مضامین

چترال پولیس اور عوام محبت اور اعتماد کا لا زوال رشتہ ۔۔ کاوشات اقبال سے ایک ورق۔۔۔

کوہ ہندوکش تریچ میر کے بلکل دامن میں واقع چترال اپر و لوٸر چترال کی جنت نظیر وادیاں ہیں جو اپنی الگ اور منفرد تہذیب و ثقافت کی وجہ سے دنیا بھر میں ایک خاص پہچان رکھتے ہیں۔ دنیا بھر کے سیاحوں کو ان علاقوں کے دلفریب نظارے، نیلے پانیاں اور برف سے ڈھکے پہاڑ اپنی سحر میں جکڑ دیتے ہیں، جس کی وجہ سے سیاح ان علاقوں کی طرف کھچے چلے آتے ہیں۔ ان علاقوں کی اصل پہچان حسین، دلکش اور دلفریب نظارے ہی نہیں بلکہ اس کے سادہ دل اور مہمان نواز لوگ اور ان لوگوں کے مابین پائی جانے والی باہمی ہمدردی، صلہ رحمی، مروت اور محبت بھی ہے، جس کی وجہ سے مملکت پاکستان کے دوسرے تمام اضلاع پچھلے دو دہائیوں سے دہشت گردی کی عفریت کے چنگل میں رہنے کے باوجود یہ علاقے پوری دنیا میں امن و آشتی کا گہوارہ بنے رہے اور تا ہنوز ان علاقوں کے امن کی مثالیں دی جاتی ہیں۔ اس امن و امان کو برقرار رکھنے میں علاقے کے لوگوں کے کمال اوصاف کیساتھ ساتھ، چترال پولیس جیسے اداروں کا کردار بھی نا قابل فراموش ہے۔ جو اپنی عوام کی خدمت میں ہمہ وقت کمربستہ رہی اور امن کو خراب کرنے کی حقیر کوشش کو بھی عوام کو لیکر ناکام بنائی۔ لوگوں کے مابین چپقلش کو باہمی بات چیت کے ذریعے حل کرنا ہو یا نا انصافی اور ظلم کے خلاف ڈٹ جانا ہو، چترال اپر و لوئر پولیس ہر موقع پر اپنے لوگوں کے مابین مروت کو برقرار رکھنے میں اپنا کردار ادا کرتی آئی ہے۔

جب ظلم و بربریت کا سامنا ہو تو سب سے پہلے خدا کی یاد آتی ہے۔ اس کے بعد زمینی اسباب میں سب سے پہلے جس کی یاد آئے وہ پولیس ہے۔ جی ہاں۔۔۔۔ وہ ادارہ جو جرائم کے سدباب اور قانون کی بالادستی کا امین ہے۔ معاشرے کی اصلاح کا ذمہ دار۔۔۔۔ جسے قانون نے جرائم کی روک تھام اور نفاذ قانون کی خاطر کچھ محدود اختیارات دیا ہے۔ اور یہی اختیارات ہیں جن کی وجہ سے یہ ادارہ اکثر معاشرے کی تنقید کا سامنا بھی کرتا ہے، اور کبھی کبھار نفرتوں کے تیر بھی اس پر برسائے جاتے ہیں، لیکن اس کے باوجود یہ ادارہ جاں فشانی سے اپنے فرض منصبی کی انجام دہی کی خاطر ڈٹا رہتا ہے۔ پاکستان میں قانون تمام صوبوں کیلئے ایک ہے لیکن اس کے باوجود اس قانون نافذ کرنے والے ادارے کی حیثیت مرکزی نہیں بلکہ یہ ایک صوبائی ادارہ ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ کی حکومت اپنے صوبے کی پولیس کو ایک ماڈل پولیس کہتی ہے، جو کہ بلکل درست ہے۔ کیونکہ وسائل کے فقدان کے باوجود اس صوبے کی پولیس کو جو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، شاید ہی کوئی ادارہ اتنی بڑی ذمہ داریاں پوری کرسکتا ہو، اس ادارے سے وابستہ جوان اس مملکت کی صدا پر جان بھی واء کرنے سے دریغ نہیں کرتے اور اپنے بچے یتیم کرکے اس گلشن کی آبیاری کرتے ہیں۔ اور ہر مشکل میں یاد آنے والا یہ ادارہ بنیادی ضروریات اور وسائل کی تقسیم کے وقت ارباب اختیار کی کمال بے مروتی اور نسیان کا سامنا کرتا ہے۔ کیونکہ یہ ماڈل پولیس جو ہے جس کے ذمے معاشرے کا اصلاح ہے۔

اس دنیا کی کچھ ذمہ داریاں بہت ہی گراں بار ہوتی ہیں۔ اتنی کہ جانوں کی قربانی تک کا تقاضہ کرتی ہیں۔ انہی ذمہ داریوں میں ایک اصلاح معاشرہ ہے۔ یہ تو ازل کا قصہ ہے کہ جس نے بھی کسی کی اصلاح کی کوشش کی وہ مصائب کی انگاروں پر گھسیٹا گیا۔ یہ آج بھی کہ جو حق کی طرف بلائے اس پر آلام کے پہاڑ گرائے جاتے ہیں۔ یہ کل بھی کہ جو انسانیت کی اصلاح کی کوشش کرے گا وہ روگ کی زنجیروں میں جکڑا جائیگا، اس کے باوجود انسانیت کی اصلاح کی خاطر کچھ کو رب العزت منتخب کرتا ہے۔ یہ کچھ چنیدہ لوگ ہوتے ہیں، کچھ تفویض کردہ ادارے، اور ہمارے اس ریاست خداداد میں یہی قانون نافذ کرنے والے ادارے ہیں جو طاقت کے بل پر جرائم کی بیخ کنی کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ادارے سے وابسطگی کیساتھ دشواریوں کے خار بھی جڑے ہوئے ہیں۔ لیکن یہ ادارہ اپنے محدود وسائل کے باوجود تفویض شدہ ذمہ داریاں پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

برطانیہ کے مشہور سیاستدان سر رابرٹ پیل، جسے ماڈرن پولیسنگ کا بانی کہا جاتا ہے، نے کہا تھا،
"The police are the public and the public are the police.”
اس قول سے مرآد یہ ہے کہ پولیس کی عزت سے ہی عوام کی عزت مشروط ہے۔ یعنی جب تک ہم اپنی پولیس کو عزت نہیں دیں گے تب تک ہم عوام کی بھی کوئی عزت نہیں کرے گا۔ اس قول کے پیش نظر ہمارے خیبر پختونخواہ پولیس کے افسران نے ‘پبلک پولیسنگ’ کا اصطلاح نافذ کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ جس سے عوام اور پولیس کے مابین خلیج کم ہوگی اور عوام کا اپنی پولیس پر اعتماد بحال ہو سکتا ہے۔ چترال کی سطح پر اگر دیکھا جائے تو پبلک پولیسنگ کے اثرات کچھ کچھ نظر آنا شروع ہوگئے ہیں۔ بازار چترال میں موجود دوکانداران جنہوں نے اپنی دکانوں کے باہر کیمرے لگوائے ہیں، نے اپنی دکانوں کے بیرونی کیمروں تک پولیس کو رسائی دے رکھے ہیں۔ اس طرح پورے بازار چترال کو پولیس کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کے تحت ایک دفتر میں بیٹھے دیکھا جاسکتا ہے، جس سے جرائم کی روک تھام یا جرائم واقع ہونے کی صورت میں ملزمان کی شناخت آسان ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ہر یونین کونسل کی سطح پر پولیس لیزان کمیٹیاں PLC بنائے گئے ہیں جس میں ہر گاؤں سے معززین علاقہ شامل ہوتے ہیں۔ جن کیساتھ ہر مہینے افسران انچارچ تھانہ جاتSHOs اور ایس ڈی پی اوز SDPOs میٹنگ کرتے ہیں۔ یہ کمیٹیاں علاقے میں ہونے والے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی روک تھام اور جرائم پیشہ افراد کو قانون کے حوالے کرنے میں پولیس کی مدد کرتے ہیں۔ معاشرے میں خواتین کے حقوق کی تحفظ کی خاطر women desk کا قیام عمل میں لایا گیا ہے، جہاں خواتین اپنے اوپر ہونے والے مظالم پولیس تک پہنچا سکتی ہیں۔ ان مظالم کی وجہ سے خواتین خود کشی کی حد تک پہنچتی ہیں۔ لہذا اس اقدام سے خواتین میں خود کشی کے رجحانات بھی کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ دیہی تنازعات کو جرگہ کے ذریعے حل کرنے کی خاطر DRC ڈسپیوٹ ریزولوشن سنٹرز قائم کئے گئے ہیں۔ جس میں لوگوں کے مابین تنازعات جرگے کے ذریعے حل کرنے میں مدد ملتی ہے اور پبلک کی مشکلات آسانی سے حل ہو جاتے ہیں۔ عوام کی سہولت کی خاطر پولیس سہولت مرکز PSM بنایا گیا ہے۔ جس میں عوامی سہولیات جیسے ڈرائیونگ لائسنس، پولیس ویریفیکیشن سرٹیفیکیٹ وغیرہ ایک چھت تلے عوام کو ملتی ہیں۔ اس سہولت کے تحت پبلک کی سطح پر ہونے والے تمام دفاتر کو اس طرح ترتیب دینے کی پالیسی ہے جہاں ہر سہولت عوام کیلئے مہیا ہوگی۔ پبلک پولیسنگ کے ذریعے سے معاشرے سے جرائم اور منشیات کا خاتمہ سہل ہو سکتا ہے۔ پبلک پولیسنگ کے کچھ ثمرات ملنا شروع ہو گئے ہیں، جس کیلئے افسران پولیس داد تحسین کے مستحق ہیں۔

چترال پولیس علاقے سے منشیات کے مکروہ دھندے کو ختم کرنے کیلئے اپنی ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہے۔ نو تعینات ڈسٹرکٹ پولیس افیسر محترمہ ریشم جہانگیر صاحبہ نے آتے ہی علاقے کے حالات کا بخوبی ادراک کرتے ہوئے اس قبیہہ دھندے کو چترال سے جڑ سے اکھاڑنے کا اعادہ کی ہے جس کیلئے عوام چترال ڈی پی صاحبہ کے مشکور ہیں۔ نو تعینات ڈی پی او صاحبہ سے عوام کی توقعات وابستہ ہیں کہ چترال سے منشیات کا قلع قمع کرنے میں اپنی بہترین صلاحیتیں بروئے کار لائیں گی اور ‘پبلک پولیسنگ’ کے ذریعے پولیس اور عوام کو مزید قریب لاکر چترال پولیس کو حقیقی معنوں میں ایک ماڈل پولیس بنانے میں اپنا حصہ ڈالیں گی۔ کیونکہ اسی سے ہی عوام اور پولیس کی عزت بحال رہ سکتی ہے۔ صوبائی حکومت بھی پولیس کو حقیقی معنوں میں ماڈل پولیس بنانے کی خاطر پولیس کو بہتر مراعات فراہم کرے اور پولیس کیلئے بہترین وسائل مہیاء کرے تا کہ پولیس معاشی فکروں سے آزاد ہو کر اپنے عوام کی بہترین خدمت انجام دے سکے، معاشرے کی صحیح معنوں میں اصلاح کرسکے اور اپنی عزت بحال کر سکے۔ کیونکہ پولیس کی عزت کیساتھ عوام کی عزت وابستہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button