تازہ ترین

تجار یونین بونی کی کال پر ملاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کے خلاف احتجاجی جلسہ آل پارٹیز کی شرکت، ٹیکس کا نفاذ مسترد

صدر انجمن تاجرانِ ملاکنڈ حاجی عبد الرحیم کی کال پر آج اپر چترال کے ہیڈکوارٹر بونی میں ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس کے نفاذ کے خلاف بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔ تجار یونین بونی بازار کی جانب سے احتجاجی ریلی نکالی گئی، جو چوک بونی پہنچ کر ایک بڑے احتجاجی جلسے کی شکل اختیار کر گئی۔جلسے میں تجار یونین کے عہدیداران و نمائندگان کے علاوہ مختلف سیاسی جماعتوں کے سربراہان، رہنماؤں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے شرکت کی۔سنیئر نائب صدر تجار محمد اسلام نے صدارت کی۔صدر تجار یونین بونی اپر چترال رحیم خان کی صدارت میں منعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے ملاکنڈ ڈویژن پر ٹیکس کے نفاذ کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اس وقت کسی بھی اضافی مالی بوجھ کو برداشت کرنے کے قابل نہیں ہیں۔ مقررین نے کہا کہ اشرافیہ اپنی مراعات اور اخراجات میں اضافے کے لیے غریب عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبانا چاہتی ہے، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا۔مقررین نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام عرصۂ دراز سے امن و امان کے مسائل سے دوچار ہیں اور بنیادی سہولیات سے بھی محروم ہیں۔ ایسی صورتِ حال میں اپر چترال کے کسی غریب فرد پر اسلام آباد جیسے ٹیکس کا نفاذ انصاف کے منافی ہے۔ وفاقی حکومت فوری طور پر ٹیکس کا نفاذ واپس لے اور غریب عوام کو بنیادی حقِ زندگی سے محروم نہ کرے۔جلسے سے بازار کے نمائندگان کے علاوہ جماعت اسلامی کے امیر اسد الرحمٰن، تحریک حقوقِ عوام کے صدر مختار احمد سنگین، جمعیت علماء اسلام کے امیر و سابق تحصیل ناظم مولانا محمد یوسف، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر محمد پرویز لال، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے تحصیل صدر جاوید خان، سابق چیئرمین اور ممتاز سماجی و سیاسی شخصیت فضل الرحمٰن، سابق صدر تجار یونین محمد شفیع، صدر لیبر ونگ پاکستان مسلم لیگ (ن) و نائب صدر ٹریڈ یونین بونی افسر علیم، محمد ناظم خان، عزیز الدین لال اور دیگر مقررین نے خطاب کیا۔صدرِ جلسہ رحیم خان نے اپنے صدارتی خطاب میں تجار یونین، آل پارٹیز کے قائدین اور سول سوسائٹی کی نمائندگی کرنے والے تمام افراد اور پریس کلب اپر چترال کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ صدر انجمن تاجرانِ ملاکنڈ حاجی عبد الرحیم اپنی تمام تر توانائیاں بروئے کار لاتے ہوئے عوام کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ کسی ایک فرد یا طبقے کی جنگ نہیں بلکہ ملاکنڈ ڈویژن کے ہر فرد کے حقوق کا معاملہ ہے، کیونکہ اس ٹیکس سے ہر طبقہ متاثر ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ملاکنڈ ڈویژن کے عوام اس وقت کسی بھی اضافی مالی بوجھ کو برداشت کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔ یہ تحریک مطالبات کی منظوری تک جاری رہے گی اور اس مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔رحیم خان نے کہا کہ اگر مطالبات منظور نہ کیے گئے تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا، جس میں دھرنا، بھوک ہڑتال اور لانگ مارچ جیسے آپشنز بھی موجود ہیں۔احتجاجی جلسے کا اختتام سابق امیر جماعت اسلامی مولانا جاوید حسین کی دعائیہ کلمات سے ہوا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button