118

کریم آباد یو۔ سی حقیقت کی نظر میں۔۔محمد علی شاہ ۔ ممبر تحصیل کونسل کریم آباد یونین کونسل

کریم آباد یو۔ سی حقیقت کی نظر میں۔۔محمد علی شاہ ۔ ممبر تحصیل کونسل کریم آباد یونین کونسل
کریم آباد ضلع چترال کے تحصیل لٹکوہ کی تین یونین کونسلوں میں سے ایک یو ۔سی ہے۔ جس کی آبادی 20,000ہے۔ سطح سمندر سے 9000 فٹ بلندی پر ہونے کی وجہ سے سات مہنے انتہائی سخت سرد اور برف سے ڈھکہ رہتا ہے۔ سردیوں میں درجہ حرارت نقطہ انجماد سے 15 ڈگری گرتاہے اور گرمیوں میں ذیادہ سے ذیادہ درجہ حرارت 25 ڈگری تک چلا جاتاہے ۔وادی کے چاروں اطراف کوہ ہندو کش کے اونچے اونچے پہاڑ سر اٹھائے کھڑے ہیں، پہاڑوں سے گرنے والی ابشاریں، صاف شفاف پانی کی ندیاں اور وادی کی ہریالی گرمیوں کے موسم میں ایک دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں جو کہ ٹو ریزم کے لیے انتہائی پر کشش ہیں۔
وادی کریم آباد چھ کلسٹرز پر مشتمل ہے اور ۵ سے ۷ دیہات ہر کلسٹر کے ممبر ہیں۔ کریم آباد کے لوگ انتہائی محنتی ، مخلص اور محب وطن ہیں یہاں کے لوگوں کا پیسشہ ذیادہ تر زرا عت سے وابسطہ ہے وادی میں الو، مٹر، ٹماٹر، گندم ، جو ، مکئی کے علاوہ میوہ دار درختوں جن میں، شہتوت ، سیب ، خوبانی ، اڑو، اخروٹ ، نشپاتی، چری ، انجیر، انار ، ا نگور، کثرت سے پائے جاتے ہیں
وادی میں پرائیوٹ، کمیونٹی اور لڑکیوں کے لئے سکولز اور کالجز ہیں جو علاقے کی لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت اور AKESکے تعاوں سے تعمیر کر چکے ہیں اس کے علاوہ گورنمٹ کی طرف سے ایک ہائی سکول اور مختلف دیہات میں چند پرئمری سکولوں کے علاوہ کوئی خطر خواہ تعلیمی سہولیات موجود نہیں ہیں۔صحت کے حوالے یہاں پر ایکBHUتک موجود نہیں اس لیے ناگہانی بیماری کی صورت میں لوگ 50کلومیٹر کا انتہائی خطر ناک سفر طے کرکے چترال ٹاوں تک آنے پر مجبور ہوتے ہیں۔بعض اوقات لوگ ہسپتال پہنچتے پہنچتے اپنی جانیں بھی گنوا دیتے ہیں۔
سڑک کی حالت انتہائی خطرناک ہے۔ یہ سڑک سن1984ء میں علاقے کی عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک غیر سرکاری ادارےAKRSPکے تعاوں سے تعمیر کر چکے ہیں 2007 اور 2010 ء میں برف باری اور سیلاب کی وجہ سے سڑک کی حالت انتہائی خراب ہو چکا تھا ۔تاہم ابھی تک یہ روڈ حکومت کے عدم توجہ کا شکار رہاہے چونکہ لوگ بہت محنتی اور مخلص ہیں اس لیے سڑک عام سامان کی مدد سے رضاکارانہ طور پر صرف ضرورت رفہ دفہ کرنے کے خاطر کھول چکے ہیں۔ سڑک انتہائی خطرناک طریقے سے پہاڑی کھائی سے ہوتا ہوا منزل تک پہنچتے ہیں۔ جس کی وجہ سے اس سڑک پراب تک 107سے ذیادہ لوگ اپنی جانیں کھو چکے ہیں کریم آباد وادی کو چترال سے ملانے ولے دو اہم پل 2010ء میں ندی میں تغیانی کی وجہ سے بہہ چکے تھے کو لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت دوبارہ تعمیر کیے تھے۔
2014ء میں علاقے کی عوام نے مجبورا سڑکوں میں آکر اپنا احتجاج ریکارڈ کروائے تھے کہ حکومت ان کا سب سے بڑا اور اہم مسلے کو فوری طور پر سی ا ینڈڈبلیو کو حوالہ کرکے روڈ کی توسیع و مرمت پر توجہ دے ۔ لیکن ابھی تک حکومت کی طرف سے عوام کے اس جائز مطالبہ پر کسی طرح توجہ نہ ہوسکا۔اس کے علاوہ پن بجلی، آبپاشی کی نہریں، پینے کے پائپ لائنیں بھی عوام نے اپنی مدد آپ کے تحت تعمیر کر چکے ہیں جو کہ ہماری حکومت کی زمہ داری ہیں اور انسانی حقوق کے زمرے میں آتے ہیں۔

حالیہ بارشوں اور سیلاب کا سلسلہ جس طرح پورے ضلع چترال کو اپنے لپیٹ میں لے رکھا ہے اسی طرح کریم آباد بھی متاثر ہوا ہے۔ علاقے کے تما م رابطہ پل اور سڑکیں سیلاب میں بہہ چکے ہیں جس کی وجہ سے عوام کو مسائل کا سامنا ہے۔ ، سیلاب سے نہ صرف پل اور سڑکیں خراب ہو چکے ہیں بلکہ آبپاشی کے نہریں، پن بجلی کی نہریں، میوہ جات، کھیتوں میں کھڑی فصلیں متاثر ہوئی ہیں ۔ لوگوں کی معشیت کا انحصار چونکہ مٹر اور ٹماٹر کی کاشت پر ہے، مسلسل بارش اور تغیانی کی وجہ سے متاثر ہوئی ہیں۔ زمینوں میں کھڑی مٹر کی فصلیں تیار ہونے کو تھی کہ ناگہانی آفت آن پڑی اور سڑکوں کی خرابی کی وجہ سے مارکیٹ تک پہنچایا نہیں جا سکا ہے۔ غریب کسانوں نے دی فرسٹ مائکرو فینانس بنکوں سے قرضے لے کر مٹر الو اور ٹماٹر کی کاشت کی تھیں جو کہ بارشوں کی نظر ہوئی ہیں۔ اب چونکہ جو باقی مندہ فصلیں کھیتوں میں کھڑی ہیں نہروں کی تباہی کی وجہ سے پانی کی قلت کا شکار ہوئی ہیں اوران فصلوں کے سوکھ جانے کا خطرہ لاحق ہو چکا ہے۔
جناب وزیر اعظم پاکستان، وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوہ، سر براہ پاکستان تحریک انصاف جناب عمران خان صاحب اور امیر مقام نے چترال کا دورہ کرکے ہمارے ساتھ انتہائی دلی ہمدردی کا اظہار کیے ہیں جس کے لیے ہم ان تمام رہنماؤں کے تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔ جناب وزیر اعظم صاحب اور وزیر اعلیٰ صاحب نے کروڑوں روپوں کا اعلان کرکے چترالیوں پر احسان کیے ہیں اور ساتھ وزیر اعظم پاکستان کی طرف سے زرعی بنکوں کی قرضہ جات کی معافی چترال کے لیے ایک بڑا اقدام ہے ۔ تا ہم چترال کے بالائی علاقوں کے رہنے والے لوگوں کے لیے اس ریلیف سے کوئی خاطر خواہ حوصلہ افزائی نہیں ملی ہے کیوں کہ متاثر ہ اکثر غریب عوام دی فرسٹ مائیکرو فینانس بنکوں کے قرض دار ہیں۔ان لوگوں کی رسائی زرعی بنک یا دوسرے بنکوں تک نہیں ہوتا ہے کیوں کہ ان بنکوں تک رسائی کے لیے یا تو سفارش کی ضرورت ہے یا جان پہچان کی بنیاد پر قرضہ لینا پڑتا ہے ورنہ ایک غریب آدمی کی بس کی بات نہیں کہ وہ کسی ایسی بنک سے قرضہ لے سکے جس کا فائدہ براہراست اس غریب شخص کو ملتا ہو۔اکثر چترال کے بالائی علاقوں کی عوام جس میں، گرم چشمہ ، آرکاری اور کریم آباد کے یونیں کونسل کے لوگ ہیں بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہیں
جناب وزیر اعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف صاحب، وزیر اعلی کے۔پی۔کے جناب پرویز خٹک صاحب ، جناب عمران خان صاحب اور تمام حکام بالا سے پر زور اپیل کرتے ہیں کہ عوام سے دلی ہمدردی کا مظاہر کرتے ہوئے دی فرسٹ مائیکرو فینانس سے لیے گئے قرضہ جات کی معافی کا اعلان کر کے مملکت خداداد کے عظیم رہنماؤں کا ثبوت دیں اور غریب عوام کو اس مصیبت سے نجات دلاکر ان کی دعائیں حاصل کریں۔ اس کے ساتھ شعور پل، حسن آباد پل اور کریم آباد روڈ کی جلد بحالی کے لیے خصوصی فنڈ کا اجراء کرکے کام جلد شروغ کرنے کی ہدایت کریں
شکریہ

Print Friendly, PDF & Email

اپنا تبصرہ بھیجیں