شعروشاعری

کیا کریں؟….ڈاکٹر شاکرہ نندنی

لوگ ہیں سب حیران، کیا کریں؟ گم صم ہیں بھگوان، کیا کریں؟ چاروں جانب لڑائی ہے جاری سج گیا جنگ کا میدان، کیا کریں؟ روشنی کو اب کیسے روکیں کھلا ہے روشن دان، کیا کریں؟ جس میں کتابِ حق رکھی تھی گُم ہے وہ جُزدان، کیا کریں؟ ہجرت کر گئے سارے کھلاڑی خالی ہے میدان، کیا کریں؟ بیچ آنگن دیوار …

Read More »

کلام……………..دین محمد ندیم

ہنون تہ فراق مت غم بیتی شیر الفتوروشت دنیا مت شام بیتی شیر شکر شومان محفلدار غیژی آسوم زیدانو گوچہ مت آرام بیتی شیر وانون گلشناری بیری تھورنی دی خور گلہ وامو کو کی گلفام بیتی شیر ہرای خاشیو سوم وا زوخ مہ ہوستہ زندگی ہے قسمہ تمام بیتی شیر غذار دی پروشٹی لاکھی آچی غیستی ہر ای تدبیر دی …

Read More »

اظہار تشکر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عنایت علی شاہ اور فیملی برشگڑام

  ہم اپنے اوراپنی فیملی کی طرف سے ان تمام عزیز ، اقارب، رشتہ داروں،دوستوں، سیاسی و سماجی شخصیات سمیت اہل علاقہ بھائیوں اور بزرگوں کے بے حد مشکور ہیں جنھوں نے میرے چچا محترم کی وفات کے موقع پر فاتحہ خوانی میں شرکت کٸے یا بذریعہ فون کال سوشل میڈیا ان کے وفات پر تعزیت کی اور ان کے …

Read More »

راز…….ڈاکٹر شاکرہ نندنی

    میں نے اس بھوکے آدمی کو پیٹ بھـر کر کھانا کھلایا اور یونہـی پوچھ لیا۔ بھائـی تمہارا نام کیا ہے؟ تم کس خُدا کی بندگی کرتے ہو؟ تمہارا مذہب کون سا ہے؟   اِس پر اُس کا جواب تھا۔ آج سے تم مجھے جو نام دو گی وہی میرا نام ہوگا۔ میرے خدا تم ہو، صرف تم اور …

Read More »

پوچھا جو میں نے اِک دن خُدا سے

  ڈاکٹر شاکرہ نندن پوچھا جو میں نے اِک دن خُدا سے اندر میرے یہ کیسا شور ہے ہنسا مُجھ پر خُدا، پھر بولا چاہتیں تیری کُچھ اور تھیں تیرا راستہ کُچھ اور ہے سیرت کا پاسباں تھا توُ صورت پر تیرا زور ہے آسمان، چاند و تارے آرزو تھی تیری بند دیواروں کی قید پر زور ہے خواب تھے …

Read More »

کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی۔۔۔ڈاکٹر شاکرہ نندنی

  کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی پڑھ  سکتی مستقبل اپنا بُن سکتی میٹھا سپنا کب خوشی ملے گی کب دل روئے گا زندگی کا کھیل سمجھ پاتی کاش زندگی کوئی کتاب ہوتی   پھاڑ سکتی میں ان لمحوں کو جس نے مجھے رلایا شامل کرتی وہ صفحے جنہوں نے مجھے ہنسایا کتنا کھویا، کتنا پایا محاسبہ کر پاتی کاش زندگی …

Read More »

اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے…….نیلما ناہید درانی

اداس لوگوں سے پیار کرنا کوئی تو سیکھے سفید لمحوں میں رنگ بھرنا کوئی تو سیکھے کوئی تو آئے خزاں میں پتے اگانے والا گلوں کی خوشبو کو قید کرنا کوئی تو سیکھے کوئی دکھائے محبتوں کے سراب مجھ کو مری نگاہوں سے بات کرنا کوئی تو سیکھے کوئی تو آئے نئی رتوں کا پیام لے کر اندھیری راتوں میں …

Read More »

نظم( جنت چھترار)  ……تحریر: فدامحمد فدا

  مہ  جنت  چھترار  تو  کیچہ  شیلی نو   بونی    الیکو   تہ سار  اویری سف  بوسون  بیتی  شیر پھار ہیری عقل  دی   حیران  ہنون   بیتی   شیر باغ    بہاران    ہنون    بیتی     شیر مست کورونیان دی گمبوریان  ووری گلستانہ  بیکو  بو  قسمہ  دی شینی نامے  نو بویان ہر نامہ  دی  شینی کورا  گل  مرگست  کورا   چنبیلی مہ  جنت  چھترار  دی  شیکا  پرائی پوشی …

Read More »

درندہ……..ڈاکٹر شاکرہ نندنی

    وہ ایک درندہ تھا – انسان کے روپ میں ایک بھیڑیا – اپنے دوست کی جس چھ سالہ بیٹی پر اس کی بری نظر تھی وہ اس کی بیٹیوں سے بھی کہیں چھوٹی ہوتی اگر وقت پر اس نے شادی کر لی ہوتی – اس کو وہ بہلا پُھسلا پر جس پارک میں لے آیا تھا وہ گرمیوں …

Read More »

اپاہج……. ڈاکٹر شاکرہ نندنی

اپاہج   کون چاہے گا کون اپنائے گا مجھ اپاہج کو جو اپنا بوجھ بھی اٹھانے کے قابل اب نہیں رہا جو بیساکھی کے سہارے بھی چل نہیں سکتا جس کی زندگی وہیل چئیر تک محدود ہو کر رہ گئی ہے بھول جائیں امی اب آپ کا بیٹا کبھی نارمل زندگی نہیں گزار سکتا کبھی بھی نہیں وہ سسک رہا …

Read More »