مضامین

دھڑکنوں کی زبان…………”بجٹ یوں بھی ہو سکتا تھا”………….محمد جاوید حیات

کہتے ہیں کہ لفظ بجٹ فرانسیسی زبان کے لفظ Bougette سے آیا ہے اس کا معنی "چھوٹا تھیلا ” ہے کیا کمال کا موزون لفظ ہے وہ تھیلا جس میں ریگزاری ڈال ڈال کے اس کو بند رکھا جائیے اس سےبچت کی عادت پڑ جائے.. کمائی کی قیمت سمجھ میں آجائے ..یہ لفظ بگڑا تو budget بن گیا ..مطلب اس کا آمدنی اور خرچ کا تحمینہ لیا گیا یہ بڑا معتبر لفظ بن گیا ..یہ فرد سے لے کر گھر تک اور پھر ملک کے لیے آمدنی اور اخراجات کا تحمینہ بن گیا ..فرد اگر عقل و خرد کا مالک ہو تو اپنی آمدن دیکھ کر خرچ کرتا ہے فخر موجودات ص کی حدیث مبارک ہے اپنی مٹھی مبارک بند کرکے دیکھائے کہ مٹھی کے اندر جو ہے وہ رکھو اور جو باہر نکلے وہ خرچ کرو ..اسلام میں قرض کی بڑی حوصلہ شکنی آئی ہے مقروض کی زندگی عذاب میں گزرتی ہے اس کا سکون چھن جاتا ہے اس کی موت پر بھی قرض کی معافی نہیں ہے .رسول مہربان ص مردے کی تدفین سے پہلے اس پر قرض کا پوچھا کرتے تھے ..ہم سن 1950ء کو اس آئی ایم ایف کے رکن بنے اور پہلی بار 8 دسبر 1958ء کو قرض کے لیے ائی ایم ایف کا دروازہ کھثکھٹایا .ہمیں پہلی بار 25 میلین امریکی ڈالر قرض ملے اس پر کوئی شرائط نہیں تھیں بس قرض واپس کرنے کی شرط تھی پھر ہمیں قرضوں کی لت پڑگئی اب قرضوں کو احسان سمجھنے لگے ہیں اور کڑی شرائط کے ساتھ قبول کررہے ہیں .قرض پر بجٹ بنارہے ہیں اور قرض کو "آمدنی” کہہ کر تحمینہ لگا رہے ہیں .بجٹ تو آمدن اور خرچ کا تحمینہ ہوتا ہے قرض تو رسوائی ہے قرض تو آمدن نہیں ہے غالب نے کیا خوب طنز کیا تھا ..
قرض کی پیتے تھے مئے اور سمجھتے تھے یہ کہ ہاں …
رنگ لائے گی ہماری فاقہ مستی ایک دن .
لیکن ہم وہ بے شرم ہیں کہ ہماری "فاقہ مستی”ختم نہیں ہوتی مانگتے ہیں کھاتے ہیں .مانگنے والے کو اقبال نے ” گدا”کہا تھا بلکہ اس کو "گدھا”کہنا چاہئے ..ہم ہر سال بجٹ پیش کرتے ہیں اور یہاں تک اپنا معیار گرا چکے ہیں کہ قرض دینے والے ہمیں ہدایات دیتے ہیں کہ یوں بجٹ بناؤ ..ہماری ڈھٹائی دیکھو ہم قرض لینے کو اپنی کامیابی سمجھتے ہیں .اگر ہم زندہ قوم ہوتے تو ہمارے پاس قناعت کی دولت ہوتی ہم اپنے "اخراجات” اپنی "خالص آمدن "کے مطابق رکھتے ..بجٹ یوں بھی بن سکتا تھا کہ وزیر اعظم اپنے اخراجات صفر رکھتے اپنی عیاشیاں کم بلکہ ختم کرتے .تمام افسران شاہی کو شاہ خرچیوں سے روکتے .کرپٹ عناصر کی گردنیں سر عام اڑا دیتے .ملک کا غریب طبقہ اور اس کا معیار زندگی بجٹ کے ٹارگٹ ہوتے .افسر شاہی اور عدالتوں کے برائے نام قاضیوں( ججوں) پر دولت کی تجوریاں نہ کھولی جاتیں بجٹ میں ان کے کام کے عین مطابق ان کے لیے معاوضہ مقرر کیا جاتا .ہر محکمے کے ہر طبقہ کار کے مراعات ان کے کام اور کارکردگی کے مطابق مقرر کیے جاتے.کسی کو مفت کچھ نہ ملتا پٹرول،بجلی،گیس اور یوٹیلیٹی بل بند ہوتے ..سرکاری گاڑیاں کار سر کار میں استعمال ہوتیں ٹھیکداری سسٹم شفاف ہوتا .کمیشن ، غبن ، دھوکہ دہی اختیار کاغلط استعمال کرنے، ذاتی مفادات حاصل کرنے ،کھوکھلی سیاسی نعروں سے قوم کو بےوقوف بنانے کی اجازت نہ ہوتی .یہ سب بجٹ میں زیر بحث آتے اور ان پر عمل سختی سے ہوتا.ہماری بد بختی یہ ہے کہ ساری قوم قرضوں سے نجات چاہتی ہے مگر قرضوں کے بغیر اشرافیہ کی عیاشیاں ممکن نہیں ہیں اس لئے نجات ممکن نہیں چند اشرافیہ قوم ہیں ہم ہجوم ہیں کالانعام ….آئی ایم ایف کا مقصد قوم کو برباد کرکے اپنے شکنجے میں کسناہے اورکستا جارہاہے .مہینگائی نے عوام کی کمر توڑ دی ہے معمولی تنخواہ دار طبقہ چیخ رہا ہے اس کے لیے زندگی کی سہولیات مفقود ہوتی جارہی ہیں ..سرکاری ادارے خواہ صحت کے ہوں تعلیم کے ہوں نے اپنی کارکردی چھوڑ دی ہیں غریب طبقہ صحت کے نجی اداروں میں اپنے مریضوں کا علاج نہیں کراسکتا سرکاری اداروں میں مریض ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر مر رہے ہیں .سرکاری سکولوں میں واجبی تعلیم دی جاتی ہے غریب کا بچہ آگے جاکر مقابلے کے قابل نہیں ہو سکتا بجٹ میں ان اداروں کے لیے مناسب فنڈ رکھ کر ان کی کارکردگی بڑھایا جاسکتا تھا ایسا نہیں ہوگا کیونکہ یہ ادارے اشرافیہ کے لیے نہیں ہیں .بجٹ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ غریب کو اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جاتا ان کو زندگی کی بنیادی سہولیات مہیا کی جاتیں ..ائی پی
بپیز کی بجلی کی مد میں ان کا خون نہ نچوڑا جاتا .بجٹ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ غریب کا مفت علاج ہوتا اور صحت کارڈ کے نام پر ان کو ذلیل نہ کیا جاتا .صحت کارڈ کے نام سے ایک مریض سے انتظار کرایا جاتا ہے اتنا انتظار کہ وہ انتظار ہی میں مرجاتا ہے .بجٹ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ پبلک ٹرانسپورٹ اور کرایے غریب کی استطاعت کے مطابق ہوں .بجٹ یوں بھی ہو سکتا تھا کہ وزیر اعظم کے ذاتی باورچی خانے کا خرچ ایک عام شہری کے برابر ہو .بجٹ یوں بھی ہو سکتا تھا کہ معاشرے کے چند مافیاز کی دولت کاجائزہ لیا جاتا ان کے زرائع آمدن کا پتہ لگایا جاتا اگر وہ قومی دولت لوٹ رہے ہیں تو یہ دولت ضبط کرکے اس کا سر قلم کیا جاتا بجٹ یوں بھی ہوسکتا تھا کہ قرض فری بجٹ ہو .ملک میں جو آمدن ہے اس کے مطابق اپنا خرچ اور اپنی اوقات ڈیزاین کی جاتی .دنیا کی غیرت مند قومیں قرض پربجٹ نہیں بناتے .اگر مقروض ہوں تو پیٹ کاٹتے ہیں .اخراجات کم کرتے ہیں قربانیاں دیتے ہیں قناعت اختیار کرتے ہیں ..دوسری جنگ عظیم میں جاپان کی معیشت اٹم بم کے زریعے تباہ کی گئی ان کے دو بڑے صنعتی شہروں ہیروشیما اور ناگاساکھی کو بموں سے کھنڈر بنایا گیا .جاپانی قوم نے قرض کسی سے نہیں مانگا بیس سال تک پوری قوم صرف ایک وقت کا کھانا کھاتی تھی جب مستحکم ہوئے تب فیصلہ کیا کہ اب ہم ناشتہ بھی کریں گے پوری قوم سے مراد وزیر اعظم سے لے کر مزدور تک ..ایسی قوم اپنا بجٹ پیش کرسکتی ہے اور دنیا کے سامنے سراٹھا کے جی سکتی ہے ..ہمارابجٹ ہماری بےغیرتی اور رسوائی کی دستاویز ہے ایسی دستاویز جو قومیں مٹایا کرتی ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button