تدریسی نظام میں والدین اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر تعلیمی میدان میں دیرپا اور مثبت نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے/ڈی ای او شاہدحسین

چترال(ڈیلی چترال نیوز )ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (میل) لوئر چترال شاہد حسین نے کہا ہے کہ تدریسی نظام میں والدین اور مقامی کمیونٹی کی شمولیت کے بغیر تعلیمی میدان میں دیرپا اور مثبت نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر حال ہی میں پبلک سیکٹر کے آؤٹ سورس کیے گئے سکولوں میں کمیونٹی کی شراکت مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔وہ جمعرات کے روز گورنمنٹ پرائمری سکول بلچ میں اپر اور لوئر چترال کے آؤٹ سورس شدہ سکولوں کے طلبہ و طالبات کے لیے منعقدہ سمر کیمپ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔شاہد حسین نے کہا کہ بچوں کو تعلیم سے رغبت دلانے کے لیے ضروری ہے کہ تدریس کو بوجھ یا دباؤ بنانے کے بجائے کھیل، سرگرمیوں اور خوشگوار ماحول کے ذریعے پیش کیا جائے۔ انہوں نے پاکستان ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) کی جانب سے چلائے جانے والے سکولوں میں جدید اور دلچسپ تدریسی طریقہ کار کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ آؤٹ سورس شدہ سکولوں کا مقصد سرکاری سکولوں سے مقابلہ کرنا نہیں بلکہ مجموعی تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔انہوں نے بتایا کہ اپر اور لوئر چترال میں سرکاری پرائمری سکولوں کی آؤٹ سورسنگ کا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، جس کا بنیادی مقصد بالخصوص دور دراز علاقوں میں معیاری تعلیم کی فراہمی، تعلیمی سہولیات کی بہتری اور بچوں کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔اس موقع پر پاکستان ایجوکیشن نیٹ ورک (PEN) کے ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر خورشید احمد نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ PEN ایک مؤثر تعلیمی نیٹ ورک ہے جو جدید تدریسی تربیت، بہتر نظم و ضبط اور اعلیٰ معیارِ تعلیم کے فروغ کے لیے سرگرم عمل ہے۔انہوں نے بتایا کہ خیبر پختونخوا حکومت نے تعلیمی اصلاحات کے تحت اپر اور لوئر چترال کے 17 سرکاری پرائمری سکول پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت PEN کے سپرد کیے ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد تعلیمی معیار میں بہتری، طلبہ کی انرولمنٹ میں اضافہ اور کمزور کارکردگی والے سکولوں کو دوبارہ فعال بنانا ہے۔ڈاکٹر خورشید احمد کے مطابق PEN نے تمام آؤٹ سورس شدہ سکولوں میں اساتذہ کو جدید تدریسی تربیت فراہم کرنے کے ساتھ باقاعدہ تعلیمی سرگرمیوں کا آغاز بھی کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں، جن میں طلبہ کی تعداد، اساتذہ کی دستیابی اور مقامی نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع نمایاں ہیں۔تقریب میں ڈسٹرکٹ پروگرام آفیسر ایلیمنٹری ایجوکیشن فاؤنڈیشن لوئر چترال نعیم اللہ، پرنسپل گورنمنٹ ہائی سکول بلچ ندیم احمد، ڈی ای او (فیمیل) کے نمائندے، اساتذہ، طلبہ اور مقامی افراد نے بھی شرکت کی۔












