تازہ ترین

ضلعی انتظامیہ لوئر چترال کی جانب سے کریم آباد کے راستے تریچ میر پاکستان یکجہتی مہم کے شرکاء کے اعزاز میں استقبالیہ

چترال(چ،پ) ضلعی انتظامیہ لوئر چترال کی طرف سے جمعرات کے روز چترال ٹاؤن میں حال ہی میں اختتام پذیر ہونے والی پاکستان یکجہتی مہم برائے تریچ میر بذریعہ سوسوم کریم آباد کے شرکاء کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا انعقاد کیا۔

اس منفرد مہم کی سرپرستی زوم کنکشن نے کی جبکہ ضلعی انتظامیہ لوئر چترال نے اس کی معاونت کی اور اسے ہندوکش سنو اسپورٹس کلب چترال کے اشتراک سے منظم کیا گیا۔ مہم کی قیادت فرانس کے شہر شامونی سے تعلق رکھنے والے معروف ماؤنٹین گائیڈ جولین ہیری نے کی، اور اس میں 16 کوہ پیماؤں، گائیڈز اور پہاڑی کھیلوں کے شوقین افراد نے شرکت کی۔

مہم کی ٹیم 19 مئی سے 4 جون 2026ء تک تریچ میر بیس کیمپ، کریم آباد میں مقیم رہی۔ مہم کے بنیادی مقاصد میں مقامی کھلاڑیوں کو جدید کوہ پیمائی کی تکنیکوں کی تربیت دینا، کریم آباد کے راستے تریچ میر تک متبادل راستے کی تلاش، اور اس علاقے میں ایڈونچر ٹورازم اور سرمائی کھیلوں کے فروغ کے امکانات کا جائزہ لینا شامل تھا۔

قیام کے دوران ٹیم نے تریچ میر سلسلۂ کوہ کے اندر واقع متعدد چھوٹی چوٹیوں کو کامیابی سے سر کیا اور اردگرد کے پہاڑی درّوں کی کھوج اور سروے بھی انجام دیا۔ اس مہم سے رسائی کے راستوں، زمینی حالات اور خطے میں مستقبل میں کوہ پیمائی، اسکیئنگ اور ماحول دوست سیاحت کے مواقع سے متعلق اہم معلومات حاصل ہوئیں۔

مہم کا ایک اہم نتیجہ ایسے موزوں علاقوں کی نشاندہی تھا جو موسمِ گرما میں اسکیئنگ اور برفانی کھیلوں کے لیے نہایت موزوں ہیں، جسے بین الاقوامی شرکاء نے بے حد سراہا۔ غیر ملکی شرکاء نے چترال کے غیر معمولی قدرتی حسن اور ہندوکش کے وسیع مگر غیر دریافت شدہ امکانات کی بھرپور تعریف کی۔ انہوں نے آئندہ برسوں میں دوبارہ آ کر تریچ میر (7,708 میٹر)، جو قراقرم کے علاوہ پاکستان کی بلند ترین چوٹی ہے، کو سر کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

دورے پر آئے کوہ پیماؤں نے یہ عہد بھی کیا کہ وہ اس مہم کی تصاویر، دستاویزی فلمیں اور تشہیری مواد بین الاقوامی پلیٹ فارمز اور سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے ذریعے شائع کریں گے تاکہ چترال کو ایڈونچر ٹورازم، کوہ پیمائی، اسکیئنگ اور ثقافتی سیاحت کے ایک ممتاز مرکز کے طور پر متعارف کرایا جا سکے۔

استقبالیہ تقریب میں چترالی معاشرے کے مختلف طبقات نے شرکت کی، جن میں ہوٹل انڈسٹری کے نمائندگان، ٹریول اور ٹور آپریٹرز، چترال پریس کلب کے اراکین، سول سوسائٹی تنظیمیں، مقامی کوہ پیما، کھیلوں کے شوقین افراد اور سرکاری حکام شامل تھے۔ شرکاء نے مہم کی کامیابیوں کا خیرمقدم کیا اور اس بات پر زور دیا کہ پائیدار سیاحت کے فروغ اور مقامی آبادی کے لیے معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے باہمی تعاون پر مبنی اقدامات نہایت اہم ہیں۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ڈپٹی کمشنر راؤ ہاشم عظیم نے مہم کی کامیاب تکمیل پر ٹیم کو مبارکباد دی اور اس عزم کا اعادہ کیا کہ ضلعی انتظامیہ چترال کی بے پناہ سیاحتی اور ایڈونچر اسپورٹس صلاحیتوں کو اجاگر کرنے والی سرگرمیوں کی بھرپور حمایت جاری رکھے گی۔

ہندوکش سنو اسپورٹس کلب چترال کے صدر شہزادہ ہشام الملک نے ضلعی انتظامیہ، زوم کنکشن، مقامی کمیونٹیز اور تمام شراکت داروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے مہم کی کامیابی میں کردار ادا کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ہندوکش سنو اسپورٹس کلب 2018ء سے قومی اور بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے برفانی کھیلوں، پہاڑی سیاحت اور نوجوانوں کی ایڈونچر سرگرمیوں میں شمولیت کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ مہم چترال کو پہاڑی سیاحت اورسرما ئی کھیلوں کے ایک نمایاں مرکز کے طور پر متعارف کرانے کی ہماری کوششوں میں ایک اور اہم سنگِ میل ہے، ہمیں امید ہے کہ اس اقدام سے حاصل ہونے والا علم اور بین الاقوامی سطح پر ملنے والی تشہیر خطے میں سیاحت کی پائیدار ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گی اور مقامی آبادی کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گی۔”

پاکستان یکجہتی مہم اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہندوکش خطے میں بین الاقوامی کوہ پیماؤں اور ایڈونچر ٹورازم کے ماہرین کی دلچسپی مسلسل بڑھ رہی ہے اور یہ چترال کے شاندار پہاڑی مناظر میں موجود سیاحتی، کھیلوں اور معاشی امکانات کو بروئے کار لانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button