لوئر چترال پولیس کی مثالی کارکردگی؛ قیادت کا عزم، ٹیم کی محنت اور عوام کے تحفظ کا روشن باب ڈی پی او غازی محمد خالد خان اور ان کی ٹیم کو خراجِ تحسین تحریر: ابوسلمان محمدقاسم

کسی بھی معاشرے کا امن، سکون اور اجتماعی تحفظ محض قانون کی موجودگی سے ممکن نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے ایسی باصلاحیت، فرض شناس، دیانت دار اور بہادر قیادت درکار ہوتی ہے جو قانون کی بالادستی کو اپنا نصب العین، عوام کی خدمت کو اپنا شعار اور جرائم کے خاتمے کو اپنی اولین ترجیح بنائے۔ جب قیادت میں عزم و حوصلہ ہو، ماتحت عملے میں فرض شناسی کا جذبہ ہو اور ادارہ عوامی اعتماد کے حصول کو اپنی کامیابی کا معیار سمجھے تو نتائج خود اپنی گواہی دیتے ہیں۔
لوئر چترال پولیس کی گزشتہ پندرہ روزہ کارکردگی اسی عزم، پیشہ ورانہ مہارت، شبانہ روز محنت اور مؤثر حکمتِ عملی کی ایک قابلِ تحسین مثال ہے۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غازی محمد خالد خان کی زیرِ قیادت لوئر چترال پولیس نے جس منظم انداز میں جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں اور قانون شکنوں کے خلاف کارروائیاں کی ہیں، وہ نہ صرف قابلِ ستائش ہیں بلکہ عوام کے اندر تحفظ، اعتماد اور امید کے احساس کو بھی تقویت بخشتی ہیں۔
پندرہ روزہ رپورٹ کا سب سے نمایاں اور قابلِ تحسین پہلو منشیات کے ناسور کے خلاف بھرپور کارروائی ہے۔ محض پندرہ دنوں میں 43 مبینہ منشیات فروشوں کی گرفتاری اور ان کے قبضے سے 13.895 کلوگرام چرس، 55 گرام افیون، 562 گرام آئس، 20 گرام ہیروئن اور 74 لیٹر دیسی شراب کی برآمدگی معمولی کامیابی نہیں۔ یہ اعدادوشمار اس بات کا اظہار ہیں کہ پولیس نے نوجوان نسل کے مستقبل کو تباہ کرنے والے اس زہر کے خلاف سنجیدہ، مؤثر اور نتیجہ خیز جدوجہد کا آغاز کیا ہے۔ منشیات کے خلاف جنگ دراصل اپنی نسل کے مستقبل، اپنے گھروں کے سکون اور اپنے معاشرے کی بقا کی جنگ ہے۔ اس حوالے سے ڈی پی او غازی محمد خالد خان کا منشیات سے پاک چترال کا عزم یقیناً لائقِ تحسین ہے۔
قابلِ ذکر امر یہ بھی ہے کہ پولیس نے اپنی حکمتِ عملی کو محض گرفتاریوں اور قانونی کارروائیوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ معاشرتی سطح پر عوامی شعور بیدار کرنے اور کمیونٹی کو اس جدوجہد کا حصہ بنانے کی کوشش بھی کی ہے۔ تعلیمی اداروں میں آگاہی نشستیں، مساجد میں عوامی اجتماعات، عمائدین سے رابطے اور کھلی کچہریوں کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ پولیس جرائم کے اسباب اور ان کے تدارک کے لیے ایک وسیع تر سماجی حکمتِ عملی پر بھی کام کر رہی ہے۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو ایک روایتی پولیسنگ نظام کو عوام دوست اور کمیونٹی پولیسنگ کے مؤثر ماڈل میں تبدیل کرتا ہے۔
اسی طرح غیر قانونی اسلحے کے خلاف کارروائی، چوری کے مقدمات میں ملوث ملزمان کی گرفتاری اور تقریباً آٹھ لاکھ ساٹھ ہزار روپے مالیت کی چھ موٹر سائیکلوں کی برآمدگی بھی پولیس کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور جرائم کے تعاقب میں مستعدی کی عکاس ہے۔ بالخصوص دروش کے علاقے شیشی کوہ میں پیش آنے والے اندھے قتل کے مقدمے کا محض 24 گھنٹوں میں سراغ لگانا اور مبینہ طور پر واردات میں ملوث ملزم کی گرفتاری پولیس کی بروقت کارروائی، تفتیشی مہارت اور غیر معمولی پیشہ ورانہ فعالیت کا قابلِ ذکر مظہر ہے۔
ٹریفک نظام کی بہتری، کم عمر موٹر سائیکل سواروں کی حوصلہ شکنی، غیر قانونی رکشوں، لیزر اور فلیش لائٹس کے خلاف کارروائیاں اور آتش بازی کے غیر قانونی استعمال کی روک تھام جیسے اقدامات بھی اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ لوئر چترال پولیس شہریوں کی جان و مال کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ایک منظم، مہذب اور قانون پسند معاشرے کی تشکیل کے لیے بھی کوشاں ہے۔
اس کارکردگی کا ایک روشن پہلو پولیس اور عوام کے درمیان اعتماد کے رشتے کو مضبوط بنانے کی کوششیں ہیں۔ کھلی کچہریوں میں عوامی مسائل سننا، شکایات کے فوری ازالے کے لیے احکامات جاری کرنا، پولیس مددگار اہلکاروں کی تعیناتی اور پولیس سہولت مراکز کی بہتری ایسے اقدامات ہیں جو ادارے کو عوام کے قریب لاتے ہیں۔ زرگراندہ پولیس سہولت مرکز کی تزئین و مرمت اور دروش میں نئے سہولت مرکز کا قیام بھی عوامی خدمت کے اسی جذبے کی عملی صورت ہے۔
پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود، ان کی تجاویز اور مسائل کی سماعت، جنرل پریڈ، فائرنگ پریکٹس اور ٹریفک اہلکاروں کے لیے ریفریشر کورس کا انعقاد بھی اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ایک مضبوط پولیس فورس کی تشکیل کے لیے اہلکاروں کی پیشہ ورانہ تربیت، ذہنی آمادگی اور فلاح و بہبود کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
بلاشبہ کسی بھی ادارے کی کامیابی کسی ایک فرد کی مرہونِ منت نہیں ہوتی، بلکہ یہ قیادت کے وژن، افسران کی معاونت اور میدانِ عمل میں موجود جوانوں کی شبانہ روز محنت کا مشترکہ ثمر ہوتی ہے۔ اس لیے ڈی پی او غازی محمد خالد خان کے ساتھ ساتھ ان تمام افسران، ایس ایچ اوز، تفتیشی عملے، ٹریفک پولیس اور دیگر پولیس جوانوں کی خدمات بھی بھرپور تحسین کی مستحق ہیں جو اپنی ذمہ داریاں پوری دیانت داری، مستعدی، شجاعت اور پیشہ ورانہ وقار کے ساتھ ادا کر رہے ہیں۔
ہم سمجھتے ہیں کہ پولیس کا اصل امتیاز صرف جرائم کی سرکوبی نہیں بلکہ قانون کی یکساں عمل داری، مظلوم کی داد رسی، بے گناہ کے احترام، شہریوں کی عزتِ نفس کے تحفظ اور معاشرے میں احساسِ تحفظ پیدا کرنے میں مضمر ہے۔ شرافت، دیانت، تحمل، بہادری اور بروقت اقدام جب ایک ہی ادارے کی شناخت بن جائیں تو عوام کا اعتماد اس ادارے کی سب سے بڑی طاقت بن جاتا ہے۔
لوئر چترال ایک پرامن، مہمان نواز اور خوب صورت خطہ ہے۔ اس کے امن و امان، سماجی اقدار اور نوجوان نسل کے مستقبل کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ پولیس کی یہ کوششیں اسی وقت مزید بارآور ثابت ہوں گی جب والدین، اساتذہ، علمائے کرام، عمائدین، نوجوان اور تمام مکاتبِ فکر کے افراد بھی منشیات اور جرائم کے خلاف اس جدوجہد میں اپنا کردار ادا کریں گے۔
آخر میں ڈی پی او غازی محمد خالد خان اور ان کی پوری ٹیم کو گزشتہ پندرہ روزہ شاندار کارکردگی پر دل کی گہرائیوں سے مبارک باد اور خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ جذبۂ خدمت، فرض شناسی، دیانت داری اور پیشہ ورانہ مستعدی اسی تسلسل کے ساتھ برقرار رہے گی اور لوئر چترال کو منشیات سے پاک، جرائم سے محفوظ اور امن و امان کا مثالی ضلع بنانے کا خواب شرمندۂ تعبیر ہوگا۔
سلام ہے ان محافظوں کے جذبۂ خدمت کو جو اپنی ذمہ داری کو محض ملازمت نہیں بلکہ ایک مقدس قومی فریضہ سمجھ کر ادا کرتے ہیں۔
اللہ تعالیٰ لوئر چترال پولیس کو عوام کی جان و مال کے تحفظ، قانون کی بالادستی اور امن و امان کے قیام کے لیے مزید استقامت، دیانت اور کامیابی عطا فرمائے۔ آمین۔


