خواتین کا صفحہمضامین

یتیم ملک…….فَریدہ سلطانہ فَری

آج کل کسی سے پہلی ملاقات ہو تو اکثر تعارف نام، پیشے یا خیریت سے نہیں، بلکہ سیاسی وابستگی سے شروع ہوتا ہے۔ گویا انسان کی شناخت اس کے کردار، سوچ اور عمل سے نہیں، بلکہ اس بات سے ہوتی ہے کہ وہ کس جماعت کا جھنڈا اٹھائے ہوئے ہے۔

اگر کوئی دھرنے میں نہیں گیا، جلسے میں شریک نہیں ہوا، جلوس میں نعرے نہیں لگائے یا سوشل میڈیا پر ہر وقت اپنی جماعت کے حق میں پوسٹیں نہیں کرتا تو فوراً اس کی سیاسی وفاداری مشکوک قرار دے دی جاتی ہے۔

گروہ بندی کی آڑ میں ہم نے شخصیت پرستی سے پارٹی پرستی تک کا سفر تو بڑی تیزی سے طے کر لیا، مگر اصول پسندی، دلیل، برداشت اور ملکی مفادات کو کہیں پیچھے چھوڑ دیا۔

ہمیں لیڈر کے ہر فیصلے کی حمایت چاہیے، چاہے وہ درست ہو یا غلط۔

ہمیں پارٹی کے ہر مؤقف کا دفاع چاہیے، چاہے وہ اس ملک کے مفاد میں ہو یا اس کے خلاف۔

ہم اختلافِ رائے سننے کے بجائے مخالف کو دشمن سمجھنے لگے ہیں۔

اور سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ اس سیاسی تقسیم میں پاکستان کہیں بہت پیچھے رہ گیا ہے۔

ہم بھول جاتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں ملک کے لیے ہوتی ہیں، ملک سیاسی جماعتوں کے لیے نہیں۔ لیڈر عوام کے نمائندے ہوتے ہیں، عوام کسی لیڈر کی رعایا نہیں۔

جب شخصیت نظریے سے بڑی، پارٹی ملک سے بڑی اور سیاسی وفاداری ملکی وفاداری سے مقدم ہو جائے تو درمیان میں ملک واقعی اُس بچے کی طرح یتیم ہو جاتا ہے جس کے سر سے ماں باپ کا سایہ اٹھ چکا ہو۔ ایسا بچہ کبھی اِس در پر تو کبھی اُس در پر ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہے، مگر اسے اپنانے والا کوئی نہیں ہوتا۔

کچھ ایسی ہی کیفیت آج ہمارے ملک کی بھی دکھائی دیتی ہے، جہاں سیاسی قیادتوں اور جماعتوں کے مفادات کی جنگ میں ملکی مفاد اکثر پسِ پشت چلا جاتا ہے۔

ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ ہماری پہلی وفاداری کس سے ہے؟

کسی شخصیت سے؟

کسی سیاسی جماعت سے؟

یا پاکستان سے؟

اختلاف کیجیے، ضرور کیجیے۔
تنقید کیجیے، ضرور کیجیے۔
اپنی پسند کی جماعت کو ووٹ بھی دیجیے۔

مگر اپنی عقل، ضمیر اور سوچ کسی کے پاس گروی نہ رکھیے۔

کیونکہ جمہوریت میں وفادار شہری وہ نہیں ہوتا جو ہر بات پر ’’واہ! کیا خوب!‘‘ کہے، بلکہ وفادار شہری وہ ہوتا ہے جو غلط کو غلط کہنے اور درست بات کی حمایت کرنے کا حوصلہ رکھتا ہو، چاہے وہ بات اس کی اپنی پسندیدہ جماعت کے خلاف ہی کیوں نہ ہو۔

پارٹیاں بدل سکتی ہیں، قیادتیں بدل سکتی ہیں، سیاسی نعرے بدل سکتے ہیں، مگر ملک کوئی عارضی وابستگی نہیں کہ جب دل چاہا بدل لیا۔

یہی ملک ہماری پہچان، ہماری پہچان کا حوالہ اور ہماری آنے والی نسلوں کی امانت ہے۔

اس لیے سیاست سے پہلے پاکستان کو رکھنا ہوگا، شخصیت سے پہلے اصول کو اور جماعتی وفاداری سے پہلے ملکی مفاد کو اہمیت دینا ہوگی۔

کیونکہ جب ملک سب سے اوپر ہوگا، تبھی سیاست عوام کی خدمت کا ذریعہ بنے گی، ورنہ شخصیت پرستی، پارٹی پرستی اور گروہ بندی کی اس کشمکش میں ملکی مفادات ہمیشہ کچل دیے جایئں گے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button