اکاہ اورفوکس پاکستان کے زیرِ اہتمام لوئرچترال میڈیا نمائندگان کے لیے صنف اور معذوری کو مدِنظر رکھتے ہوئے قدرتی آفات کی مؤثر رپورٹنگ کے موضوع پر دوروزہ تربیتی ورکشاپ

چترال (ڈیلی چترال نیوز) آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ اور فوکس ہیومینیٹیرین اسسٹنس پاکستان کے زیرِ اہتمام لوئرچترال کے میڈیا نمائندگان کے لیے صنف اور معذوری کو مدِنظر رکھتے ہوئے قدرتی آفات کی مؤثر رپورٹنگ کے موضوع پر دوروزہ تربیتی ورکشاپ کا انعقاد کیا گیا۔ورکشاپ کا مقصد صحافیوں اور میڈیا سے وابستہ افراد کی استعدادِ کار میں اضافہ کرنا اور انہیں قدرتی آفات کے دوران خواتین، بچوں، خصوصی افراد اور دیگر کمزور طبقات کے مسائل کو ذمہ دارانہ اور مؤثر انداز میں اجاگر کرنے کے حوالے سے آگاہی فراہم کرنا تھا۔
تربیتی ورکشاپ کے پہلے روز شرکاء کو وادی بمبوریت کا فیلڈ وزٹ کرایا گیا، جہاں انہیں قدرتی آفات کے خطرات کم کرنے، انسانی جانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کے لیے آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کی جانب سے کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا گیا۔فیلڈ وزٹ کے دوران شرکاء کو بتایا گیا کہ بمبوریت اور شخاندہ کے علاقوں میں ارلی وارننگ سسٹم نصب کیے گئے ہیں، جبکہ ہنگامی صورتحال میں فوری استعمال کے لیے اسٹاک پائلز بھی قائم کیے گئے ہیں، جہاں ضروری امدادی سامان دستیاب رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ درجنوں نوجوانوں کو مقامی سطح پر تربیت فراہم کی گئی ہے، جو کسی بھی قدرتی آفت کی صورت میں متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کے واش پراجیکٹ کے تحت کالاش ویلیز کے 16 سرکاری سکولوں میں صاف پانی، واش رومز اور واش بیسن سمیت بنیادی سہولیات فراہم کی گئی ہیں، جبکہ اساتذہ اور طلبہ کو فرسٹ ایڈ کی تربیت اور فرسٹ ایڈ کٹس بھی فراہم کی گئی ہیں تاکہ ہنگامی حالات میں فوری طبی امداد فراہم کی جا سکے۔
اس موقع پر گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری سکول بمبوریت کے پرنسپل ثناء اللہ، سینئر ٹیچر اخونزادہ سراج احمد اور دیگر اساتذہ نے آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ اورفوکس پاکستان کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ادارے نے سکول میں بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے 27 لاکھ روپے فراہم کیے، جو ادارے کے مقررہ معیار کے مطابق خرچ کیے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اساتذہ اور طلبہ کو فرسٹ ایڈ کی تربیت دینے کے ساتھ متعدد فرسٹ ایڈ کٹس بھی فراہم کی گئی ہیں، جس کی بدولت کسی بھی ہنگامی صورتحال میں تربیت یافتہ اساتذہ اور طلبہ فوری طور پر ابتدائی طبی امداد فراہم کرسکتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ اورفوکس نے خصوصی افراد کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے سکول میں ریمپ بھی تعمیر کیا ہے، جس سے وہیل چیئر استعمال کرنے والے طلبہ اور دیگر خصوصی افراد کے لیے سکول میں داخل ہونا اور کلاس رومز تک رسائی آسان ہوگئی ہے۔ اس کے علاوہ کالاش ویلیز کے جن سکولوں میں آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ پاکستان کے واش پراجیکٹ کے تحت کام کیا گیا ہے، وہاں خصوصی افراد کی مشکلات کو مدنظر رکھتے ہوئے خصوصی واش رومز، واٹر بیسن اور ریمپس تعمیر کیے گئے ہیں تاکہ وہیل چیئر استعمال کرنے والے طلبہ سمیت دیگر خصوصی افراد بلا رکاوٹ اپنی تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں۔
علاقہ مکینوں کاکہناہے کہ ہمارے معاشرے میں خصوصی افراد کو روزمرہ زندگی کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت اور سرکاری و عوامی اداروں تک رسائی میں بھی متعدد مشکلات کا سامنا رہتا ہے۔ بالخصوص پرانے سرکاری سکولوں، ہسپتالوں اور سرکاری دفاتر میں ریمپ اور دیگر ضروری سہولیات نہ ہونے کی وجہ سے وہیل چیئر استعمال کرنے والے افراد کے لیے عمارت میں داخل ہونا، متعلقہ افسران تک پہنچنا اور بنیادی خدمات حاصل کرنا انتہائی دشوار ہوجاتا ہے۔اگر تعلیمی اداروں اور سرکاری عمارتوں میں ریمپس، خصوصی واش رومز، مناسب واٹر بیسن، قابلِ رسائی راستے اور دیگر ضروری سہولیات فراہم کی جائیں تو خصوصی افراد بھی باعزت اور خودمختار انداز میں اپنی تعلیم اور دیگر معمولات جاری رکھ سکتے ہیں۔ مقریرین کاکہناہے کہ خصوصی افراد کو سہولت فراہم کرنا محض ہمدردی نہیں بلکہ ان کا بنیادی حق ہے، اور اس حوالے سے سرکاری اداروں، غیر سرکاری تنظیموں اور مقامی کمیونٹی کو مل کر عملی اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔
ساٹ کے کیپٹن زاہدعالم اورکالاش کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سماجی کارکن یاسر احمد نے کہا کہ وہ گزشتہ کئی سالوں سے آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کر رہے ہیں اور ادارے نے مقامی نوجوانوں کو رضاکارانہ خدمات اور قدرتی آفات سے نمٹنے کی تربیت فراہم کی ہے۔انہوں نے کہا کہ آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کی تربیت اور بروقت اقدامات کی بدولت 2015 کے شدید سیلاب کے دوران بمبوریت میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔ تربیت یافتہ نوجوانوں نے رضاکارانہ طور پر سینکڑوں ملکی و غیر ملکی سیاحوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔دیگر رضاکاروں نے بھی آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ کی جانب سے وقتاً فوقتاً منعقد کیے جانے والے آگاہی اور تربیتی پروگراموں کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان سرگرمیوں کی بدولت مقامی نوجوان قدرتی آفات کے دوران عوام کی مدد اور خدمت کے لیے بہتر طور پر تیار ہیں۔
اس موقع پر آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ پاکستان کے کمیونیکیشن آفیسر مہر آفتاب، ٹریننگ آفیسر فدا حسن اور جیالوجسٹ ضیاء الرحمن نے بتایا کہ آغا خان ایجنسی فار ہیبیٹاٹ اور فوکس ہیومینیٹیرین اسسٹنس پاکستان نے چترال کے طول وعرض میں 40 ہزار سے زائد خواتین و حضرات کو قدرتی آفات کے دوران انسانی جانوں کے تحفظ اور رضاکارانہ خدمات کے لیے تربیت فراہم کی ہے۔ تربیت یافتہ رضاکار کسی بھی ہنگامی صورتحال میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے متاثرہ افراد کی مدد اور انسانی جانوں کے تحفظ میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔












