئلہ حقیقی ہے یا نہیں۔ اگر مسئلہ حقیقی ہے تو پھر بحث مطالبے کے حل پر ہونی چاہیے، نہ کہ صرف اس جماعت کے نام پر جو اسے اٹھا رہی ہے۔
یہی جمہوری بلوغت ہے۔
حکومت کو بھی احتجاج کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر مسترد نہیں کرنا چاہیے۔ اگر مطالبات غلط ہیں تو اعداد و شمار اور دلیل کے ساتھ جواب دیا جائے؛ اگر جائز ہیں تو عملی اقدامات کیے جائیں۔ خاموشی، تاخیر اور نظرانداز کرنے سے عوامی بے چینی کم نہیں ہوتی، بڑھتی ہے۔
اسی طرح احتجاج کرنے والوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ احتجاج پُرامن رہے، قانون کا احترام کیا جائے اور عام شہریوں کی مشکلات کو کم سے کم رکھا جائے۔ سڑک بند کرنا مقصد نہیں؛ بند دروازے کھلوانا مقصد ہونا چاہیے۔
اور عوام کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔
ہمیں ہر سیاسی جماعت کا اندھا پیروکار بننے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں صرف اتنا کرنا ہے کہ اپنے مسائل کو پہچانیں، مطالبات کو سمجھیں، درست اور غلط میں فرق کریں اور جہاں حق کی بات ہو وہاں آواز بلند کرنے سے نہ گھبرائیں۔
جماعتِ اسلامی سے اختلاف کیجیے، مگر اس کی جدوجہد کو سنے بغیر مسترد نہ کیجیے۔
حکومت سے سوال کیجیے، مگر سوال دلیل کے ساتھ۔
احتجاج کیجیے، مگر امن اور قانون کے دائرے میں۔
اور سب سے بڑھ کر اپنے آپ سے سوال کیجیے کہ ہم اپنے بچوں کے مستقبل کے لیے آج کیا کر رہے ہیں؟
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ یہ مسلسل احتساب، سوال، اختلاف، اظہار اور شہری شرکت کا نام ہے۔ اگر عوام صرف انتخابات کے دن بیدار ہوں اور باقی پانچ سال خاموش تماشائی بنے رہیں تو پھر جمہوریت کا حقیقی مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔
کرکٹ دیکھیں، پولو کھیلیں، سرکس دیکھیں، تفریح کریں؛ ضرور کریں۔ مگر اپنے حقوق کو تماشا نہ بننے دیں۔
اگر آج کسی دوسرے کی محرومی ہمیں بے چین نہیں کرتی تو کل ہماری اپنی محرومی شاید کسی دوسرے کو بے چین نہ کرے۔
قوموں کی تقدیر صرف ایوانوں میں نہیں لکھی جاتی؛ عوام کے شعور، کردار اور اجتماعی ردِعمل سے بھی لکھی جاتی ہے۔
اس لیے سوال صرف جماعتِ اسلامی سے نہیں، ہم سب سے ہے:
کیا ہم اپنے مسائل کے تماشائی رہیں گے، یا اپنے مستقبل کے ذمہ دار شہری بنیں گے؟
آج ضرورت کسی جماعت کی اندھی حمایت کی نہیں؛ ضرورت حق اور باطل، درست اور غلط، عوامی مفاد اور سیاسی مفاد کے درمیان فرق کرنے والے شعور کی ہے۔
اور اگر جماعتِ اسلامی کسی عوامی مسئلے پر آواز اٹھاتی ہے تو اسے سیاسی تعصب سے بالاتر ہوکر سننا چاہیے۔ ممکن ہے ہر بات درست نہ ہو، مگر ممکن ہے اس آواز میں ہمارے اپنے کسی دکھ کی بازگشت ضرور موجود ہو۔
قومیں تماشائی بن کر تاریخ نہیں بناتیں؛ قومیں اس وقت تاریخ بناتی ہیں جب وہ اپنے حق، اپنے وقار اور اپنے مستقبل کے لیے بیدار ہوجاتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button