مضامین

​تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کے باوجود عوام ریلیف سے محروم کیوں؟ ​تحریر: بشیر حسین آزاد..

​عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی کے بعد پاکستان میں بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کی توقعات پیدا ہوگئی ہیں۔ عوام کا یہ سوال بالکل جائز ہے کہ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو حکومتیں فوری طور پر پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر دیتی ہیں، لیکن جب عالمی قیمتیں نیچے آتی ہیں تو اس کا فائدہ عوام تک پہنچنے میں تاخیر کیوں کی جاتی ہے؟
​پاکستان کی معیشت کا بڑا حصہ درآمدی تیل پر انحصار کرتا ہے۔ جب عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو حکومت اس کا بوجھ براہِ راست عوام پر منتقل کرتی ہے۔ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ہی ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، اشیائے خوردونوش مہنگی ہو جاتی ہیں، تعمیراتی سامان کی قیمتیں اوپر چلی جاتی ہیں اور روزمرہ استعمال کی تقریباً ہر چیز متاثر ہوتی ہے۔ نتیجتاً عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔
​حالیہ دنوں میں عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں واضح کمی دیکھی گئی ہے۔ بین الاقوامی سطح پر سیاسی کشیدگی میں کمی اور تیل کی سپلائی بہتر ہونے کے باعث قیمتیں نیچے آئی ہیں۔ ایسی صورتحال میں عوام یہ توقع رکھتے ہیں کہ حکومت بھی فوری اور نمایاں کمی کا اعلان کرے۔ لیکن یہاں اکثر ڈالر کی اڑان، آئی ایم ایف کی کڑی شرائط یا مہنگے داموں خریدے گئے ‘پرانے اسٹاک’ کا بہانہ بنا کر عوام کو ریلیف سے محروم رکھا جاتا ہے، یا پھر عالمی منڈی کی کمی کو "پیٹرولیم لیوی” اور ٹیکسوں کے پیٹ میں جھونک دیا جاتا ہے۔ عوام کا یہ مطالبہ ہے کہ جس رفتار سے تیل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا تھا، اسی تناسب اور ایمانداری سے قیمتوں میں کمی بھی کی جائے۔ اگر عالمی منڈی میں خام تیل سستا ہو چکا ہے تو اس کے فوائد صرف سرکاری خزانے کو پہنچانے کے بجائے عوامی مفاد کو ترجیح دی جانی چاہیے۔
​یہاں ایک اور اہم مسئلہ ضلعی انتظامیہ اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی عدم توجہی کا ہے۔ جب پیٹرول مہنگا ہوتا ہے، تو ٹرانسپورٹرز اور دکاندار چند گھنٹوں میں خودساختہ مہنگائی نافذ کر دیتے ہیں۔ لیکن جب حکومت چند روپے کم کرتی ہے، تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی لانے کے لیے کوئی فعال مانیٹرنگ سسٹم نظر نہیں آتا۔ حکومت کو صرف کاغذی احکامات جاری کرنے کے بجائے ضلعی سطح پر اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا حقیقی اثر عام آدمی کی جیب تک پہنچے۔
​اس کے ساتھ ساتھ ملک میں توانائی کی بچت کے نام پر نافذ بعض غیر معمولی اقدامات پر بھی نظرثانی کی ضرورت ہے۔ سکولوں میں تعطیلات، دفاتر کے اوقات کار میں تبدیلیاں اور ہفتے میں اضافی چھٹیوں جیسے اقدامات نے عوامی زندگی، تعلیمی سرگرمیوں اور سرکاری امور پر منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔
​تیل کی عالمی قیمتوں میں کمی کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ ملکی زرِ مبادلہ پر دباؤ کم ہوا ہے۔ اگر حالات معمول پر آ رہے ہیں اور توانائی کا بحران پہلے جیسی شدت کا شکار نہیں، تو حکومت کو ان پالیسیوں کا ازسرِ نو جائزہ لینا چاہیے تاکہ تعلیمی ادارے اور دفاتر اپنی معمول کی سرگرمیوں کے مطابق کام کر سکیں۔ تعلیم کسی بھی قوم کی ترقی کی بنیاد ہوتی ہے۔ سکولوں کی غیر ضروری بندش یا تعلیمی اوقات میں کمی کا براہِ راست اثر طلبہ کے مستقبل پر پڑتا ہے۔ اسی طرح سرکاری دفاتر میں محدود اوقات کار سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور عوامی خدمات کا پورا نظام مفلوج ہو کر رہ جاتا ہے۔
​وقت کا تقاضا ہے کہ حکومت عوامی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری اقدامات کرے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مناسب کمی لائی جائے، ٹرانسپورٹ کرایوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی کو یقینی بنایا جائے اور عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جائے۔ مہنگائی کی موجودہ لہر نے عام آدمی کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے، اس لیے اب ضروری ہے کہ عالمی منڈی کا فائدہ براہِ راست عوام تک پہنچایا جائے۔
​عوام مزید وعدے اور معاشی طفل تسلیاں نہیں بلکہ عملی اقدامات چاہتے ہیں۔ حکومت اگر واقعی عوامی فلاح کی خواہاں ہے تو اسے فوری طور پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی، مہنگائی پر قابو پانے اور عوامی سہولت کے لیے مؤثر اقدامات کا اعلان کرنا ہوگا۔ یہی وقت کا تقاضا اور عوام کی آواز ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button