55

گرم چشمہ سے تعلق رکھنے والی حسینہ گل نے فی الحال اپنے قریبی رشتہ دار کیساتھ رہنے کا فیصلہ کیا

چترال(نامہ نگار)7دسمبر کو پی آئی اے طیارہ کے حادثے میں مرزا گل کے گھرانے کے چھ افراد جان بحق ہو گئے اور مرزا گل کی واحد بیٹی حسینہ گل بچ گئی ہے جو کہ حادثے کے وقت اپنے گھر پر تھی۔ حالیہ دنوں میں حسینہ گل کی کفالت کے حوالے سے میڈیا میں مختلف قسم کی خبریں آنے کے بعد حکومتی مشینری بھی حرکت میں آگئی ہے۔ اتوار کے روز گرم چشمہ سے تعلق رکھنے والی اپنے خاندان کی واحد فرد حسینہ گل کی کفالت کی بابت ڈپٹی کمشنر آفس میں ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈپٹی کمشنر،پی آئی اے کے ڈائریکٹر کسٹمرز ریلیشنز تبسم اے قادر،ڈی پی او،چائلڈ پروٹیکشن آفیسر سمیت انتظامیہ کے افسران موجود تھے۔ معلوم ہوا ہے کہ حسینہ گل اپنے والد کے چچا زاد بھائی شیر افضل کے ہمراہ اس اجلاس میں آئی ہوئی تھی۔اجلاس میں پی آئی اے کے ڈائریکٹر نے بتایا کہ وزیر اعظم کی ہدایت کے مطابق وہ حسینہ گل کو لیکر اسلام آباد جانے کیلئے موجود ہیں تاہم اس سلسلے میں حسینہ گل کی خواہش کو مدنظر رکھا جائیگا۔اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ اسسٹنٹ کمشنر رخسانہ جبین نے علیحدگی میں حسینہ گل سے بات چیت کی توانہوں نے کہا کہ وہ فی الحال چترال میں ہی رہنا پسند کرینگی۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حسینہ گل نے اپنی رضامندی کے حوالے سے تحریری طور پر بھی ضلعی انتظامیہ کو آگاہ کردی ہے۔چترال پوسٹ سے گفتگو کرتے ہوئے پی آئی اے کے ڈسٹرکٹ منیجر محمد زاہدین زاہد نے بتایا کہ حسینہ گل کی طرف سے فی الحال اپنی رضامندی سے چترال میں رہنے کے فیصلے کے بعد پی آئی اے کے ڈائریکٹر تبسم اے قادر واپس اسلام آباد چلی گئی ۔ بچوں کے تحفظ کے سلسلے میں کام کرنیوالے سرکاری ادارے چائلڈ پروٹیکشن یونٹ چترال کے آفیسر عمیرعلی شاہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا انکے ادارے کی طرف سے اس اجلاس کو بتایا گیا کہ چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ایسے صورتوں میں بچی کو سیشن جج کی عدالت میں پیش کیا جا نا ضروری ہے اور وہیں سے اس بابت کوئی فیصلہ آئے گا جوکہ حتمی ہو گا۔بعدا زاں چائلڈ پروٹیکشن آفیسر اور مقامی پولیس کے ہمراہ حسینہ گل سیشن جج کی عدالت میں پیش کیا گیا اور سیشن جج کی طرف سے یہ کیس سنیئر سول جج چترال کو مارک کیا گیا ۔ سنیئر سول جج کی عدالت میں حسینہ گل نے فی الحال اپنی رضامندی سے اپنے والد کے چچا زاد بھائی شیر افضل کے ہاں رہنے کی بات کی جس پر عدالت نے انہیں آبائی علاقے گرم چشمہ میں اپنے والد کے چچا زاد بھائی کے ہمراہ رہنے کی اجازت دی۔ چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کا کہنا تھا کہ اس وقت حسینہ گل کی درست نہیں کیونکہ شدید صدمے اور گذشتہ دنوں ایکسیڈنٹ کی وجہ سے انکی حالت ایسی نہیں ہے کہ وہ کسی سے بات کر سکے ۔ انہوں نے کہا کہ آج چترال میں انکا تفصیلی طبی معائنہ بھی کرایا گیا اور ڈاکٹروں نے سختی سے ہدایت کی ہے کہ حسینہ گل کو مکمل آرام کی ضرورت ہے تاکہ وہ صدمے کی اس حالت سے باہر آسکے۔ چائلڈ پروٹیکشن آفیسر کا مزید کہنا تھا کہ انکا ادارہ حسینہ گل کے ساتھ مکمل رابطے میں رہے گا اور اس بابت رپورٹ عدالت میں بھی جمع کرائی جائیگی۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ پیر کے روز حسینہ گل کے چچا شیر افضل عدالت میں آکر بیان حلفی بھی جمع کرائینگے۔

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں