نوجوان نسل: بے مقصد مصروفیات سے مقصدِ حیات تک……… کاوشاتِ اقبال سے ایک ورق

ہر بچہ چونکہ فطرتِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، اس لیے اللہ نے والد یا سرپرست کی یہ ڈیوٹی لگائی ہے کہ وہ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ اپنے بچوں کی بھی تربیت کرے تاکہ اس کے بچے بھی قیامت کے دن کامیابی سے ہمکنار ہوں اور دنیاوی زندگی میں بھی کامیابی سے ہمکنار ہوں۔
نوجوان کسی بھی قوم کا سب سے زیادہ قیمتی سرمایہ اور قوم کا اصل مستقبل ہیں۔ جوانی وہ دور ہوتا ہے جس میں انسان کے پاس بھرپور جسمانی طاقت، فکر، صلاحیت اور کچھ کر دکھانے کا جذبہ ہوتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے، جس قوم نے اپنے نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سمجھا، وہ دنیا کی حکمران بنیں۔ آج کے دور میں نوجوانوں کو فکری انتشار اور منفی سرگرمیوں سے بچانے کے لیے تربیت کی ضرورت ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ نوجوانوں کو جدید علم، فنی مہارتوں سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ ملک و قوم کی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔ نوجوانوں کو مقصد کے چھوڑنے کی بجائے اپنے وقت کا صحیح استعمال کرنے اور اخلاقی اقدار اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
آج کے جوان غیر ضروری اور بے مقصد کاموں میں، جیسے سوشل میڈیا کا بے جا استعمال، وقت کا ضیاع اور لائحہ عمل کی طرف رجحان، ایک اہم معاشرتی مسئلہ ہے۔ مناسب رہنمائی اور مصروفیات نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان اپنا وقت فارغ گزارتے ہیں اور زندگی کا متعین مقصد نہیں رکھتے۔ انٹرنیٹ اور سمارٹ فون نے فوری اور سستی تفریح فراہم کی ہے، جس کی وجہ سے نوجوان تعمیری کاموں اور مطالعے سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ گھر میں تربیت کی کمی اور والدین کا بچوں کو وقت نہ دینا اور غیر دوستانہ ماحول رکھنا ان کو غلط راستے پر گامزن کرتا ہے۔
منفی اور لایعنی سرگرمیوں میں ملوث دوستوں کا اثر نوجوانوں کو اہم ذمہ داریوں سے غافل کر دیتا ہے۔ نوجوانوں کو دین اور دنیاوی زندگی کا مقصد سمجھانا اور ان کی صلاحیتوں کو مناسب سمت دینا، انہیں تفریح، ہنر سکھانے اور مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنا ضروری ہے تاکہ فراغت میں وقت ضائع نہ کریں۔ گھر اور تعلیمی اداروں میں بہتر کونسلنگ اور دوستانہ ماحول رکھنا تاکہ وہ اپنی توانائی کا صحیح استعمال کر سکیں۔
آج کے نوجوانوں کو دورِ جدید کے اہم ترین مسائل درپیش ہیں۔ آج کے نوجوان ڈگریاں حاصل کرنے کے بعد بھی روزگار کے مواقع کی کمی ہے، جس سے معاشی بوجھ بڑھ رہی ہے۔ مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال، ناکام ہونے کا خوف اور احساسِ محرومی نوجوانوں میں ڈپریشن کا سبب بن رہا ہے۔ فرسودہ اور روایتی تعلیمی نظام عملی مہارتوں اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ صحبت کا غلط استعمال، اشراط اور منشیات کی لت نوجوان کی تباہی کا بڑا سبب ہے۔ بے روزگاری اور مہنگائی کی وجہ سے نوجوان ازدواجی زندگی اور اخراجات برداشت نہیں کر سکتے، جس سے اخلاقی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ والدین اور بچوں کے درمیان مضبوط ربط سے اس میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے والدین اپنا فیصلہ کرنے سے گریز، بلا جھجک بات چیت کا ماحول، تنقید کی بجائے حوصلہ افزائی، جدید تقاضوں کو سمجھنا، جذبات کا قدر، باہمی پرائیویسی کا قدر جیسے بنیادی نکات ہیں، جن کو اپنا کر نوجوانوں کی اصلاح ممکن ہے۔
نوجوانوں کی صلاحیتیں ایک بہتے ہوئے چشمے کی مانند ہیں۔ اگر انہیں صحیح رخ دیا جائے تو راستہ بھول جاتی ہیں۔ نوجوانوں کو غیر ضروری کاموں سے روکنے کا بہترین حل یہ ہے کہ ان کے جذبوں کو تعمیرِ ذات اور مقصدِ حیات سے جوڑا جائے۔ ان پر تنقید کی بجائے ان پر اعتماد کیا جائے، علمی مہارت سکھانے، تخلیقی صلاحیتوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف کرنے سے ان کا رجحان مثبت ہو سکتا ہے۔ ان کو پابندیوں کی زنجیروں سے ہرگز نہیں بلکہ پیار و محبت اور تربیت کی ایک بوند ان کی قسمت کو بدل سکتی ہے۔


